پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے
Web Desk
17 June 2026
پاکستان ریلوے کی جانب سے ریونیو میں اضافے اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے 15 مسافر ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے اوپن نیلامی (اوپن بڈنگ) کا انعقاد کیا گیا، تاہم متوقع ہدف کے برعکس صرف 5 ٹرینوں کے تجارتی ٹھیکے ہی نجی کمپنیوں کے سپرد کیے جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، نجکاری کے اس اہم عمل کے دوران 10 اہم ٹرینوں کے لیے نجی شعبے کی جانب سے کوئی بھی بڈ (بولی) موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث ان کی آؤٹ سورسنگ کو فی الوقت مؤخر کرنا پڑا۔ اس نیلامی میں جن 5 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کامیابی سے مکمل ہوئی، ان سے پاکستان ریلوے کو مجموعی طور پر 10 ارب 78 کروڑ 23 لاکھ روپے کی بھاری آمدن حاصل ہوئی۔ نجی شراکت داروں کے سپرد کی جانے والی ان ٹرینوں میں عوام ایکسپریس، ملت ایکسپریس، قراقرم ایکسپریس، میانوالی ایکسپریس اور نارووال پسنجر شامل ہیں۔
اوپن نیلامی کے باقاعدہ نتائج اور مالیاتی اعداد و شمار درج ذیل ہیں:
-
قراقرم ایکسپریس: یہ ٹرین سب سے مہنگی یعنی 3 ارب 90 کروڑ 15 لاکھ روپے میں آؤٹ سورس کی گئی۔
-
عوام ایکسپریس: اس ٹرین کے کمرشل حقوق 3 ارب 56 کروڑ روپے میں نجی کمپنی کے سپرد کیے گئے۔
-
ملت ایکسپریس: یہ ٹرین 2 ارب 77 کروڑ 28 لاکھ روپے کے عوض آؤٹ سورس ہوئی۔
-
میانوالی ایکسپریس: اس ٹرین کا ٹھیکا 40 کروڑ 10 لاکھ روپے میں دیا گیا۔
-
نارووال پسنجر: یہ پسنجر ٹرین 14 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بولی کے ساتھ نجی شعبے کے حوالے کی گئی۔
ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلوے انتظامیہ نے ان تمام 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مجموعی طور پر 25 ارب روپے سے زائد کا ایک بڑا مالیاتی بنچ مارک (کم از کم قیمت) مقرر کیا تھا۔ تاہم، نجی کمپنیوں اور اسٹیک ہولڈرز کے مطابق 10 ٹرینوں کے لیے مقرر کردہ یہ بنچ مارک مارکیٹ ریٹ سے کہیں زیادہ تھا، یہی وجہ ہے کہ بڑی کمپنیاں ان ٹرینوں کے لیے اپنی بڈز جمع کرانے سے مکمل طور پر گریزاں رہیں۔
جن 10 ٹرینوں کے لیے کوئی بھی تجارتی بڈ موصول نہ ہو سکی، ان میں ہزارہ ایکسپریس، فرید ایکسپریس، کراچی ایکسپریس، راوی ایکسپریس، بہاؤالدین زکریا ایکسپریس، لاثانی ایکسپریس، تھل ایکسپریس، سکھر ایکسپریس، سیالکوٹ ایکسپریس اور فیض احمد فیض ایکسپریس شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ان 10 ٹرینوں کا عمل مؤخر ہونے کے بعد اب ریلوے انتظامیہ آئندہ مرحلے کے لیے بڈنگ کے بنچ مارک اور دیگر سخت شرائط کا ازسرنو جائزہ لینے پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریلوے نے اس منصوبے کے ذریعے اپنی آمدن بڑھانے کا جو بڑا ہدف مقرر کیا تھا، 15 میں سے صرف 5 ٹرینوں کے ٹھیکے طے پانے سے اس متوقع سالانہ آمدن میں نمایاں کمی کا قوی امکان ہے۔
دوسری جانب، ترجمان پاکستان ریلوے نے ادارے کا موقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بنچ مارک زیادہ رکھنے کا بنیادی مقصد قومی ادارے کے لیے زیادہ سے زیادہ مالیاتی فائدہ اور آمدن حاصل کرنا تھا۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ جن پانچ ٹرینوں کی آکشن ہوئی ہے وہ بہترین اور ریکارڈ ریٹس پر کی گئی ہے؛ نجی کمپنیوں کی پوری کوشش تھی کہ انہیں کم نرخوں پر ٹرینوں کی کمرشل مینجمنٹ مل جائے، لیکن ریلوے نے اپنے مفاد پر سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنے اہداف کے مطابق بہترین ریونیو حاصل کیا ہے۔ اس اوپن نیلامی کے نتائج کی حتمی اور باقاعدہ منظوری پاکستان ریلوے کی اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے دی جائے گی۔
متعلقہ عنوانات
اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور
12 July 2026
پی ایچ ایف نے جدید جی پی ایس پلیئر ٹریکنگ سسٹم متعارف کرا دیا
12 July 2026
شیخ حمد بن خلیفہ نے قطر کی خوشحالی میں تاریخی کردار ادا کیا: صدر، وزیراعظم
12 July 2026
جسمانی اور ذہنی صحت کے ہر ٹیسٹ میں مکمل نمبر حاصل کیے: ٹرمپ
12 July 2026
وزیراعلیٰ کی وزیر تعلیم کو ہر ہفتے ایک سکول میں خود کلاس لینے کی ہدایت
12 July 2026
او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی پاکستان کیلئے اعزاز ہے: اعظم نذیر
12 July 2026
142 ہائی رسک یونین کونسلز میں انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہوگی
12 July 2026
پاکستان اور روس کا تجارت، توانائی، سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے کا عزم
12 July 2026