LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار معاشی وسائل صوبوں کا حق، این ایف سی میں بلوچستان کا حصہ سو فیصد بڑھا دیا: وزیراعظم سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی البینزم سے متاثرہ افراد کے لیے محبت اور احترام کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا،مریم نواز سکیورٹی فورسز کی میران شاہ میں کارروائیاں، مزید 21 دہشت گرد ہلاک قیام امن اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فیڈرل کانسٹیبلری کا کردار اہم ہے، محسن نقوی خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہنگامی اجلاس، صوبائی حقوق کے تحفظ کیلئے حکمتِ عملی

تاریخ میں پہلی بار انسانی جلد کو جوان بنانے والی اینٹی ایجنگ تھراپی کا کامیاب تجربہ

Web Desk

13 June 2026

بوسٹن: میڈیکل سائنس اور جینیات (Genetics) کی دنیا میں ایک ایسی تاریخی اور سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے انسان کی طویل اور صحت مند عمر کے خواب کو حقیقت کے قریب تر کر دیا ہے۔ امریکی شہر بوسٹن میں قائم معروف بائیوٹیک کمپنی ’لائف بائیوسائنسز‘ (Life Biosciences) نے باقاعدہ طور پر دنیا کے پہلے انسانی کلینیکل ٹرائل میں ایک رضاکار کو کامیابی کے ساتھ جدید ‘اینٹی ایجنگ جین تھراپی’ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ تجرباتی علاج روایتی دواؤں سے بالکل مختلف ہے اور خلیات (Cells) کے اندر موجود بڑھاپے کے اثرات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے:

 اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے بوڑھے اور ناکارہ ہو جانے والے خلیات کو جینیاتی طور پر دوبارہ اس طرح پروگرام کیا جاتا ہے کہ وہ بالکل ایک جوان خلیے کی طرح برتاؤ کرنے لگتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں انسانی جسم کے اعضاء کے خلیات اپنی پرانی توانائی اور بہتر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں۔

 “تحقیق کے اس ابتدائی مرحلے میں سائنسدانوں نے اس تھراپی کو آنکھوں کی پیچیدہ بیماریوں، بالخصوص کالا موتیا (Glaucoma) اور بصارت سے جڑے دیگر اعصابی مسائل کے علاج کے لیے منتخب کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تھراپی آنکھ کے خراب اور مردہ ہو چکے خلیات کو دوبارہ فعال بنا کر بینائی بچانے یا اسے واپس لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے”۔

یہ جینیاتی علاج ایک انتہائی پیچیدہ حیاتیاتی فارمولے کے تحت کام کرتا ہے تھراپی میں مخصوص جینیاتی عوامل استعمال کیے جاتے ہیں جو نوبل انعام یافتہ سائنس کی بنیاد پر خلیات کی عمر کا تعین کرتے ہیں۔ یہ فیکٹرز خلیات کے اندر موجود عمر کے حیاتیاتی نظام یا ’ایپی جینیٹک‘ (Epigenetic) سیٹنگز کو مکمل طور پر ری سیٹ کر دیتے ہیں، جس سے خلیہ اپنی جوان حالت کی طرف واپس لوٹ جاتا ہے۔ کسی بھی ممکنہ سائیڈ ایفیکٹ یا جینیاتی خطرے سے بچنے کے لیے اس تھراپی میں دوا کو کنٹرول کرنے کا ایک جدید ترین خودکار نظام (Regulatory Mechanism) بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ خلیات کی تبدیلی حد سے تجاوز نہ کرے۔

اگرچہ یہ طبی آزمائش ابھی اپنے بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کا بنیادی مقصد انسانی جسم پر اس کے محفوظ ہونے کے اثرات کا جائزہ لینا ہے، لیکن ماہرین پرامید ہیں کہ اس کی کامیابی مستقبل میں بڑھاپے سے جڑی تمام بڑی بیماریوں کا علاج ممکن بنا دے گی، جس سے نہ صرف انسانی اوسط عمر بلکہ ‘صحت مند عمر’ (Healthspan) میں بھی انقلابی اضافہ ہو سکے گا