LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت سندھ طاس معاہدہ بحال کرے، پانی کو بطور ہتھیار بنانا قوانین کی خلاف ورزی ہے: اسحاق ڈار ظہران ممدانی کا ارجنٹینا و مصر کے میچ میں متنازع فیصلوں پر ردِعمل ستھرا پنجاب پراجیکٹ: مالی بد عنوانی اور ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی متعدد شکایات لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانے بحال، ویزا سروسز کا آغاز یورپی یونین پاکستان کا مضبوط تجارتی شراکت دار ہے: اسحاق ڈار بہتر کارکردگی سے میری ٹائم سیکٹر میں پاکستان کا درجہ 30 فیصد بلند ہوا: افتخار احمد راؤ وزیراعظم سے کروشین وزیر خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق حکومتِ پنجاب اور امریکن قونصلیٹ لاہور کا کلچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم اجلاس، اقتصادی سفارت کاری اور فعال خارجہ پالیسی کو وقت کی ضرورت قرار دے دیا ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ: مالی سال 26ء میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41.6 ارب ڈالر وطن بھیج دیے حکومت کا رواں مالی سال سے ہائبرڈ سکوک بانڈز کے اجرا کا فیصلہ محکمہ ایکسائز کا 25 ارب 43 کروڑ روپے کا ریکارڈ ریونیو جمع آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی: باقر قالیباف کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس سروس معطل محسن نقوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

نئے بجٹ کی تیاری: آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا، معاشی اہداف اور ٹیکس تجاویز پر مذاکرات کل سے شروع ہوں گے

Web Desk

12 May 2026

آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد آج پاکستان پہنچ رہا ہے، جس کے ساتھ باضابطہ مشاورت کا آغاز کل سے ہوگا۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق، نیا بجٹ آئی ایم ایف کی سفارشات اور قریبی مشاورت کی روشنی میں تیار کیا جائے گا، جس کے لیے مذاکرات کا یہ سلسلہ ایک ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس اہم دورے کے دوران آئی ایم ایف مشن نئے مالی سال کے لیے ٹیکس اہداف، معاشی اہداف اور ترقیاتی اخراجات کی تجاویز کو حتمی شکل دینے میں تعاون کرے گا۔ مذاکرات میں مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے، حکومتی اخراجات میں کمی اور بجٹ میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد ایک ایسا متوازن معاشی فریم ورک تیار کرنا ہے جو آئی ایم ایف کے پروگرام کی شرائط کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کے استحکام میں بھی معاون ثابت ہو۔