LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

سندھ میں خسرہ کی وبا شدت اختیار کرگئی، 53 بچے جاں بحق

Web Desk

16 June 2026

سندھ بھر میں متعدی وبائی مرض خسرہ (Measles) کی وبا انتہائی تیزی سے پھیلنے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں رواں سال کے دوران صوبے میں 2 ہزار سے زائد بچے اس موذی مرض کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ خسرہ کی پیچیدگیوں کے باعث اب تک 53 معصوم بچے اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

محکمہ صحت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، سندھ میں خسرہ کے اس خطرناک اور تیز رفتار پھیلاؤ نے طبی ماہرین اور ماہرینِ صحت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس جان لیوا بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے اور معصوم بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی ٹیکوں (ویکسینیشن) کا بروقت استعمال اور آگاہی انتہائی ضروری ہو چکی ہے۔

معروف ماہرِ امراضِ اطفال (پیڈیاٹریشن) ڈاکٹر خالد شفیع نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال اب تک صرف سندھ بھر میں خسرہ کے دو ہزار سے زائد تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سنسنی خیز اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں اب تک خسرہ سے مجموعی طور پر 96 بچوں کی اموات ہو چکی ہیں، جن میں سے نصف سے زائد یعنی صرف سندھ میں جاں بحق ہونے والے 53 بچے شامل ہیں، جو خسرہ کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی مختلف طبی پیچیدگیوں (Complications) کے باعث جانبر نہ ہو سکے۔

طبی ماہرین اور ڈاکٹروں کے مطابق، صوبے میں خسرہ کی وبا اس حد تک پھیلنے کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ والدین کی جانب سے بچوں کو ای پی آئی (EPI) شیڈول کے تحت حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا یا کورس ادھورا چھوڑنا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خسرہ ایک سو فیصد قابلِ علاج اور حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے قابلِ تدارک مرض ہے، تاہم پسماندہ اور دیہی علاقوں میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے اور ویکسینیشن سے دوری کے باعث یہ متعدی بیماری ایک دوسرے سے بچوں میں تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔ ماہرینِ صحت نے والدین پر پرزور زور دیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے اور نائن منتھ کورس ضرور کروائیں تاکہ انہیں اس خطرناک اور معذور کر دینے والی بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

واضح رہے کہ خسرہ ایک انتہائی متعدی اور وائرل وبائی مرض ہے جو بنیادی طور پر کمزور قوتِ مدافعت والے بچوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ تیز بخار، نزلہ، زکام، شدید کھانسی، آنکھوں کا سرخ ہونا اور جسم پر سرخ رنگ کے دانے یا خارش ہونا اس کی ابتدائی اور واضح علامات میں شامل ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، جب یہ مرض شدت اختیار کرتا ہے تو بچوں کے اندرونی مدافعت کے نظام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، جس سے نمونیا یا دماغی سوزش جیسی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں جو بعض اوقات بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔