LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا

مائیگرین کی دوا حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق

Web Desk

15 June 2026

ایک جدید طبی تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ آدھے سر کے درد (مائیگرین) کے علاج اور روک تھام کے لیے استعمال ہونے والی ایک مقبول دوا حمل کے ابتدائی مہینوں میں اسقاطِ حمل (حمل ضائع ہونے) کے خطرات کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے۔ کیلسیٹونِن جین-ریلیٹڈ پیپٹائیڈ ($CGRP$) مونو کلونل اینٹی باڈیز کہلانے والی یہ جدید ادویات انجکشن کی صورت میں مریضوں کو دی جاتی ہیں اور یہ مائیگرین کے تقریباً 50 فیصد مریضوں میں شدید درد کے حملوں کو روکنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے طبی حلقوں میں انہیں مائیگرین کی ‘ونڈر ڈرگ’ یا جادوئی دوا بھی مانا جاتا ہے۔

امریکن ہیڈ ایک سوسائٹی کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی جانے والی اس تحقیق کے چونکا دینے والے نتائج کے مطابق، اگر کوئی خاتون حمل کے بالکل ابتدائی مرحلے میں ان $CGRP$ ادویات کا استعمال جاری رکھتی ہے تو اس میں حمل ضائع ہونے کا خدشہ 45 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے 15 سے 45 سال کی عمر کی 7,119 ایسی خواتین کے طبی ڈیٹا اور ان کے 7,579 حمل کے کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا جنہیں حاملہ ہونے سے پہلے ہی مائیگرین کا عارضہ لاحق تھا۔

محققین نے مطالعے کو مزید شفاف بنانے کے لیے خواتین کو تین مختلف گروپوں میں تقسیم کیا؛ پہلے گروپ میں وہ خواتین شامل تھیں جو مائیگرین کے لیے $CGRP$ مونوکلونل اینٹی باڈی انجکشن لگوا رہی تھیں، دوسرے گروپ میں مائیگرین کی روایتی دوا ‘پروپرینولول’ استعمال کرنے والی خواتین تھیں، جبکہ تیسرے گروپ میں وہ مریضہ خواتین تھیں جو سر درد کے لیے کوئی بھی دوا استعمال نہیں کر رہی تھیں۔

نتائج کے تفصیلی تجزیے سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ حمل کے 8 سے 12 ہفتوں کے انتہائی حساس دورانیے کے دوران جن خواتین نے $CGRP$ انجکشن کا استعمال کیا، ان میں حمل ضائع ہونے کی شرح دیگر دونوں گروپوں کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پروپرینولول استعمال کرنے والی خواتین میں حمل ضائع ہونے کی شرح محض 2 فیصد کے قریب تھی، جبکہ اس کے برعکس جدید $CGRP$ ادویات لینے والی خواتین میں یہ شرح خطرناک حد تک بڑھ کر 5 فیصد تک پہنچ گئی، جو حاملہ خواتین کے لیے مائیگرین کی ادویات کے انتخاب میں شدید احتیاط برتنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔