سندھ میں خسرہ کی وبا شدت اختیار کرگئی، 53 بچے جاں بحق
Web Desk
16 June 2026
سندھ بھر میں متعدی وبائی مرض خسرہ (Measles) کی وبا انتہائی تیزی سے پھیلنے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں رواں سال کے دوران صوبے میں 2 ہزار سے زائد بچے اس موذی مرض کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ خسرہ کی پیچیدگیوں کے باعث اب تک 53 معصوم بچے اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
محکمہ صحت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، سندھ میں خسرہ کے اس خطرناک اور تیز رفتار پھیلاؤ نے طبی ماہرین اور ماہرینِ صحت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس جان لیوا بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے اور معصوم بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی ٹیکوں (ویکسینیشن) کا بروقت استعمال اور آگاہی انتہائی ضروری ہو چکی ہے۔
معروف ماہرِ امراضِ اطفال (پیڈیاٹریشن) ڈاکٹر خالد شفیع نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال اب تک صرف سندھ بھر میں خسرہ کے دو ہزار سے زائد تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سنسنی خیز اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں اب تک خسرہ سے مجموعی طور پر 96 بچوں کی اموات ہو چکی ہیں، جن میں سے نصف سے زائد یعنی صرف سندھ میں جاں بحق ہونے والے 53 بچے شامل ہیں، جو خسرہ کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی مختلف طبی پیچیدگیوں (Complications) کے باعث جانبر نہ ہو سکے۔
طبی ماہرین اور ڈاکٹروں کے مطابق، صوبے میں خسرہ کی وبا اس حد تک پھیلنے کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ والدین کی جانب سے بچوں کو ای پی آئی (EPI) شیڈول کے تحت حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا یا کورس ادھورا چھوڑنا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خسرہ ایک سو فیصد قابلِ علاج اور حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے قابلِ تدارک مرض ہے، تاہم پسماندہ اور دیہی علاقوں میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے اور ویکسینیشن سے دوری کے باعث یہ متعدی بیماری ایک دوسرے سے بچوں میں تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔ ماہرینِ صحت نے والدین پر پرزور زور دیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے اور نائن منتھ کورس ضرور کروائیں تاکہ انہیں اس خطرناک اور معذور کر دینے والی بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ خسرہ ایک انتہائی متعدی اور وائرل وبائی مرض ہے جو بنیادی طور پر کمزور قوتِ مدافعت والے بچوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ تیز بخار، نزلہ، زکام، شدید کھانسی، آنکھوں کا سرخ ہونا اور جسم پر سرخ رنگ کے دانے یا خارش ہونا اس کی ابتدائی اور واضح علامات میں شامل ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، جب یہ مرض شدت اختیار کرتا ہے تو بچوں کے اندرونی مدافعت کے نظام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، جس سے نمونیا یا دماغی سوزش جیسی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں جو بعض اوقات بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔
متعلقہ عنوانات
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026
خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
15 September 2026
وزن کم کرنے والی ادویات کا خودکشی کے خیالات سے تعلق کا انکشاف
15 September 2026
خیبرپختونخوا: چکن گونیا کے کیسز میں اضافہ، نوشہرہ کے متعدد گاؤں متاثر
15 September 2026
ایڈز کے خاتمے کیلئے علاج کے ساتھ مؤثر آگاہی پر توجہ دینا ہو گی: مصطفیٰ کمال
14 September 2026
ہیلتھ ایشیا نمائش: شعبہ صحت میں عالمی تعاون اور جدت کا نیا سنگِ میل
14 September 2026