LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
24 گھنٹوں میں یمنی فوج کی 749 ٹارگٹڈ کارروائیاں، 239 حوثی ہلاک یا زخمی اسرائیلی حملے، غزہ میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے نیتن یاہو کے حریف گادی آئزن کوٹ کا اسرائیل میں تبدیلی لانے کے عزم کا اعادہ اسرائیل میں سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ، نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا ایران سفارت کاری کے ذریعے حل کیلئے ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے، عباس عراقچی بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار

سندھ اور بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا

Web Desk

17 June 2026

صوبہ سندھ اور بلوچستان کے عوام کے لیے ایک بڑا اور اہم ترین دن، جہاں دونوں صوبوں کا آئندہ مالی سال 27-2026 کا سالانہ بجٹ آج باقاعدہ طور پر صوبائی اسمبلیوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔

سندھ بجٹ: 720 ارب کا ترقیاتی پروگرام اور تنخواہوں میں اضافے کی تجویز
سندھ اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ صوبے کا سالانہ بجٹ پیش کریں گے۔ اس بار سندھ کے مجموعی ترقیاتی بجٹ کا حجم 720 ارب روپے رکھا گیا ہے، جس میں 3715 سے زائد اہم عوامی سکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ مالیاتی حقائق کے مطابق، سندھ کی مجموعی آمدن کا 73 فیصد سے زائد کا بڑا حصہ وفاق کے نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ پر انحصار کرے گا۔ سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے بجٹ میں تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 8 فیصد تک کا اہم اضافہ متوقع ہے۔

بجٹ کے تزویراتی اعداد و شمار اور اہم نکات درج ذیل ہیں:

ترقیاتی حجم میں کمی: سندھ کا مجموعی ترقیاتی بجٹ رواں سال کے مقابلے میں 28 فیصد کم رکھنے کی تجویز ہے۔

خارجی معاونت: سندھ ڈویلپمنٹ بجٹ میں 256 ارب روپے فارن پراجیکٹ اسسٹنس (غیر ملکی امداد) کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ وفاقی پی ایس ڈی پی (PSDP) سے 68 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

ضلعی بجٹ میں کٹوتی: ڈسٹرکٹ اے ڈی پی (ADP) کو 55 ارب روپے سے یکسر کم کر کے صرف 15 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، جبکہ صوبائی سطح کا اپنا ترقیاتی پروگرام 385 ارب روپے کا ہوگا۔

جاری و نئی سکیمیں: ترقیاتی بجٹ میں 3594 جاری سکیمیں شامل رکھی گئی ہیں، جبکہ غیر منظور شدہ صرف 120 نئی سکیموں کو بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

شعبہ جات کی تقسیم: محکمہ بلدیات کی 972 اور فراہمی و نکاسیِ آب (ڈرینیج) کی 830 سکیمیں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی محکمہ ورکس اینڈ سروسز کی 297 اور ایجوکیشن سیکٹر کی 655 سکیمیں بجٹ میں رکھی گئی ہیں۔

امن و امان اور علاقائی فنڈز: قیامِ امن سے متعلقہ اداروں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 6300 ملین روپے، ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کی سکیموں کے لیے 1500 ملین روپے، اور فاسٹ ٹریک پر جاری سکیموں کو جلد مکمل کرنے کے لیے 6000 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ پسماندہ اضلاع کی خصوصی سکیموں کے لیے 250 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ اجلاس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ کی صدارت میں صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس صبح 11 بجے منعقد ہوگا، جس میں رواں مالی سال کے ضمنی اخراجات پیش کیے جائیں گے۔ چیئرمین پی اینڈ ڈی کابینہ کو سالانہ ترقیاتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دیں گے، جس کے بعد کابینہ آئندہ مالی سال کے بجٹ تجاویز کی حتمی منظوری دے گی۔ اجلاس میں گزشتہ منٹس، سرکولیشن سمری اور فنانس کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق بھی لی جائے گی۔

بلوچستان بجٹ: 11 سو ارب سے زائد کا حجم اور سرپلس بجٹ کا امکان
دوسری جانب، بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی آئندہ مالی سال کے لیے 11 سو ارب روپے سے زائد کا بھاری اور تزویراتی بجٹ پیش کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، کوئٹہ حکومت کا آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی محاصل سے مجموعی آمدن کا تخمینہ 795 ارب 13 کروڑ روپے سے زائد لگایا گیا ہے، جس میں سے قابلِ تقسیم محاصل (ڈیویزیبل پول) سے آمدنی کا تخمینہ 771 ارب 39 کروڑ روپے ہے۔

بلوچستان بجٹ کے اہم ترین مالیاتی خدوخال اور ترجیحات درج ذیل ہیں:

گیس رائلٹی و دیگر محاصل: گیس کی مختلف مدات اور رائلٹی سے براہِ راست منتقلیوں کی صورت میں 23 ارب 74 کروڑ روپے کی آمدنی متوقع ہے، جبکہ صوبے کے اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے ٹیکسوں سے آمدنی کا تخمینہ 150 ارب روپے سے زائد ہے۔

اخراجات کا توازن: آئندہ مالی سال کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 700 ارب روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے، جبکہ ترقیاتی اخراجات کا حجم 250 سے 300 ارب روپے تک رہنے کی توقع ہے۔

سرپلس بجٹ کا امکان: تمام تر معاشی چیلنجز کے باوجود حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے کا آئندہ مالی سال کا بجٹ سرپلس (بچت والا) ہونے کا قوی امکان ہے۔

بنیادی شعبوں کی ترجیح: بجٹ میں تعلیم، صحت، امن و امان، شاہراہوں کی تعمیر اور پینے کے صاف پانی کے شعبوں کو سب سے اوپر رکھا گیا ہے۔

تعلیم و صحت فنڈز: تعلیم کے شعبے کے لیے ریکارڈ 160 ارب روپے سے زائد، جبکہ صحت کے شعبے کے لیے 85 ارب روپے سے زائد کی بھاری رقم متوقع ہے۔

امن و امان اور مواصلات: صوبے کے وسیع رقبے اور سکیورٹی حالات کے پیشِ نظر امن و امان کے لیے 100 ارب روپے سے زائد، اور محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) کے لیے 40 ارب روپے سے زائد کی رقم رکھی جا رہی ہے۔

صاف پانی اور سرکاری ملازمین: پینے کے صاف پانی کے منصوبوں کے لیے 17 ارب روپے سے زائد کی رقم رکھے جانے کا امکان ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے گائیڈ لائنز کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں متوقع اضافہ کیا جائے گا۔