LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور سعودیہ کا خواتین کے حقوق، خاندانی نظام اور مشترکہ تعاون کے فروغ کا اعادہ پنجاب سے 1 لاکھ 38 ہزار 342 غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو واپس بھجوا دیا: محکمہ داخلہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: قطر نے سمندری سرگرمیاں معطل کردیں اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور شیخ حمد بن خلیفہ نے قطر کی خوشحالی میں تاریخی کردار ادا کیا: صدر، وزیراعظم جسمانی اور ذہنی صحت کے ہر ٹیسٹ میں مکمل نمبر حاصل کیے: ٹرمپ او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی پاکستان کیلئے اعزاز ہے: اعظم نذیر 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہوگی ایران کو اپنے غلط فیصلوں کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے: امریکی وزیرِ دفاع افغان طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں،عالمی سطح پر آوازیں اٹھنے لگیں ایرانی اخبار کی ’انتقامی ہٹ لسٹ‘ پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل؛ امریکہ کے ایران پر 140 حملے، آبنائے ہرمز بند ایرانی اخبار نے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو سمیت عالمی رہنماؤں کی ’انتقامی ہٹ لسٹ‘ جاری کر دی امریکی فوج کے ایران پر مزید حملے ایران کے شہر بندر عباس کے مغرب میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایرانی میڈیا پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل

امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار

Web Desk

17 June 2026

عالمی امن کے دشمن اسرائیل کو ایک اور بڑی سفارتی اور تزویراتی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں امریکہ نے اپنے دیرینہ اتحادی اسرائیل کی جانب سے ایران معاہدے کی حساس تفصیلات تک رسائی حاصل کرنے کی باضابطہ درخواست کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، تل ابیب حکومت نے امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی حالیہ تاریخی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے مسودے اور دستاویزات تک رسائی کی ایک باضابطہ سفارتی درخواست امریکی انتظامیہ کو ارسال کی تھی، جسے واشنگٹن نے صاف انکار کرتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے اسے خالصتاً قومی سلامتی کا انتہائی حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کو اس معاہدے کے خدوخال دکھانے سے معذرت کر لی ہے۔ اس غیر متوقع انکار پر اسرائیلی حکام نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی فیصلے کو انتہائی حیران کن اور مایوس کن قرار دیا ہے۔

دوسری جانب، ایران اور امریکہ کے مابین طے پانے والے اس تاریخی 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی انتہائی اہم اور تزویراتی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس مسودے کے تحت درج ذیل اہم نکات پر اتفاق کیا گیا ہے:

  • ناکہ بندی کا خاتمہ: خطے میں قائم امریکی بحری ناکہ بندی کو معاہدے پر دستخط کے بعد 30 دن کے اندر مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

  • پابندیوں کی معطلی: ایران کے خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی عالمی برآمدات پر عائد تمام معاشی پابندیاں فوری طور پر معطل کر دی جائیں گی۔

  • جنگ بندی کا نفاذ: لبنان سمیت مشرقِ وسطیٰ کے تمام فعال محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے گا۔

  • تعمیرِ نو کے فنڈز: مسودے کے تحت امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی ممالک ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی استحکام کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کا بھاری فنڈ فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

  • دفاعی پروگرام کا تحفظ: اس حتمی معاہدے کے دائرہ اختیار میں ایران کا اسٹریٹجک میزائل پروگرام اور علاقائی مزاحمتی گروپوں کی سیاسی و عسکری حمایت شامل نہیں ہوگی۔

  • منجمد اثاثوں کی بحالی: طویل مدتی مذاکرات کے اس پورے عمل کے دوران ایران کے مختلف عالمی بینکوں میں منجمد 24 ارب ڈالر کے اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے، جبکہ امریکہ باقاعدہ مذاکرات کے باضابطہ آغاز سے قبل ہی حسنِ نیت کے طور پر ایران کے منجمد 12 ارب ڈالر فوری طور پر جاری کرنے کا پابند ہوگا۔

  • بین الاقوامی ضمانت: اس حتمی ایران امریکہ امن معاہدے کی باقاعدہ قانونی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی باقاعدہ قرارداد کے ذریعے کرانا بھی اس مسودے کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے۔