LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

وزن اٹھانا انسانوں کیلئے کتنا مفید ہے؟

Web Desk

16 June 2026

ایک نئی طبی تحقیق میں یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ ویٹ ٹریننگ (وزن اٹھانا) اور مزاحمتی ورزشیں (ریزسٹنس ٹریننگ) انسان کی عمر بڑھانے، مجموعی صحت کو بہتر بنانے اور قبل از وقت موت کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کرنے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تزویراتی تحقیق میں امریکا کے 1 لاکھ 47 ہزار سے زائد بالغ افراد کے طویل المدتی اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ یہ اہم معلومات اور ڈیٹا تین بڑے قومی طبی مطالعات سے حاصل کی گئیں جو مجموعی طور پر تقریباً 30 سال کے طویل عرصے تک جاری رہے۔ اس طویل تحقیقی مہم کے دوران 35 ہزار سے زائد شرکا قدرتی یا طبی وجوہات کی بنا پر انتقال کر گئے، جس کے باعث سائنس دانوں کو مختلف طرزِ زندگی، ورزش کی عادات اور صحت کے حتمی نتائج کا گہرائی سے موازنہ کرنے کا ایک بہترین موقع ملا۔

تحقیق کے دوران شرکا نے باقاعدگی سے اپنا ڈیٹا فراہم کیا کہ وہ ہر ہفتے کتنی دیر مزاحمتی ورزشیں کرتے ہیں، جن میں فری ویٹ لفٹنگ، جدید جم کی مشینوں کے ذریعے کی جانے والی ورزشیں اور پٹھوں کی طاقت بڑھانے والی دیگر جسمانی سرگرمیاں شامل تھیں۔ اس ڈیٹا کے ساتھ ساتھ محققین نے پیدل چلنے، سائیکل چلانے، جاگنگ اور تیراکی (سوئمنگ) جیسی روایتی ایروبک ورزشوں کا تفصیلی ریکارڈ بھی حاصل کیا۔ بعد ازاں، ماہرینِ صحت نے ورزش کی ان مختلف عادات کا موازنہ دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی بڑی وجوہات سے کیا، جن میں دل کے جان لیوا امراض، کینسر، فالج، سانس کی دائمی بیماریوں اور اعصابی امراض (جیسے الزائمر) سے ہونے والی اموات شامل تھیں۔

طبی تجزیے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد ہر ہفتے معتدل مقدار میں بھی مزاحمتی ورزشیں کرتے ہیں، ان میں کسی بھی مرض کے باعث ہونے والی موت کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں واضح طور پر کم تھا۔ سب سے حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ ورزش کا یہ بے پناہ فائدہ عمر، تمباکو نوشی کی عادت، روزمرہ خوراک، الکحل کے استعمال، خاندانی طبی تاریخ (جینٹکس) اور دیگر عام جسمانی سرگرمیوں جیسے تمام عوامل اور فرق کو مدنظر رکھنے اور ان کا اثر نکالنے کے بعد بھی مکمل طور پر برقرار رہا۔ سائنسی ماہرین کے مطابق، یہ جامع تحقیق اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کرتی ہے کہ پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزشیں صرف ظاہری جسمانی طاقت یا خوبصورتی میں اضافہ نہیں کرتیں، بلکہ خلیاتی سطح پر مجموعی مدافعتی نظام کو بہتر بنا کر انسانی زندگی کو طویل، صحت مند اور قبل از وقت اموات سے محفوظ بنا سکتی ہیں۔