LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں

پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان

Web Desk

17 June 2026

پاکستان کی جانب سے خطے میں جاری تزویراتی امن کوششوں اور سفارتی تعاون کے تسلسل میں ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان کی تحویل میں موجود 30 ایرانی شہریوں کی فوری اور محفوظ وطن واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک اہم سفارتی پیغام میں واضح کیا کہ پاکستان خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ان 30 ایرانی شہریوں کی وطن واپسی کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان افراد میں سمندر کے دوران ریسکیو کیے گئے ماہی گیر اور مختلف بین الاقوامی بحری کارروائیوں کے دوران تحویل میں لیے گئے عملے کے ارکان شامل ہیں۔

وزیر خارجہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، ان افراد کو دو مختلف گروپس کی شکل میں ریسکیو کیا گیا تھا:

  • پہلا گروپ (ایرانی ماہی گیر): اس گروپ میں 8 ایرانی ماہی گیر شامل ہیں، جن کی لانچ سمندر میں راستہ بھٹکنے کے بعد حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس پر برطانوی بحری جہاز “ایم ایم اے ویلر” (MMA Valour) نے انہیں بروقت کارروائی کرتے ہوئے سمندر سے بحفاظت ریسکیو کیا تھا۔

  • دوسرا گروپ (بحری عملہ): اس گروپ میں 22 ایرانی عملے کے ارکان شامل ہیں، جو بحری جہاز “لینور/ ڈیوائنا” (Lenore/Davina) پر موجود تھے اور حال ہی میں بحیرہ عرب اور خلیج کے علاقے میں امریکی حکام کی جانب سے کی جانے والی ایک بڑی کارروائی کے دوران تحویل میں لیے گئے تھے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے مطابق، یہ تمام 30 ایرانی شہری اس وقت پاکستان کی مخلصانہ سفارتی نگرانی میں موجود ہیں اور انہیں آئندہ چند ہی روز کے اندر کراچی کے راستے باقاعدہ طور پر ان کے وطن یعنی ایران روانہ کر دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس پورے حساس عمل کو انتہائی شفاف اور تیز رفتار بنانے کے لیے تہران، واشنگٹن اور لندن کے متعلقہ اعلیٰ حکام کے ساتھ قریبی اور براہِ راست رابطے میں ہے تاکہ تمام متعلقہ فریقین کی رضامندی کے ساتھ ان افراد کی محفوظ، قانونی اور بروقت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پریس بریفنگ کے آخر میں نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے بین الاقوامی سطح پر انسانی ہمدردی کے اعلیٰ اصولوں پر یقین رکھتا ہے اور وہ مستقبل میں بھی علاقائی و بین الاقوامی امن اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا مثبت تزویراتی کردار ادا کرتا رہے گا۔