LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ میں اہم ملاقاتیں، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال شہباز شریف اور ازبک صدر کی ملاقات، دوطرفہ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ترک مسلح افواج کے یوم فتح کی 104ویں سالگرہ، جی ایچ کیو راولپنڈی میں تقریب وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے: عالمی ثالثی عدالت نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کیخلاف جنگ میں دھکیلا: عباس عراقچی پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا اتحاد بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے: ترک وزیر خارجہ ایرانی حملے کی مذمت، یو اے ای کا جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان رات کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت خواہ ہیں: اویس لغاری قائمہ کمیٹی کا بیوروکریسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار، سی ڈی اے اور ڈی جی ہیلتھ کی کارکردگی پر برہمی سندھ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز نہ ہونے کا انکشاف خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ

امریکی ٹی وی کی ایرانی طیاروں کی موجودگی کی خبر گمراہ کن ہے: دفتر خارجہ

Web Desk

12 May 2026

ترجمان دفترِ خارجہ نے نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق غیر ملکی میڈیا (سی بی ایس نیوز) کی رپورٹ کو حقائق کے منافی، گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کی قیاس آرائیاں خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش ہیں۔
دفترِ خارجہ کی وضاحت کے اہم نکات:
سفارتی مقاصد: ترجمان نے واضح کیا کہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں ایران اور امریکہ کے متعدد طیارے پاکستان آئے۔ ان طیاروں کا مقصد مذاکراتی عمل سے وابستہ سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظامی اسٹاف کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا تھا۔
عارضی قیام: بعض طیارے اور معاون عملہ آئندہ کے مذاکراتی مراحل کے لیے عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہے ہیں۔ ان کا کسی بھی فوجی ہنگامی صورتحال یا خفیہ حفاظتی انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سفارتی روابط: اگرچہ باضابطہ مذاکرات کا تاحال دوبارہ آغاز نہیں ہوا، تاہم اعلیٰ سطح کے روابط جاری ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیرِ خارجہ کے دوروں کے لیے لاجسٹک اور انتظامی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
پاکستان کا کردار: ترجمان نے اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے ایک غیر جانبدار اور ذمہ دار سہولت کار رہا ہے جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور علاقائی امن کا فروغ ہے۔ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مکمل شفافیت کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا گیا ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے فروغ اور عالمی سلامتی کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔