قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات
Web Desk
17 June 2026
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اہم ترین اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نئے ٹیکس ماڈل اور انقلابی “فیس لیس اسیسمنٹ اینڈ آڈٹ نظام” پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کمیٹی کو نئے ڈیجیٹل سسٹم کی تزویراتی افادیت پر بریفنگ دی، جبکہ کمیٹی ارکان کی جانب سے اس نظام پر شدید تحفظات اور خدشات کا اظہار بھی کیا گیا۔
ٹیکس چوری کے ہولناک اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے انکشاف کیا کہ ملک میں 8 ہزار 697 ایسے بااثر افراد موجود ہیں جن کے بینک اکاؤنٹس میں 750 ارب روپے کے بھاری ڈیپازٹس موجود ہیں، لیکن حیران کن طور پر ان تمام افراد نے اپنی ٹیکس ریٹرنز میں اپنی انکم (آمدن) کو “زیرو” ظاہر کر رکھا ہے۔ یعنی 98.9 فیصد ہائی ڈیپازٹس رکھنے والے ان افراد کی انکم ڈکلیئریشن صفر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی افراد نے مہنگی پراپرٹیز خریدیں اور ان پر بننے والا ٹیکس بھی ادا کیا، لیکن اپنی سالانہ ریٹرن میں ان جائیدادوں کو سرے سے ظاہر ہی نہیں کیا۔ چوری اور مبینہ پیکیجز کے اس گٹھ جوڑ کو روکنے کے لیے ہی یہ نیا فیس لیس سسٹم لایا جا رہا ہے۔
نئے سسٹم کی تزویراتی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ٹیکس دہندگان اور ایف بی آر افسران کے مابین فزیکل انٹریکشن (آمنے سامنے ملاقات) ہی بدعنوانی کی اصل جڑ ہے اور اس میں بہت سے مسائل ہیں۔ فیس لیس نظام کے نفاذ کے بعد افسران کو یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ وہ کس ٹیکس دہندہ کا کیس دیکھ رہے ہیں، یعنی افسر اور ٹیکس دہندہ دونوں ایک دوسرے کی شناخت سے لاعلم ہوں گے۔ اس نئے ماڈل کے تحت:
-
انفرادی نوٹس کا خاتمہ: اب کوئی بھی ایف بی آر افسر اپنی ذاتی مرضی یا صوابدید پر کسی ٹیکس دہندہ کو کوئی نوٹس جاری نہیں کر سکے گا۔
-
ایلگورتھم اور اے آئی کا استعمال: ٹیکنالوجی ہب میں قائم ایک خودکار “رسک مینجمنٹ انجن” تمام کیسز کا ڈیٹا پروسیس کرے گا اور سسٹم انسان کے بجائے ایلگورتھم اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) باٹس کے تحت آپریٹ ہوگا۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق یہ اے آئی باٹس آہستہ آہستہ مزید بہتر ہوتے جائیں گے۔
-
نیشنل فیس لیس آڈٹ ونگ: اس ونگ کے تحت 40 مختلف ٹیمیں کام کر رہی ہوں گی اور آڈٹ کا کیس خودکار طریقے سے کسی بھی ٹیم کو منتقل ہو جائے گا۔ جس شہری کا آڈٹ ہو رہا ہوگا، اسے یہ علم نہیں ہوگا کہ اس کا کیس دیکھنے والی ٹیم ملک کے کس حصے میں بیٹھی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ ونگ خود سے کوئی ٹیکس لائبلٹی (ٹیکس کا بوجھ) کری ایٹ نہیں کرے گا، بلکہ یہ صرف آمدن اور ریٹرن کا تفاوت بتائے گا، جس کے بعد ٹیکس دہندہ کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ اس فرق کو درست کر لے۔
-
آن لائن سماعتیں اور اپیل کا حق: ممبر کمیٹی جاوید حنیف خان کے سوال پر چیئرمین ایف بی آر نے واضح کیا کہ ابتدائی آرڈر سمیت تمام سماعتیں سو فیصد آن لائن اور ای سماعت (E-Hearing) کی سہولت کے تحت ہوں گی۔ اگر ٹیکس دہندہ مطمئن نہ ہو تو اس کے پاس ایپلٹ ٹریبونل میں جانے کا قانونی آپشن برقرار رہے گا، تاہم فیس لیس آڈٹ ونگ کے پاس ٹریبونل میں جانے کا کوئی آپشن نہیں ہوگا۔
-
بین الاقوامی تجربات اور تربیت: ایف بی آر حکام نے بتایا کہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی یہ فیس لیس آڈٹ سسٹم آچکا ہے، لیکن وہاں آن لائن سماعت کا آپشن موجود نہیں تھا جبکہ پاکستان نے یہ سہولت بھی رکھی ہے۔ ہم نے دنیا کے دیگر ممالک کے تجربات سے سیکھ کر انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سسٹم کو چلانے کے لیے “پرال” (PRAL) کے ملازمین کو لمز (LUMS) یونیورسٹی سے مکمل ٹریننگ دلائی جا رہی ہے، جہاں سے اب تک 150 بچے ڈیٹا ویژولائزیشن میں گریجوایٹ ہو کر گریڈ 18 میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور جلد گریڈ 19 کے کورسز بھی شروع ہوں گے۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنے بین الاقوامی کیریئر کے دوران دو مختلف ممالک میں 18 سال تک مقیم رہا، لیکن ان 18 سالوں میں مجھے کبھی کسی ٹیکس آفس جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ وہاں بھی اسیسمنٹ اسی جدید ڈیجیٹل طریقے سے ہوتی ہے۔ وہاں ٹیکس آفس صرف اسی وقت حرکت میں آتا ہے جب ڈیٹا میں کہیں کوئی فرق یا تفاوت نظر آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو ملک میں فیز وائز (مرحلہ وار) متعارف کروائیں گے تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت مل سکے۔ انہوں نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس مرتبہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی تمام رقم بھی سو فیصد ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے ہی منتقل کی جائے گی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
دورانِ اجلاس کمیٹی ارکان کی جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ اور شدید تحفظات بھی سامنے آئے۔ ممبر کمیٹی جاوید حنیف خان نے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے 95 فیصد لوگ تو اس ڈیجیٹل سسٹم کو سمجھتے ہی نہیں ہیں، اس پر چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ ملک کے 93 فیصد ہاؤس ہولڈز تو اس فیس لیس نظام کے دائرے میں آئیں گے ہی نہیں؛ اس میں صرف وہی آئے گا جو ٹیکس دینے کے قابل ہے۔ جب ایف بی آر حکام نے کہا کہ اگر کوئی 10 کروڑ کا پلاٹ خریدے گا تو ہی ہم اسے بلائیں گے، تو جاوید حنیف نے لقمہ دیا کہ اگر کسی غیر تعلیم یافتہ شخص نے ایک کروڑ کی چیز لے لی تو کیا ہوگا؟ راشد لنگڑیال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وہ بھلے جاہل ہو لیکن سمجھدار ضرور ہے، تبھی تو اس نے ایک کروڑ روپے کما لیے ہیں، اور جس کے پاس ایک کروڑ روپے ہیں اس کے پاس موبائل تو لازمی ہوگا۔
جاوید حنیف خان نے مزید خدشہ ظاہر کیا کہ لگتا ہے اس سسٹم کے ذریعے لوگوں کو جکڑا جائے گا اور ان کے ساتھ چوروں کی طرح ٹریٹ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں لوگ مافیاز کے خلاف کام کرتے ہیں لیکن یہاں تو خود ایف بی آر ہی ایک مافیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے بھی ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ “مافیا کون ہے، مافیا تو ایف بی آر ہے”۔ اس سنگین جملے پر چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ “میں اس ادارے کا سربراہ ہوں، اس لیے اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا” تاہم ہم مافیاز کے خلاف سخت کارروائی کر رہے ہیں۔ وزیرِ خزانہ نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ملوں پر ایف بی آر کے فزیکل افسران بٹھانے کا تجربہ بالکل ٹھیک نہیں رہا، اسی لیے اب ڈیجیٹل سسٹم لا رہے ہیں۔
دوسری جانب ممبر کمیٹی شرمیلا فاروقی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہم اس سسٹم کے ذریعے ملک کو ایک “سرویلنس ریاست” (نگرانی کی ریاست) بنا رہے ہیں، جہاں شہریوں کا تمام نجی ڈیٹا ایف بی آر کو دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ کہیں اس خودکار سسٹم کی زد میں دوبارہ تنخواہ دار طبقہ ہی نہ آ جائے کیونکہ تنخواہ داروں کا تمام ڈیٹا پہلے ہی ایف بی آر کے پاس موجود ہے اور ہمیشہ سارا بوجھ ٹیکس دینے والے پر ہی آ گرتا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ اس نظام میں آڈٹ ایک آزاد تھرڈ پارٹی کے ذریعے کیا جائے گا تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
اجلاس کے آخر میں چیئرمین ایف بی آر نے بورڈ کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کسٹمز سائیڈ پر ہمارا ریونیو 19 فیصد بڑھا ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ دنیا بھر میں ریونیو اتھارٹیز کو چلانے کے لیے کل حاصل کردہ ریونیو کا 1 فیصد بجٹ دیا جاتا ہے، لیکن ایف بی آر کو آج بھی کل ریونیو کے 1 فیصد سے کم بجٹ پر چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار سیکریٹری خزانہ کی مہربانی ہے کہ انہوں نے ہمارا بجٹ بنایا، لیکن اس کے باوجود یہ ایک فیصد سے کم ہی ہے۔ راشد لنگڑیال نے تاریخی موازنہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران انتھک محنت سے ہم نے ملکی ریونیو میں 14 ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ کیا ہے، جبکہ ماضی میں اتنا 14 ارب ڈالر کا ریونیو بڑھانے میں پہلے 13 سال اور اس سے پہلے 23 سال کا طویل عرصہ لگا تھا۔
متعلقہ عنوانات
سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی
17 June 2026
انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل،
17 June 2026
خواجہ آصف بتائیں آٹھ فروری 2024کا الیکشن کیا ان کے ضمیر پر بوجھ نہیں ؟
17 June 2026
پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور
17 June 2026
محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق
17 June 2026
پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے
17 June 2026
سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی
17 June 2026
پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان
17 June 2026