LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور سعودیہ کا خواتین کے حقوق، خاندانی نظام اور مشترکہ تعاون کے فروغ کا اعادہ پنجاب سے 1 لاکھ 38 ہزار 342 غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو واپس بھجوا دیا: محکمہ داخلہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: قطر نے سمندری سرگرمیاں معطل کردیں اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور شیخ حمد بن خلیفہ نے قطر کی خوشحالی میں تاریخی کردار ادا کیا: صدر، وزیراعظم جسمانی اور ذہنی صحت کے ہر ٹیسٹ میں مکمل نمبر حاصل کیے: ٹرمپ او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی پاکستان کیلئے اعزاز ہے: اعظم نذیر 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہوگی ایران کو اپنے غلط فیصلوں کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے: امریکی وزیرِ دفاع افغان طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں،عالمی سطح پر آوازیں اٹھنے لگیں ایرانی اخبار کی ’انتقامی ہٹ لسٹ‘ پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل؛ امریکہ کے ایران پر 140 حملے، آبنائے ہرمز بند ایرانی اخبار نے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو سمیت عالمی رہنماؤں کی ’انتقامی ہٹ لسٹ‘ جاری کر دی امریکی فوج کے ایران پر مزید حملے ایران کے شہر بندر عباس کے مغرب میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایرانی میڈیا پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل

سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی

Web Desk

17 June 2026

پنجاب کے ضلع چکوال میں 10 جون کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے اہلکار کی مبینہ فائرنگ کا نشانہ بننے والی 9 سالہ معصوم بچی ہانیہ عدیل کی تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں فائرنگ کی ہولناکی اور بچی کو لگنے والے زخموں کی انتہائی دردناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، معصوم ہانیہ عدیل کی موت جسم کے حساس حصوں پر متعدد گولیاں لگنے اور ان کے گہرے زخموں کے باعث ہونے والے شدید ترین خون کے بہاؤ (Hemorrhage) کی وجہ سے ہوئی۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ شدید صدمے (Shock) اور بے تحاشا خون بہہ جانے کے باعث بچی کے دل اور پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا، جو موت کی فوری وجہ بنا۔

رپورٹ میں ہانیہ عدیل کے جسم پر لگنے والے زخموں اور گولیوں کی جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں

 معصوم بچی کے جسم پر گولیوں کے داخل اور خارج ہونے کے مجموعی طور پر 11 نشانات پائے گئے۔ پوسٹ مارٹم کے دوران بچی کے جسم سے گولی کا ایک دھاتی ٹکڑا برآمد کر کے باقاعدہ طور پر پولیس کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں بچی کی دائیں ران کی ہڈی بری طرح ٹوٹ گئی، جبکہ گولی لگنے سے اس کا دایاں پھیپھڑا شدید متاثر ہوا اور چھاتی کے اندر بڑے پیمانے پر خون جمع ہو گیا۔ اس کے علاوہ گولیوں کی زد میں آنے سے بچی کا جگر، بڑی اور چھوٹی آنتیں بھی شدید طور پر زخمی ہوئیں۔ ہانیہ کی دائیں چھاتی، پیٹ، ران اور بائیں کہنی پر گولیوں کے داخل ہونے (Entry) اور خارج ہونے (Exit) کے گہرے اور مہلک زخم پائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تمام زخم “اینٹی مارٹم” ہیں، یعنی یہ تمام گولیاں موت واقع ہونے سے پہلے ماری گئیں۔ زخم اس قدر شدید اور اعضاء کو تباہ کرنے والے تھے کہ عام حالات میں یہ فوری موت کا سبب بنتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ گولی لگنے اور موت واقع ہونے کے درمیان معصوم بچی کو سنبھلنے کا بالکل وقت نہیں ملا اور اس کی روح فوراً پرواز کر گئی۔

میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق، بچی کی موت واقع ہونے اور پوسٹ مارٹم کے عمل کے درمیان تقریباً 6 سے 8 گھنٹے کا وقت گزرا۔ ہسپتال انتظامیہ نے قانونی کارروائی اور تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے بچی کے خون آلود کپڑے، ایکس ریز اور دیگر تمام اہم ترین فرانزک شواہد کو مکمل طور پر سیل کر کے پولیس حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ 9 سالہ ہانیہ عدیل اور ان کے خاندان کو چکوال میں سی ٹی ڈی اہلکار نے فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے