سائنس دانوں نے پہلی بار زندہ بافتوں میں مائیکرو پلاسٹکس کا سراغ لگا لیا
Web Desk
16 June 2026
برطانیہ کی کنگسٹن یونیورسٹی لندن کے مایہ ناز محققین اور سائنس دانوں نے طبی و سائنسی دنیا میں ایک اور تاریخ ساز اور انقلابی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا میں پہلی بار ایک ایسا جدید ترین طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کے ذریعے زندہ جانداروں کے جسم میں موجود مائیکرو پلاسٹکس (پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات) کا بغیر کسی جراحی (سرجری) یا جسم کو چیرے بغیر (Non-Invasive Method) انتہائی سائنسی درستگی کے ساتھ پتہ لگایا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی سائنسی جریدے “ایڈوانسڈ سائنس” میں شائع ہونے والی اس تزویراتی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، تجربہ گاہ میں زندہ چوہوں کے جسمانی ٹشوز اور خلیات میں عام طور پر روزمرہ زندگی میں کثرت سے استعمال ہونے والے کئی اقسام کے مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی کے واضح شواہد حاصل کیے گئے ہیں۔ ان کیمیکل ذرات میں پولی پروپلین (Polypropylene) شامل ہے جو عام طور پر فوڈ کنٹینرز، پلاسٹک بوتلوں اور ڈسپوزایبل کافی کے کپ بنانے میں استعمال ہوتی ہے، جبکہ دوسرا بڑا عنصر پولی ایتھلین (Polyethylene) پایا گیا ہے جو وہ مخصوص پلاسٹک ہے جس سے عام طور پر ایک بار استعمال ہونے والے سنگل یوز شاپنگ بیگز تیار کیے جاتے ہیں۔
یہ دور رس اور اہم ترین طبی تحقیق یونیورسٹی کالج لندن (UCL) میڈیسن کے میڈیکل امیجنگ کے نامور لیکچرر ڈاکٹر اسٹیفن پیٹرک کی زیرِ نگرانی اور تزویراتی سربراہی میں کی گئی، جبکہ اس اہم سائنسی پراجیکٹ میں یونیورسٹی کالج لندن اور برمنگھم یونیورسٹی کے اعلیٰ سائنس دانوں نے بھی معاون کے طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ماحولیاتی اور طبی ماہرین کے مطابق، یہ غیر معمولی طبی پیشرفت مستقبل قریب میں یہ گہرائی سے سمجھنے میں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے کہ مائیکرو پلاسٹکس انسانی جسم کے اندر داخل ہونے کے بعد کس طرح حرکت کرتے ہیں، خون کے بہاؤ کے ساتھ مختلف نازک اعضا بشمول دل، جگر اور دماغ تک کیسے پہنچتے ہیں اور طویل مدت میں انسانی صحت پر ان کے کیا مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس مائیکرو لیول تحقیق کے دوران مائیکروسکوپی کے ذریعے تیار کی گئی ایک انتہائی منفرد اور تفصیلی سائنسی تصویر کو بین الاقوامی سطح پر “ویلکم فوٹوگرافی پرائز 2025” (Wellcome Photography Prize) کے لیے بھی شارٹ لسٹ کیا گیا تھا، جبکہ اس شاہکار سائنسی تصویر کو فرانسس کرک انسٹی ٹیوٹ میں عوامی نمائش اور بیداریِ شعور کے لیے بھی باقاعدہ پیش کیا جا چکا ہے۔ اس پیچیدہ تحقیق کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سائنس دانوں نے “فوٹو اکو سٹک امیجنگ” (Photoacoustic Imaging) نامی جدید ترین اور سائنسی طور پر ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔ اس سائنسی مقصد کے لیے تجرباتی چوہوں کو کنٹرول شدہ ماحول اور مخصوص مقدار میں مائیکرو پلاسٹکس کے باقاعدہ انجیکشن دیے گئے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اندرونی جسمانی نظام میں پلاسٹک ذرات کی نقل و حرکت، پھیلاؤ اور جمع ہونے کے عمل کا لائیو اور بالکل درست مشاہدہ کیا جا سکے۔
معاون محققین کے مطابق، چوہوں کے جسم میں خوراک اور پانی کے قدرتی چکر کے ذریعے پہلے سے بھی معمولی مقدار میں مائیکرو پلاسٹکس موجود ہونے کا قوی امکان پایا گیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے معاصر دنیا میں آلودگی کے باعث آج انسانوں کے جسم اور خون کے خلیات میں بھی یہ ننھے پلاسٹک ذرات تیزی سے پائے جا رہے ہیں۔ سائنسی ماہرین کے مطابق، یہ گراں قدر تحقیق دنیا بھر میں مائیکرو پلاسٹک آلودگی اور انسانی صحت کے باہمی تعلق و خطرات کو سمجھنے کی جانب ایک بہت بڑا اور مضبوط ترین قدم ہے، جو مستقبل میں کینسر اور دیگر لا علاج بیماریوں کے خلاف کئی اہم طبی اور سائنسی انکشافات کی نئی راہ ہموار کرے گا۔
متعلقہ عنوانات
وزن اٹھانا انسانوں کیلئے کتنا مفید ہے؟
16 June 2026
ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف
16 June 2026
مائیگرین کی دوا حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق
15 June 2026
شہر قائد میں ایک اور ایم پاکس کا متاثرہ مریض رپورٹ، تعداد 10 ہو گئی
15 June 2026
چینی غذا سے مکمل نکال دینا معدے اور جسمانی صحت کیلئے مضر ہوسکتا ہے
14 June 2026
تاریخ میں پہلی بار انسانی جلد کو جوان بنانے والی اینٹی ایجنگ تھراپی کا کامیاب تجربہ
13 June 2026
جوڑوں کے درد کی دوا الزائمرز بڑھنے کا سبب ہو سکتا ہے: تحقیق
13 June 2026
البینزم سے متاثرہ افراد کے لیے محبت اور احترام کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا،مریم نواز
13 June 2026