پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور
Web Desk
17 June 2026
سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے اہم گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں کہ صوبائی بجٹ پاس نہیں ہو پا رہا، بلکہ موجودہ وزیراعلیٰ بجٹ کے اہم خدوخال اور ترجیحات کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے تفصیلی مشاورت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ کی پیشکش میں تاخیر کی اصل وجہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرایا جانا ہے، اور اس نازک مرحلے پر لیڈرشپ سے ملاقات نہ ہونے دینا ایک بہت بڑی زیادتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری اپنی بھی ابھی تک بانی پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، اس لیے میڈیا پر چلنے والی ایسی تمام خبروں کی سختی سے تردید کرتا ہوں کیونکہ میں نے کبھی چھپ کر ملاقاتیں نہیں کیں۔ بانی پی ٹی آئی کا مناسب طبی علاج نہ ہونا اور عدالتوں میں ان کے کیسز نہ لگنا بنیادی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے۔
پارٹی کے تنظیمی امور اور احتجاجی تحریک پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ بہترین طریقے سے عوامی مظاہرے کیے ہیں، تاہم اب پارٹی کے مقامی ذمہ داران سے باقاعدہ پوچھا جانا چاہیے کہ مخصوص کالز پر لوگ کیوں باہر نہیں نکل رہے؟ انہوں نے تزویراتی نکتہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کسی بڑے احتجاج کا اعلان کر کے اپنا ہدف حاصل نہیں کرتے، تو آپ کا دشمن آپ کو کمزور سمجھنے لگتا ہے؛ اس لیے جب بھی احتجاج کا باقاعدہ اعلان کیا جائے، تو اسے ہر صورت کامیاب بنانے کے لیے پوری طاقت اور بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے اندر کوئی دھڑے بندی موجود نہیں ہے، البتہ کچھ مخلص لوگوں کے آپسی اختلافات ضرور ہیں اور اختلافِ رائے رکھنے والے ساتھیوں کی ہر جائز بات کو سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔
سابق وزیراعلیٰ نے ماضی میں مقتدر حلقوں کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقاتوں کا احوال بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ بطور وزیراعلیٰ میری تمام میٹنگز خالصتاً ملک کو درپیش سنگین چیلنجز اور اہم مینوفیکچرنگ و انتظامی امور کے حوالے سے ہوتی تھیں، اور یہ تمام ملاقاتیں انتہائی سنجیدہ (سیریس) ماحول میں منعقد کی جاتی تھیں جن میں ملکی سیاسی حالات پر بھی کُھل کر بات ہوتی تھی۔ انہوں نے ایک دلچسپ تزویراتی قصہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک اہم ترین میٹنگ کے دوران میں نے حکام کو مطلع کیا کہ صوبے کے کئی اضلاع میں میرے اوپر 9 مئی کی بوگس ایف آئی آرز (FIRs) درج کی گئی ہیں۔
انہوں نے حکام سے کہا کہ اگر میرے پاس دنیا کا تیز ترین لڑاکا طیارہ ایف سولہ (F-16) بھی موجود ہوتا، تب بھی میں دو گھنٹوں کے قلیل وقت میں اتنے زیادہ اضلاع میں بیک وقت کبھی نہیں پہنچ سکتا تھا، کیونکہ محض دو گھنٹوں کے اندر میرے اوپر مختلف آٹھ اضلاع میں پرچے کاٹ دیے گئے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ میری اس منطقی بات پر وہاں موجود فیلڈ مارشل کی بھی ہنسی نکل گئی۔ انہوں نے مقتدر حلقوں اور اعلیٰ عدلیہ سے پرزور اپیل کی کہ ملک سے اس قسم کی مضحکہ خیز لاقانونیت اور سیاسی انتقام کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
متعلقہ عنوانات
سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی
17 June 2026
انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل،
17 June 2026
خواجہ آصف بتائیں آٹھ فروری 2024کا الیکشن کیا ان کے ضمیر پر بوجھ نہیں ؟
17 June 2026
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات
17 June 2026
محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق
17 June 2026
پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے
17 June 2026
سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی
17 June 2026
پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان
17 June 2026