LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں

سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی

Web Desk

17 June 2026

پنجاب کے ضلع چکوال میں 10 جون کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے اہلکار کی مبینہ فائرنگ کا نشانہ بننے والی 9 سالہ معصوم بچی ہانیہ عدیل کی تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں فائرنگ کی ہولناکی اور بچی کو لگنے والے زخموں کی انتہائی دردناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، معصوم ہانیہ عدیل کی موت جسم کے حساس حصوں پر متعدد گولیاں لگنے اور ان کے گہرے زخموں کے باعث ہونے والے شدید ترین خون کے بہاؤ (Hemorrhage) کی وجہ سے ہوئی۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ شدید صدمے (Shock) اور بے تحاشا خون بہہ جانے کے باعث بچی کے دل اور پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا، جو موت کی فوری وجہ بنا۔

رپورٹ میں ہانیہ عدیل کے جسم پر لگنے والے زخموں اور گولیوں کی جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں

 معصوم بچی کے جسم پر گولیوں کے داخل اور خارج ہونے کے مجموعی طور پر 11 نشانات پائے گئے۔ پوسٹ مارٹم کے دوران بچی کے جسم سے گولی کا ایک دھاتی ٹکڑا برآمد کر کے باقاعدہ طور پر پولیس کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں بچی کی دائیں ران کی ہڈی بری طرح ٹوٹ گئی، جبکہ گولی لگنے سے اس کا دایاں پھیپھڑا شدید متاثر ہوا اور چھاتی کے اندر بڑے پیمانے پر خون جمع ہو گیا۔ اس کے علاوہ گولیوں کی زد میں آنے سے بچی کا جگر، بڑی اور چھوٹی آنتیں بھی شدید طور پر زخمی ہوئیں۔ ہانیہ کی دائیں چھاتی، پیٹ، ران اور بائیں کہنی پر گولیوں کے داخل ہونے (Entry) اور خارج ہونے (Exit) کے گہرے اور مہلک زخم پائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تمام زخم “اینٹی مارٹم” ہیں، یعنی یہ تمام گولیاں موت واقع ہونے سے پہلے ماری گئیں۔ زخم اس قدر شدید اور اعضاء کو تباہ کرنے والے تھے کہ عام حالات میں یہ فوری موت کا سبب بنتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ گولی لگنے اور موت واقع ہونے کے درمیان معصوم بچی کو سنبھلنے کا بالکل وقت نہیں ملا اور اس کی روح فوراً پرواز کر گئی۔

میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق، بچی کی موت واقع ہونے اور پوسٹ مارٹم کے عمل کے درمیان تقریباً 6 سے 8 گھنٹے کا وقت گزرا۔ ہسپتال انتظامیہ نے قانونی کارروائی اور تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے بچی کے خون آلود کپڑے، ایکس ریز اور دیگر تمام اہم ترین فرانزک شواہد کو مکمل طور پر سیل کر کے پولیس حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ 9 سالہ ہانیہ عدیل اور ان کے خاندان کو چکوال میں سی ٹی ڈی اہلکار نے فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے