LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام؛ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کی طلبہ کیساتھ نشست محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی

سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی

Web Desk

17 June 2026

پنجاب کے ضلع چکوال میں 10 جون کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے اہلکار کی مبینہ فائرنگ کا نشانہ بننے والی 9 سالہ معصوم بچی ہانیہ عدیل کی تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں فائرنگ کی ہولناکی اور بچی کو لگنے والے زخموں کی انتہائی دردناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، معصوم ہانیہ عدیل کی موت جسم کے حساس حصوں پر متعدد گولیاں لگنے اور ان کے گہرے زخموں کے باعث ہونے والے شدید ترین خون کے بہاؤ (Hemorrhage) کی وجہ سے ہوئی۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ شدید صدمے (Shock) اور بے تحاشا خون بہہ جانے کے باعث بچی کے دل اور پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا، جو موت کی فوری وجہ بنا۔

رپورٹ میں ہانیہ عدیل کے جسم پر لگنے والے زخموں اور گولیوں کی جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں

 معصوم بچی کے جسم پر گولیوں کے داخل اور خارج ہونے کے مجموعی طور پر 11 نشانات پائے گئے۔ پوسٹ مارٹم کے دوران بچی کے جسم سے گولی کا ایک دھاتی ٹکڑا برآمد کر کے باقاعدہ طور پر پولیس کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں بچی کی دائیں ران کی ہڈی بری طرح ٹوٹ گئی، جبکہ گولی لگنے سے اس کا دایاں پھیپھڑا شدید متاثر ہوا اور چھاتی کے اندر بڑے پیمانے پر خون جمع ہو گیا۔ اس کے علاوہ گولیوں کی زد میں آنے سے بچی کا جگر، بڑی اور چھوٹی آنتیں بھی شدید طور پر زخمی ہوئیں۔ ہانیہ کی دائیں چھاتی، پیٹ، ران اور بائیں کہنی پر گولیوں کے داخل ہونے (Entry) اور خارج ہونے (Exit) کے گہرے اور مہلک زخم پائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تمام زخم “اینٹی مارٹم” ہیں، یعنی یہ تمام گولیاں موت واقع ہونے سے پہلے ماری گئیں۔ زخم اس قدر شدید اور اعضاء کو تباہ کرنے والے تھے کہ عام حالات میں یہ فوری موت کا سبب بنتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ گولی لگنے اور موت واقع ہونے کے درمیان معصوم بچی کو سنبھلنے کا بالکل وقت نہیں ملا اور اس کی روح فوراً پرواز کر گئی۔

میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق، بچی کی موت واقع ہونے اور پوسٹ مارٹم کے عمل کے درمیان تقریباً 6 سے 8 گھنٹے کا وقت گزرا۔ ہسپتال انتظامیہ نے قانونی کارروائی اور تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے بچی کے خون آلود کپڑے، ایکس ریز اور دیگر تمام اہم ترین فرانزک شواہد کو مکمل طور پر سیل کر کے پولیس حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ 9 سالہ ہانیہ عدیل اور ان کے خاندان کو چکوال میں سی ٹی ڈی اہلکار نے فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے