LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور توہینِ عدالت کیس کی سماعت، پارٹی سے موقف طلب

پیٹرول بحران کے باعث بینک ملازم نے سواری کا انوکھا طریقہ اختیار کر لیا

Web Desk

1 April 2026

دیواس (بھارت): ایندھن کے بحران نے جہاں عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے، وہیں کچھ لوگ اس کا دلچسپ حل بھی نکال رہے ہیں۔ بھارتی شہر دیواس میں پیٹرول پمپس پر لگی میلوں لمبی قطاروں اور پیٹرول کی عدم دستیابی نے ایک بینک ملازم گوال ٹھاکر کو غیر روایتی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔

گوال ٹھاکر، جو روزانہ اپنی موٹر سائیکل پر دفتر جاتے تھے، پیٹرول نہ ملنے کے باعث وقت پر ڈیوٹی پہنچنے کے لیے پریشان تھے۔ انہوں نے موٹر سائیکل کے متبادل کے طور پر گھوڑے کا انتخاب کیا اور اسے چلا کر سڑکوں کے درمیان سے ہوتے ہوئے اپنے بینک پہنچ گئے۔ وائرل ویڈیو میں انہیں باقاعدہ آفس بیگ لٹکائے گھوڑے پر سوار دیکھا جا سکتا ہے، جس نے راہگیروں کو بھی حیران کر دیا۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صارفین کی بڑی تعداد نے اسے موجودہ دور کے ایندھن بحران کی سنگین عکاسی قرار دیا ہے، جبکہ کچھ نے اسے ایک “ایکو فرینڈلی” اور عملی حل کہہ کر سراہا ہے۔ گوال ٹھاکر کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قلت نے نقل و حرکت ناممکن بنا دی تھی، اس لیے انہوں نے یہ طریقہ اپنایا تاکہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں رکاوٹ نہ آئے۔