LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری تاجر دوست آسان ٹیکس سکیم، رجسٹریشن کیلئے ایف بی آر کو اہداف مقرر مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ

تاریخ میں پہلی بار انسانی جلد کو جوان بنانے والی اینٹی ایجنگ تھراپی کا کامیاب تجربہ

Web Desk

13 June 2026

بوسٹن: میڈیکل سائنس اور جینیات (Genetics) کی دنیا میں ایک ایسی تاریخی اور سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے انسان کی طویل اور صحت مند عمر کے خواب کو حقیقت کے قریب تر کر دیا ہے۔ امریکی شہر بوسٹن میں قائم معروف بائیوٹیک کمپنی ’لائف بائیوسائنسز‘ (Life Biosciences) نے باقاعدہ طور پر دنیا کے پہلے انسانی کلینیکل ٹرائل میں ایک رضاکار کو کامیابی کے ساتھ جدید ‘اینٹی ایجنگ جین تھراپی’ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ تجرباتی علاج روایتی دواؤں سے بالکل مختلف ہے اور خلیات (Cells) کے اندر موجود بڑھاپے کے اثرات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے:

 اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے بوڑھے اور ناکارہ ہو جانے والے خلیات کو جینیاتی طور پر دوبارہ اس طرح پروگرام کیا جاتا ہے کہ وہ بالکل ایک جوان خلیے کی طرح برتاؤ کرنے لگتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں انسانی جسم کے اعضاء کے خلیات اپنی پرانی توانائی اور بہتر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں۔

 “تحقیق کے اس ابتدائی مرحلے میں سائنسدانوں نے اس تھراپی کو آنکھوں کی پیچیدہ بیماریوں، بالخصوص کالا موتیا (Glaucoma) اور بصارت سے جڑے دیگر اعصابی مسائل کے علاج کے لیے منتخب کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تھراپی آنکھ کے خراب اور مردہ ہو چکے خلیات کو دوبارہ فعال بنا کر بینائی بچانے یا اسے واپس لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے”۔

یہ جینیاتی علاج ایک انتہائی پیچیدہ حیاتیاتی فارمولے کے تحت کام کرتا ہے تھراپی میں مخصوص جینیاتی عوامل استعمال کیے جاتے ہیں جو نوبل انعام یافتہ سائنس کی بنیاد پر خلیات کی عمر کا تعین کرتے ہیں۔ یہ فیکٹرز خلیات کے اندر موجود عمر کے حیاتیاتی نظام یا ’ایپی جینیٹک‘ (Epigenetic) سیٹنگز کو مکمل طور پر ری سیٹ کر دیتے ہیں، جس سے خلیہ اپنی جوان حالت کی طرف واپس لوٹ جاتا ہے۔ کسی بھی ممکنہ سائیڈ ایفیکٹ یا جینیاتی خطرے سے بچنے کے لیے اس تھراپی میں دوا کو کنٹرول کرنے کا ایک جدید ترین خودکار نظام (Regulatory Mechanism) بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ خلیات کی تبدیلی حد سے تجاوز نہ کرے۔

اگرچہ یہ طبی آزمائش ابھی اپنے بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کا بنیادی مقصد انسانی جسم پر اس کے محفوظ ہونے کے اثرات کا جائزہ لینا ہے، لیکن ماہرین پرامید ہیں کہ اس کی کامیابی مستقبل میں بڑھاپے سے جڑی تمام بڑی بیماریوں کا علاج ممکن بنا دے گی، جس سے نہ صرف انسانی اوسط عمر بلکہ ‘صحت مند عمر’ (Healthspan) میں بھی انقلابی اضافہ ہو سکے گا