LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان روس سے تیل اور گیس کی درآمد پر غور کر رہا ہے: فیصل نیاز ترمذی سانحہ 12 مئی کے شہدا کی قربانیاں لازوال ہیں: چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کا یومِ شہدا پر پیغام خواتین کیلئے محفوظ پنجاب میری اولین ترجیح ہے، مریم نواز امیر جماعت اسلامی کا مہنگائی کے خلاف تحریک اور ہڑتال کا اعلان: 15 مئی کو اسلام آباد میں بڑا احتجاج ہوگا لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں دھماکہ، خاتون سمیت 8 افراد شہید، کئی زخمی نئے بجٹ کی تیاری: آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا، معاشی اہداف اور ٹیکس تجاویز پر مذاکرات کل سے شروع ہوں گے اوپیک کی تیل کی پیداوار 26 سال کی کم ترین سطح پر آگئی وزیراعظم کا خوشحال گڑھ پل پر دہشت گردی ناکام بنانے والے شہید لیاقت کو خراجِ تحسین امریکی ٹی وی کی ایرانی طیاروں کی موجودگی کی خبر گمراہ کن ہے: دفتر خارجہ ملک بھر کے 79 اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا فیصلہ، پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت آغاز ہوگا ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل امریکی فضائیہ کے کارگو طیارے بیجنگ پہنچ گئے دوصوبے بدامنی کا گڑھ بن گئے، کیاہم صرف معرکہ حق کا جشن مناتے رہیں گے؟ مولانا فضل الرحمان راولپنڈی میں15روز کیلیے دفعہ 144نافذ، اڈیالہ اور اطراف کا علاقہ ریڈزون قرار ایک ہفتے میں عمران خان کا علاج اورملاقات نہ ہوئی توپارلیمنٹ نہیں چلنے دینگے، محموداچکزئی آبنائے ہرمزکھولنےکیلیےپروجیکٹ فریڈم وسیع پیمانے پر بحال کرسکتے ہیں، ٹرمپ 

امریکی ٹی وی کی ایرانی طیاروں کی موجودگی کی خبر گمراہ کن ہے: دفتر خارجہ

Web Desk

12 May 2026

ترجمان دفترِ خارجہ نے نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق غیر ملکی میڈیا (سی بی ایس نیوز) کی رپورٹ کو حقائق کے منافی، گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کی قیاس آرائیاں خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش ہیں۔
دفترِ خارجہ کی وضاحت کے اہم نکات:
سفارتی مقاصد: ترجمان نے واضح کیا کہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں ایران اور امریکہ کے متعدد طیارے پاکستان آئے۔ ان طیاروں کا مقصد مذاکراتی عمل سے وابستہ سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظامی اسٹاف کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا تھا۔
عارضی قیام: بعض طیارے اور معاون عملہ آئندہ کے مذاکراتی مراحل کے لیے عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہے ہیں۔ ان کا کسی بھی فوجی ہنگامی صورتحال یا خفیہ حفاظتی انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سفارتی روابط: اگرچہ باضابطہ مذاکرات کا تاحال دوبارہ آغاز نہیں ہوا، تاہم اعلیٰ سطح کے روابط جاری ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیرِ خارجہ کے دوروں کے لیے لاجسٹک اور انتظامی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
پاکستان کا کردار: ترجمان نے اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے ایک غیر جانبدار اور ذمہ دار سہولت کار رہا ہے جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور علاقائی امن کا فروغ ہے۔ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مکمل شفافیت کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا گیا ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے فروغ اور عالمی سلامتی کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔