LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ بلوچستان گرینڈ الائنس کا مطالبات کے حق میں اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کا مقام تبدیل ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا، ابراہیم عزیزی سندھ اور بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا معاہدے کے تحت ایران کو فوری طور پر تیل فروخت کی اجازت دی جائے گی، امریکی اخبار برطانوی پارلیمنٹ کا جنگ بندی کیلئے سفارتی کامیابی پر پاکستان کو زبردست خراج تحسین امریکی دباؤ نظر انداز: اسرائیل کی جنوبی لبنان میں بمباری، 4 افراد شہید ایم او یو میں واضح کہا ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا: ٹرمپ

مائیگرین کی دوا حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق

Web Desk

15 June 2026

ایک جدید طبی تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ آدھے سر کے درد (مائیگرین) کے علاج اور روک تھام کے لیے استعمال ہونے والی ایک مقبول دوا حمل کے ابتدائی مہینوں میں اسقاطِ حمل (حمل ضائع ہونے) کے خطرات کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے۔ کیلسیٹونِن جین-ریلیٹڈ پیپٹائیڈ ($CGRP$) مونو کلونل اینٹی باڈیز کہلانے والی یہ جدید ادویات انجکشن کی صورت میں مریضوں کو دی جاتی ہیں اور یہ مائیگرین کے تقریباً 50 فیصد مریضوں میں شدید درد کے حملوں کو روکنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے طبی حلقوں میں انہیں مائیگرین کی ‘ونڈر ڈرگ’ یا جادوئی دوا بھی مانا جاتا ہے۔

امریکن ہیڈ ایک سوسائٹی کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی جانے والی اس تحقیق کے چونکا دینے والے نتائج کے مطابق، اگر کوئی خاتون حمل کے بالکل ابتدائی مرحلے میں ان $CGRP$ ادویات کا استعمال جاری رکھتی ہے تو اس میں حمل ضائع ہونے کا خدشہ 45 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے 15 سے 45 سال کی عمر کی 7,119 ایسی خواتین کے طبی ڈیٹا اور ان کے 7,579 حمل کے کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا جنہیں حاملہ ہونے سے پہلے ہی مائیگرین کا عارضہ لاحق تھا۔

محققین نے مطالعے کو مزید شفاف بنانے کے لیے خواتین کو تین مختلف گروپوں میں تقسیم کیا؛ پہلے گروپ میں وہ خواتین شامل تھیں جو مائیگرین کے لیے $CGRP$ مونوکلونل اینٹی باڈی انجکشن لگوا رہی تھیں، دوسرے گروپ میں مائیگرین کی روایتی دوا ‘پروپرینولول’ استعمال کرنے والی خواتین تھیں، جبکہ تیسرے گروپ میں وہ مریضہ خواتین تھیں جو سر درد کے لیے کوئی بھی دوا استعمال نہیں کر رہی تھیں۔

نتائج کے تفصیلی تجزیے سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ حمل کے 8 سے 12 ہفتوں کے انتہائی حساس دورانیے کے دوران جن خواتین نے $CGRP$ انجکشن کا استعمال کیا، ان میں حمل ضائع ہونے کی شرح دیگر دونوں گروپوں کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پروپرینولول استعمال کرنے والی خواتین میں حمل ضائع ہونے کی شرح محض 2 فیصد کے قریب تھی، جبکہ اس کے برعکس جدید $CGRP$ ادویات لینے والی خواتین میں یہ شرح خطرناک حد تک بڑھ کر 5 فیصد تک پہنچ گئی، جو حاملہ خواتین کے لیے مائیگرین کی ادویات کے انتخاب میں شدید احتیاط برتنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔