LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا خلیجی جنگ میں لاپتہ افراد کی تلاش اور شناخت کا عمل تیز کرنے پر زور نیویارک میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب: مسئلۂ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں اور UN قراردادوں کے مطابق ناگزیر ہے سٹار لنک صارفین کی جاسوسی کا انکشاف، اسرائیلی ایڈ ٹیک کمپنی پر سنگین الزامات امارات میں مصنوعی ذہانت اور جدید فضائی ٹرانسپورٹ کے نئے منصوبوں پر بڑی پیشرفت حوثی ملیشیا کو شکست دینے کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، تہران میں ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج نرسنگ ڈے منایا جارہا ہے

Web Desk

12 May 2026

دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں بھی نرسوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد نرسنگ کے شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور انسانیت کی خدمت میں مصروف نرسز کی بے لوث خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ شعبہ صحت میں نرسنگ کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، تاہم پاکستان میں یہ شعبہ اس وقت افرادی قوت کی شدید کمی کا شکار ہے۔انٹرنیشنل کونسل آف نرسز کے زیرِ اہتمام یہ دن ہر سال 12 مئی کو جدید نرسنگ کی بانی فلورنس نائٹن گیل کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو باقاعدہ منانے کا آغاز 1965 میں ہوا تھا۔ پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کی بنیاد 1949 میں بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی تھی، جس نے ملک میں خواتین کے لیے اس معزز پیشے کے راستے کھولے۔ مختلف طبی رپورٹس کے مطابق پاکستان کو اس وقت مجموعی طور پر تقریباً 15 لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا ہے۔ ایک تشویشناک اندازے کے مطابق ملک میں 100 مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے صرف ایک نرس دستیاب ہے، جو بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ملک میں اس وقت 162 نرسنگ ادارے کام کر رہے ہیں، لیکن آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر یہ تعداد ناکافی ہے۔ نرسیں طویل ڈیوٹی اوقات، محدود سہولیات اور شدید ذہنی و جسمانی دباؤ کے باوجود فرنٹ لائن پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران نرسوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر جس طرح مریضوں کی خدمت کی، اسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ جب تک نرسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری اور نرسوں کے معاشی و سماجی حالات بہتر نہیں کیے جاتے، تب تک ملک میں صحت کے اہداف کا حصول مشکل رہے گا۔