LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری تاجر دوست آسان ٹیکس سکیم، رجسٹریشن کیلئے ایف بی آر کو اہداف مقرر مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ

وزن اٹھانا انسانوں کیلئے کتنا مفید ہے؟

Web Desk

16 June 2026

ایک نئی طبی تحقیق میں یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ ویٹ ٹریننگ (وزن اٹھانا) اور مزاحمتی ورزشیں (ریزسٹنس ٹریننگ) انسان کی عمر بڑھانے، مجموعی صحت کو بہتر بنانے اور قبل از وقت موت کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کرنے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تزویراتی تحقیق میں امریکا کے 1 لاکھ 47 ہزار سے زائد بالغ افراد کے طویل المدتی اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ یہ اہم معلومات اور ڈیٹا تین بڑے قومی طبی مطالعات سے حاصل کی گئیں جو مجموعی طور پر تقریباً 30 سال کے طویل عرصے تک جاری رہے۔ اس طویل تحقیقی مہم کے دوران 35 ہزار سے زائد شرکا قدرتی یا طبی وجوہات کی بنا پر انتقال کر گئے، جس کے باعث سائنس دانوں کو مختلف طرزِ زندگی، ورزش کی عادات اور صحت کے حتمی نتائج کا گہرائی سے موازنہ کرنے کا ایک بہترین موقع ملا۔

تحقیق کے دوران شرکا نے باقاعدگی سے اپنا ڈیٹا فراہم کیا کہ وہ ہر ہفتے کتنی دیر مزاحمتی ورزشیں کرتے ہیں، جن میں فری ویٹ لفٹنگ، جدید جم کی مشینوں کے ذریعے کی جانے والی ورزشیں اور پٹھوں کی طاقت بڑھانے والی دیگر جسمانی سرگرمیاں شامل تھیں۔ اس ڈیٹا کے ساتھ ساتھ محققین نے پیدل چلنے، سائیکل چلانے، جاگنگ اور تیراکی (سوئمنگ) جیسی روایتی ایروبک ورزشوں کا تفصیلی ریکارڈ بھی حاصل کیا۔ بعد ازاں، ماہرینِ صحت نے ورزش کی ان مختلف عادات کا موازنہ دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی بڑی وجوہات سے کیا، جن میں دل کے جان لیوا امراض، کینسر، فالج، سانس کی دائمی بیماریوں اور اعصابی امراض (جیسے الزائمر) سے ہونے والی اموات شامل تھیں۔

طبی تجزیے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد ہر ہفتے معتدل مقدار میں بھی مزاحمتی ورزشیں کرتے ہیں، ان میں کسی بھی مرض کے باعث ہونے والی موت کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں واضح طور پر کم تھا۔ سب سے حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ ورزش کا یہ بے پناہ فائدہ عمر، تمباکو نوشی کی عادت، روزمرہ خوراک، الکحل کے استعمال، خاندانی طبی تاریخ (جینٹکس) اور دیگر عام جسمانی سرگرمیوں جیسے تمام عوامل اور فرق کو مدنظر رکھنے اور ان کا اثر نکالنے کے بعد بھی مکمل طور پر برقرار رہا۔ سائنسی ماہرین کے مطابق، یہ جامع تحقیق اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کرتی ہے کہ پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزشیں صرف ظاہری جسمانی طاقت یا خوبصورتی میں اضافہ نہیں کرتیں، بلکہ خلیاتی سطح پر مجموعی مدافعتی نظام کو بہتر بنا کر انسانی زندگی کو طویل، صحت مند اور قبل از وقت اموات سے محفوظ بنا سکتی ہیں۔