ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف
Web Desk
16 June 2026
غیر سرکاری بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم “ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز” (ایم ایس ایف) نے باضابطہ طور پر ایک انتہائی لرزہ خیز اور افسوسناک اعتراف کیا ہے کہ مشرقی چاڈ کے امدادی کیمپوں میں تعینات اس کے عسکری و طبی عملے کے ارکان پر کم از کم 59 سوڈانی پناہ گزینوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور سنگین نوعیت کے استحصال کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق، ان انتہائی شرمناک واقعات میں کئی مقامات پر کم عمر اور معصوم پناہ گزین لڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں تنظیم کے بااثر اہلکاروں کی جانب سے غریب مہاجرین کو روزمرہ کی بنیادی خوراک، ادویات یا کیمپوں میں ملازمت کی فراہمی کے بدلے جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور ان کا شدید معاشی و انسانی استحصال کیا جاتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، یہ تمام گھناؤنے جرائم سوڈان میں جاری ہولناک خانہ جنگی شروع ہونے کے تقریباً ایک سال بعد مشرقی چاڈ کی سرحد پر قائم پناہ گزین کیمپوں میں سال 2024 کے دوران پیش آئے تھے۔ معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگاتے ہوئے ایم ایس ایف انتظامیہ کا کہنا ہے کہ داخلی تحقیقات کے بعد اب تک اس گھناؤنے فعل میں ملوث پائے جانے والے 18 مبینہ ملزمان کو نوکریوں سے فوری طور پر برطرف کر دیا گیا ہے، جبکہ کچھ دیگر ملزمان کی اب تک حتمی شناخت ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ جولائی کے مہینے میں سامنے آنے والی خود ایم ایس ایف کی اپنی تفصیلی آڈٹ رپورٹ کے مطابق، کیمپوں میں سوڈانی مظلومین کے خلاف جنسی استحصال کے ایسے مجرمانہ طریقے اپنائے گئے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت واضح طور پر “جنسی سمگلنگ” (ہیومن ٹریفکنگ) کے زمرے میں آتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، چاڈ کے کیمپوں میں موجود زیادہ تر متاثرین نے اس شدید خوف اور نفسیاتی دباؤ کے باعث طویل عرصے تک مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی کہ اگر انہوں نے عالمی ادارے کے بااثر عملے کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں کیمپ سے نکال دیا جائے گا یا وہ زندگی بچانے والی ضروری انسانی امداد اور راشن تک رسائی سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیے جائیں گے۔ ایم ایس ایف نے اپنی رپورٹ میں اس سٹرٹیجک اور انتظامی ناکامی کا بھی کھل کر اعتراف کیا ہے کہ جن پناہ گزینوں نے جرات کر کے ان جرائم کے خلاف ابتدائی شکایات درج کروائیں، انہیں انتظامیہ کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب ملا اور نہ ہی فوری تحفظ فراہم کیا گیا، جبکہ تنظیم کا باضابطہ شکایتی طریقہ کار (گریوینس سسٹم) زیادہ تر ناکارہ اور غیر فعال ثابت ہوا۔ ایم ایس ایف نے اپنے آفیشل بیان میں کہا ہے کہ یہ غلط طرزِ عمل اور مجرمانہ غفلت تنظیم کے بنیادی مینو فیسٹو، اخلاقی اقدار اور انسانی ذمہ داریوں کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے اور انہیں متاثرین کو پہنچنے والے اس ناقابلِ تلافی نقصان پر گہرا افسوس ہے۔
واضح رہے کہ سوڈان کی باقاعدہ سرکاری فوج اور ملک کے طاقتور ترین نیم فوجی گروہ “ریپڈ سپورٹ فورسز” (آر ایس ایف) کے مابین صدارت اور اقتدار پر قبضے کی شدید عسکری کشمکش کے بعد سے پورا ملک گذشتہ تین برسوں سے شدید ترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔ اس ہولناک مسلح تصادم کو اس وقت دنیا کا بدترین انسانی بحران تصور کیا جا رہا ہے جس کے تزویراتی ملبے کے نتیجے میں اب تک ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد افراد اپنے ہی ملک میں بے گھر اور دربدر ہو چکے ہیں جبکہ دو کروڑ 80 لاکھ کے قریب معصوم شہریوں کو قحط اور شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔ اس طویل عسکری تنازع میں اب تک ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کی کوئی حتمی یا سرکاری تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے، تاہم بین الاقوامی معائنہ کاروں اور مبصرین کے مطابق یہ ہلاکتیں کم از کم ڈیڑھ لاکھ سے چار لاکھ اموات کے درمیان ہو سکتی ہیں، جو خطے کی سیکیورٹی کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ
6 July 2026
پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل
6 July 2026
صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش
6 July 2026
ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ
6 July 2026
یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر، متعدد ممالک میں جنگلاتی آگ، انخلا جاری
6 July 2026
مودی حکومت عالمی پانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہے: عظمیٰ بخاری
6 July 2026
اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال
6 July 2026
جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید
6 July 2026