LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں

امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار

Web Desk

17 June 2026

عالمی امن کے دشمن اسرائیل کو ایک اور بڑی سفارتی اور تزویراتی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں امریکہ نے اپنے دیرینہ اتحادی اسرائیل کی جانب سے ایران معاہدے کی حساس تفصیلات تک رسائی حاصل کرنے کی باضابطہ درخواست کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، تل ابیب حکومت نے امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی حالیہ تاریخی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے مسودے اور دستاویزات تک رسائی کی ایک باضابطہ سفارتی درخواست امریکی انتظامیہ کو ارسال کی تھی، جسے واشنگٹن نے صاف انکار کرتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے اسے خالصتاً قومی سلامتی کا انتہائی حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کو اس معاہدے کے خدوخال دکھانے سے معذرت کر لی ہے۔ اس غیر متوقع انکار پر اسرائیلی حکام نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی فیصلے کو انتہائی حیران کن اور مایوس کن قرار دیا ہے۔

دوسری جانب، ایران اور امریکہ کے مابین طے پانے والے اس تاریخی 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی انتہائی اہم اور تزویراتی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس مسودے کے تحت درج ذیل اہم نکات پر اتفاق کیا گیا ہے:

  • ناکہ بندی کا خاتمہ: خطے میں قائم امریکی بحری ناکہ بندی کو معاہدے پر دستخط کے بعد 30 دن کے اندر مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

  • پابندیوں کی معطلی: ایران کے خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی عالمی برآمدات پر عائد تمام معاشی پابندیاں فوری طور پر معطل کر دی جائیں گی۔

  • جنگ بندی کا نفاذ: لبنان سمیت مشرقِ وسطیٰ کے تمام فعال محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے گا۔

  • تعمیرِ نو کے فنڈز: مسودے کے تحت امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی ممالک ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی استحکام کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کا بھاری فنڈ فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

  • دفاعی پروگرام کا تحفظ: اس حتمی معاہدے کے دائرہ اختیار میں ایران کا اسٹریٹجک میزائل پروگرام اور علاقائی مزاحمتی گروپوں کی سیاسی و عسکری حمایت شامل نہیں ہوگی۔

  • منجمد اثاثوں کی بحالی: طویل مدتی مذاکرات کے اس پورے عمل کے دوران ایران کے مختلف عالمی بینکوں میں منجمد 24 ارب ڈالر کے اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے، جبکہ امریکہ باقاعدہ مذاکرات کے باضابطہ آغاز سے قبل ہی حسنِ نیت کے طور پر ایران کے منجمد 12 ارب ڈالر فوری طور پر جاری کرنے کا پابند ہوگا۔

  • بین الاقوامی ضمانت: اس حتمی ایران امریکہ امن معاہدے کی باقاعدہ قانونی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی باقاعدہ قرارداد کے ذریعے کرانا بھی اس مسودے کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے۔