LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: قطر نے سمندری سرگرمیاں معطل کردیں اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور شیخ حمد بن خلیفہ نے قطر کی خوشحالی میں تاریخی کردار ادا کیا: صدر، وزیراعظم جسمانی اور ذہنی صحت کے ہر ٹیسٹ میں مکمل نمبر حاصل کیے: ٹرمپ او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی پاکستان کیلئے اعزاز ہے: اعظم نذیر 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہوگی ایران کو اپنے غلط فیصلوں کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے: امریکی وزیرِ دفاع افغان طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں،عالمی سطح پر آوازیں اٹھنے لگیں ایرانی اخبار کی ’انتقامی ہٹ لسٹ‘ پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل؛ امریکہ کے ایران پر 140 حملے، آبنائے ہرمز بند ایرانی اخبار نے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو سمیت عالمی رہنماؤں کی ’انتقامی ہٹ لسٹ‘ جاری کر دی امریکی فوج کے ایران پر مزید حملے ایران کے شہر بندر عباس کے مغرب میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایرانی میڈیا پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع

انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل،

Web Desk

17 June 2026

راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) میں تھانہ صادق آباد میں درج نومبر احتجاج کیس کی اہم سماعت ہوئی، جس میں علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے کیس کے 21 اہم عدالتی گواہوں کو طلب کرنے کی درخواست پر اپنے تفصیلی دلائل پیش کیے۔ سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔

وکیلِ صفائی فیصل ملک نے دفعہ 540 سی آر پی سی (CrPC) کے تحت قانونی نکتہ پیش کیا کہ عدالت انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کسی بھی گواہ کو کسی بھی وقت طلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے اور فراہم کردہ فہرست میں شامل تمام افراد اس کیس کے مرکزی گواہ ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 24 نومبر کے احتجاج کی کال عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالا دستی کے لیے تھی، جبکہ مقدمے میں علیمہ خان پر محض میڈیا سے گفتگو کا الزام ہے۔ علیمہ خان کی گفتگو سے قبل ہی یہ خبر میڈیا پر نشر ہو چکی تھی؛ جو بات پہلے ہی عوام کے پاس ہو، اسے دہرانا جرم کیسے بن سکتا ہے؟ اس لیے علیمہ خان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ جج امجد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ جو دلائل آپ دے رہے ہیں، یہ تمام باتیں پہلے ہی عدالتی ریکارڈ پر موجود ہیں۔

سماعت کے دوران جب وکیلِ صفائی نے وفاقی وزراء کو طلب کرنے پر اصرار کیا، تو عدالت نے استفسار کہ وزیر داخلہ کو طلب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ وکیل صفائی نے جواب دیا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی ملکی سیکیورٹی امور کے ذمہ دار ہیں اور ایک نجی چینل کے مالک بھی ہیں، ان کے پاس ایسی دستاویزات ہیں جن تک ہماری رسائی نہیں۔ عدالت نے دوبارہ سوال کیا کہ اگر عطا تارڑ اور محسن نقوی نے ایک ہی کام کیا ہے تو کسی ایک کو بلا لیں؟ جس پر وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہم ان حکومتی وزراء پر جرح کرنا چاہتے ہیں جو کہ ہمارا قانونی حق ہے، اور ہم ثابت کریں گے کہ 27 نومبر کو ایسا کوئی وقوعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا جس کا الزام لگایا گیا ہے۔ وکیلِ صفائی کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے کیس کی سماعت 24 جون تک کے لیے ملتوی کر دی۔