LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات

سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی

Web Desk

13 June 2026

اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل (SJC) نے سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت اور ملک بھر کی ہائی کورٹس کے ججز کے لیے وضع کردہ ‘ضابطۂ اخلاق’ (Code of Conduct) میں انتہائی اہم اور دوررس ترامیم کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ کونسل کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، ان ترامیم کا مقصد عدالتی نظام کو جدید انتظامی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا اور ججز کے خلاف شکایات کے طریقۂ کار کو مزید تیز بنانا ہے۔

منظور شدہ ترمیم شدہ ضابطۂ اخلاق اور نئے قواعد و ضوابط کی تفصیلی رپورٹ

نئے نوٹیفکیشن کے تحت ضابطۂ اخلاق کے متن میں باقاعدہ طور پر ‘وفاقی آئینی عدالت’ کا نام اور حوالہ شامل کر دیا گیا ہے۔اس بڑی آئینی ترمیم کے بعد اب یہ ضابطۂ اخلاق سپریم کورٹ اور صوبائی ہائی کورٹس کے ساتھ ساتھ وفاقی آئینی عدالت کے ججز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

 ترمیم شدہ ضابطۂ اخلاق کے تحت ججز کی مختلف سماجی (Social) اور ثقافتی (Cultural) تقریبات میں شرکت پر عائد دیرینہ پابندی کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ضابطۂ اخلاق کی شق 12 (Article 12) میں کی جانے والی اس اہم ترین ترمیم کے مطابق، اب ججز سیاسی اور بین الاقوامی سفارتی (Diplomatic) تقاریب میں بھی شرکت کر سکیں گے۔ تاہم، اس کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ جج کو تقریب میں جانے سے پہلے اپنے متعلقہ چیف جسٹس سے باقاعدہ پیشگی اجازت (Prior Permission) لینا لازمی ہوگا، بغیر اجازت ایسی تقریبات میں شرکت نظم و ضبط کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔

 کونسل نے ہائی کورٹس کے ججز کے خلاف موصول ہونے والی شکایات، مس کنڈکٹ کی رپورٹس اور انکوائری کے دائرۂ کار کو انتہائی تیز اور منظم کر دیا ہے، 

 کسی بھی ہائی کورٹ کے جج سے متعلق جیسے ہی کوئی باقاعدہ رپورٹ یا شکایت موصول ہوگی، تو متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پابند ہوں گے کہ وہ 2 دن کے اندر اندر اس معاملے پر ہائی کورٹ کے 3 ججز پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دیں۔ یہ تشکیل شدہ کمیٹی ہر صورت 2 ہفتوں (14 دن) کے اندر اپنی تمام تر انکوائری اور کارروائی مکمل کر کے حتمی فیصلہ سنانے کی قانونی طور پر پابند ہوگی۔اگر کسی وجہ سے ہائی کورٹ کی یہ کمیٹی مقررہ وقت میں معاملہ نمٹانے میں ناکام رہتی ہے، تو وہ کیس خود بخود مزید قانونی کارروائی اور حتمی فیصلے کے لیے سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کو منتقل (ریفر) کر دیا جائے گا۔