LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کراچی کا یونیورسٹی روڈ 15 ستمبر تک 100 فیصد مکمل ہو جائے گا: شرجیل میمن پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر وزیراعظم کا نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ، ایف پی آئی ایف ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی صدر زرداری سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج نرسنگ ڈے منایا جارہا ہے

Web Desk

12 May 2026

دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں بھی نرسوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد نرسنگ کے شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور انسانیت کی خدمت میں مصروف نرسز کی بے لوث خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ شعبہ صحت میں نرسنگ کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، تاہم پاکستان میں یہ شعبہ اس وقت افرادی قوت کی شدید کمی کا شکار ہے۔انٹرنیشنل کونسل آف نرسز کے زیرِ اہتمام یہ دن ہر سال 12 مئی کو جدید نرسنگ کی بانی فلورنس نائٹن گیل کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو باقاعدہ منانے کا آغاز 1965 میں ہوا تھا۔ پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کی بنیاد 1949 میں بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی تھی، جس نے ملک میں خواتین کے لیے اس معزز پیشے کے راستے کھولے۔ مختلف طبی رپورٹس کے مطابق پاکستان کو اس وقت مجموعی طور پر تقریباً 15 لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا ہے۔ ایک تشویشناک اندازے کے مطابق ملک میں 100 مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے صرف ایک نرس دستیاب ہے، جو بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ملک میں اس وقت 162 نرسنگ ادارے کام کر رہے ہیں، لیکن آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر یہ تعداد ناکافی ہے۔ نرسیں طویل ڈیوٹی اوقات، محدود سہولیات اور شدید ذہنی و جسمانی دباؤ کے باوجود فرنٹ لائن پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران نرسوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر جس طرح مریضوں کی خدمت کی، اسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ جب تک نرسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری اور نرسوں کے معاشی و سماجی حالات بہتر نہیں کیے جاتے، تب تک ملک میں صحت کے اہداف کا حصول مشکل رہے گا۔