دوصوبے بدامنی کا گڑھ بن گئے، کیاہم صرف معرکہ حق کا جشن مناتے رہیں گے؟ مولانا فضل الرحمان
Web Desk
11 May 2026
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ دو صوبے بدامنی کا گڑھ بن چکے ہیں کیا ہم صرف معرکہ حق کا جشن مناتے رہیں گے اور لوگوں کو مرتے رہنے کے لیے چھوڑ دیں گے؟
قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ہماری گفتگو قوم کو براہ راست نہیں سنائی جارہی ، اپوزیشن ارکان کی آواز اس ایوان سے باہر نہیں جانے نہیں دی جارہی۔
انہوں نے کہا کہ میری جماعت کے ارکان قومی اسمبلی مولانا معراج الدین، مولانا نور محمد اور مولانا ادریس سمیت کتنے ہی شہید ہوچکے ہیں، ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں جس کی ہمیں سزا دی جارہی ہے، باجوڑ میں ہم نے 80 جنازے ایک جلسے میں اٹھائے، پندرہ بیس سال سے آپریشن ہورہا ہے جو مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔کے مترادف ہے۔۔۔
مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ آبنائے ہرمز سب کے لیے بند ہے مگر تیل سب سے مہنگا پاکستان میں ہی کیوں ہے؟ بھارت کے بھی جہاز رکے ہوئے ہیں مگر وہاں تو تیل مہنگا نہیں ہوا، باقی ملکوں میں تیل مہنگا نہیں ہوا، اس ایوان کا ان کیمرہ اجلاس کیوں نہیں بلایا جارہا ہے اس ایوان کے فیصلے بڑے محلات میں ہوتے ہیں اس ایوان میں نہیں، شہباز شریف کہنے کو وزیر اعظم ہیں مگر صرف ترامیم لانے کے لیے ہیں، پہلے ناجائز ترامیم کی گئیں اب ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے کہتا ہوں کہ اٹھارہویں ترمیم آپ کے دور میں ہوئی تھی، پی پی پی بتائے رفتہ رفتہ اٹھارہویں ترمیم رول بیک ہونے میں کیوں حصہ بن رہی ہے؟ ذوالفقار علی بھٹو نے سب کو ساتھ لے کر آئین بنایا، آج آئین غیر محفوظ ہوچکا ہے، پی پی کا ڈھیلا ڈھالا کردار بھٹو کی روح کو تکلیف دے رہا ہے، آج پارلیمان ربڑ سٹیمپ بنتی چلی جارہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک ہفتہ پہلے بنوں اور وانا میں درجنوں پولیس اہلکار شہید کردئیے گئے، کیا ہم صرف معرکہ حق کے جشن مناتے رہیں گے اور لوگوں کو مرتے رہنے کے لیے چھوڑ دیں گے ، آج میرے علاقوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، آج مساجد اور بیٹھک، سب جگہ مسلح لوگ بیٹھ چکے ہیں، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
سربراہ جے یوآئی نے کہاکہ ہمارے ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر کچھ عمل نہیں کیا جارہا، سود کے خاتمے کی ترمیم کی گئی مگر اس طرف ذرا برابر کام نہیں ہورہا، مدارس کے سوا ہر چیز کو حکومت نجکاری کرنا چاہتی ہے، حکومت مدارس پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اور مرکز قانون سازی برائے مدارس کرچکا ہے بس صوبے وہی قانون سازی نہیں کررہے ہیں۔حکومتی رویوں کی وجہ سے جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، اپوزیشن کھڑی ہے ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا
5 June 2026
پُرامن دنیا کی جانب بڑھنے کے لیے سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے: محسن نقوی
5 June 2026
وزیر اعظم نے کمرشل کورٹس کے قیام کیلئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی
5 June 2026
فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر بڑا حادثہ؛ مسافروں کی بورڈنگ کے دوران برانڈ نیو بوئنگ طیارے کا نوز گیئر گر گیا
5 June 2026
وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے اہم ملاقات
5 June 2026
پاکستانی معیشت کے لیے بڑی کامیابی؛ مئی 2026 میں تجارتی خسارے میں 39 فیصد کی نمایاں کمی،
5 June 2026
انمول عرف پنکی سے رابطوں پر سی ٹی ڈی کے 2 اہلکار ملازمت سے برخاست
5 June 2026
سکیورٹی فورسز کا بلوچستان کے ضلع پنجگور میں آپریشن،6 خارجی ہلاک
5 June 2026