LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل، پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ بلوچستان گرینڈ الائنس کا مطالبات کے حق میں اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کا مقام تبدیل ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا، ابراہیم عزیزی سندھ اور بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا

پھلیاں پکانے سے پہلے پانی میں بھگونا ضروری ؟

Web Desk

25 November 2025

پھلیاں اور دیگر دالیں باقاعدگی سیکھانے سے موٹاپے، ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور کچھ قسم کے کینسر چمٹنے کا خطرہ کم کرنا ممکن ہے۔ خشک پھلیاں بھگونے کا ایک اہم فائدہ ان کی پکائی کا وقت کم ہونا ہے ۔ تحقیق کے مطابق یہ وقت اکثر 20 سے 38 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

بھگونے سے ان کی ساخت بھی بہتر ہوتی ہے۔ خشک پھلیوں میں 12 سے 14 فیصد تک نمی ہوتی ہے۔ جب آپ انہیں پانی میں بھگوتے ہیں، تو ان کا حجم دوگنا ہو جاتا ہے اور زیادہ نمی کی مقدار انہیں نرم بنا دیتی ہے۔ پھلیوں کے بیج کی تہہ کی موٹائی بتاتی ہے کہ وہ پانی کتنی تیزی سے جذب کرتی ہیں۔

یاد رکھیں، اگر پھلیاں سخت (Hard)پانی میں بھگوئی جائیں جس میں معدنیات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، تو ان کے نرم ہونے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ سخت پانی میں کیلشیم اور میگنیشیم جیسے معدنیات انھیں نرم کرنے میں مشکل پیدا کرتے ہیں۔یہ مسئلہ دور کرنے کے لیے ڈسٹلڈ پانی استعمال کیجیے یا پانی میں تھوڑا سا نمک یا بیکنگ سوڈا ڈال دیجیے۔

خشک پھلیوں کو بھگونا انہیں ہضم کرنے میں بھی آسان بناتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پھلیوں میں ایک قسم کا غیر ہضم شدہ کاربوہائیڈریٹ ’’اولیگوساکرائیڈز‘‘ (oligosaccharides) ہوتا ہے جو گیس اور اپھارے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہمارا جسم اولیگوساکرائیڈز توڑنے کے لیے انزائمز نہیں رکھتا۔جب خشک پھلیوں کو بھگویا جائے، تو کچھ اولیگوساکرائیڈز پانی میں آ جاتے ہیں۔

اسی طرح پھلیوں کو بھگونے سے ان میں لیکٹنز (Lectins)جو ایک قسم کا نباتی پروٹین ہے اور فائیٹیٹس (phytates) جو پودوں کے بیجوں میں پایا جانے والا فاسفورس کا اہم روپ ہے، کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ لیکٹنز اور فائیٹیٹس کو “اینٹی نیوٹریئنٹس” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ فولاد اور زنک کے جذب ہونے میں رکاوٹ ڈالتے اور متلی اور معدے کی تکلیف پیدا کرتے ہیں۔خشک پھلیوں کی خوبصورتی یہ ہے کہ ان کی شیلف لائف بہت طویل ہوتی ہے۔تاہم انھیں خریدنے کے بعد ایک دو سال کے اندر استعمال کرنی چاہئیں۔ اس کے بعد ان کی کوالٹی کم ہو جاتی ہے۔

پھلیاں بھگونے کے مختلف طریقے ہیں۔ ہر طریقے میں پہلا قدم یہ ہے کہ پھلیوں کو ٹھنڈے پانی سے دھو کر صاف کر لیا جائے تاکہ کنکریاں، ٹہنیاں، اور پتیاں نکال دی جائیں۔رات بھر بھگونے کا طریقے میں پانی اور پھلیاں برتن میں ڈال کر پھلیوں کے اوپر دو انچ اضافی پانی ڈالتے اور اسے آٹھ سے بارہ گھنٹے فریج یا کھلی جگہ رکھتے ہیں۔