LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایکس کی بڑی پیشکش : صرف اسکرولنگ سے ہزاروں ڈالر کمائیں پاکستان میں زیر تعلیم 38 فلسطینی طلبہ نے بی ڈی ایس کی ڈگری مکمل کر لی حیدرآباد میں تیزگام ایکسپریس کی ایک بوگی پٹڑی سے اتر گئی، ٹریک متاثر اسحاق ڈار سے اردنی وزیر خارجہ کا رابطہ، غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کویت کے وزیر خارجہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے واشنگٹن میں نیتن یاہو کی آمد پر احتجاج، مظاہرین نے گرفتاری کا مطالبہ کر دیا پٹرول 1 روپے 63 پیسے، ڈیزل 1 روپے 55 پیسے فی لٹر مہنگا پُرتشدد جتھے کے عزائم ناکام بنا دیئے، کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچنے دینگے: عطا تارڑ ایران کی منجمد اثاثے حاصل کرنیوالے ممالک، کمپنیوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان نیتن یاہو جنگ میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ لیگی قیادت کی تنقید پر شیری رحمان کا سخت ردعمل، انتخابی دھاندلی کے الزامات دہرا دیے آزاد کشمیر احتجاج کے پیچھے بھارتی سپانسرڈ لوگ ہیں: خواجہ آصف این ڈی ایم اے کی رپورٹ: ملک بھر میں مون سون بارشوں سے 109 افراد جاں بحق، 362 زخمی بھارت میں موسلادھار بارشوں نے تباہی مچا دی، کئی علاقے زیرِآب، 10افراد ہلاک سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت پر شدید تنقید، معاشی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے

پھلیاں پکانے سے پہلے پانی میں بھگونا ضروری ؟

Web Desk

25 November 2025

پھلیاں اور دیگر دالیں باقاعدگی سیکھانے سے موٹاپے، ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور کچھ قسم کے کینسر چمٹنے کا خطرہ کم کرنا ممکن ہے۔ خشک پھلیاں بھگونے کا ایک اہم فائدہ ان کی پکائی کا وقت کم ہونا ہے ۔ تحقیق کے مطابق یہ وقت اکثر 20 سے 38 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

بھگونے سے ان کی ساخت بھی بہتر ہوتی ہے۔ خشک پھلیوں میں 12 سے 14 فیصد تک نمی ہوتی ہے۔ جب آپ انہیں پانی میں بھگوتے ہیں، تو ان کا حجم دوگنا ہو جاتا ہے اور زیادہ نمی کی مقدار انہیں نرم بنا دیتی ہے۔ پھلیوں کے بیج کی تہہ کی موٹائی بتاتی ہے کہ وہ پانی کتنی تیزی سے جذب کرتی ہیں۔

یاد رکھیں، اگر پھلیاں سخت (Hard)پانی میں بھگوئی جائیں جس میں معدنیات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، تو ان کے نرم ہونے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ سخت پانی میں کیلشیم اور میگنیشیم جیسے معدنیات انھیں نرم کرنے میں مشکل پیدا کرتے ہیں۔یہ مسئلہ دور کرنے کے لیے ڈسٹلڈ پانی استعمال کیجیے یا پانی میں تھوڑا سا نمک یا بیکنگ سوڈا ڈال دیجیے۔

خشک پھلیوں کو بھگونا انہیں ہضم کرنے میں بھی آسان بناتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پھلیوں میں ایک قسم کا غیر ہضم شدہ کاربوہائیڈریٹ ’’اولیگوساکرائیڈز‘‘ (oligosaccharides) ہوتا ہے جو گیس اور اپھارے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہمارا جسم اولیگوساکرائیڈز توڑنے کے لیے انزائمز نہیں رکھتا۔جب خشک پھلیوں کو بھگویا جائے، تو کچھ اولیگوساکرائیڈز پانی میں آ جاتے ہیں۔

اسی طرح پھلیوں کو بھگونے سے ان میں لیکٹنز (Lectins)جو ایک قسم کا نباتی پروٹین ہے اور فائیٹیٹس (phytates) جو پودوں کے بیجوں میں پایا جانے والا فاسفورس کا اہم روپ ہے، کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ لیکٹنز اور فائیٹیٹس کو “اینٹی نیوٹریئنٹس” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ فولاد اور زنک کے جذب ہونے میں رکاوٹ ڈالتے اور متلی اور معدے کی تکلیف پیدا کرتے ہیں۔خشک پھلیوں کی خوبصورتی یہ ہے کہ ان کی شیلف لائف بہت طویل ہوتی ہے۔تاہم انھیں خریدنے کے بعد ایک دو سال کے اندر استعمال کرنی چاہئیں۔ اس کے بعد ان کی کوالٹی کم ہو جاتی ہے۔

پھلیاں بھگونے کے مختلف طریقے ہیں۔ ہر طریقے میں پہلا قدم یہ ہے کہ پھلیوں کو ٹھنڈے پانی سے دھو کر صاف کر لیا جائے تاکہ کنکریاں، ٹہنیاں، اور پتیاں نکال دی جائیں۔رات بھر بھگونے کا طریقے میں پانی اور پھلیاں برتن میں ڈال کر پھلیوں کے اوپر دو انچ اضافی پانی ڈالتے اور اسے آٹھ سے بارہ گھنٹے فریج یا کھلی جگہ رکھتے ہیں۔