LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دینے جا رہے ہیں: مصطفیٰ کمال

Web Desk

11 June 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں موروثی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک انقلابی اور تاریخی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے تھیلیسیمیا ٹیسٹ (Thalassemia Screening) لازمی قرار دینے جا رہی ہے۔ اسلام آباد میں جینیٹک پالیسی کے حوالے سے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک کی پہلی جامع جینیٹک پالیسی آئندہ ایک ماہ کے اندر باقاعدہ متعارف کرا دی جائے گی۔

وفاقی وزیرِ صحت نے ملکی آبادی اور نظامِ صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی پاکستان سال 2030 تک دنیا کی چوتھی بڑی آبادی والا ملک بننے جا رہا ہے۔ موجودہ معاشی مشکلات کے باعث بڑھتے ہوئے امراض کا بوجھ برداشت کرنا اب ریاست کے لیے ممکن نہیں رہا۔ اگر اب بھی مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان مختلف جینیاتی بیماریوں کے پھیلاؤ میں سرفہرست ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔ملک کے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال اس وقت کسی وبائی کیفیت کا منظر پیش کر رہی ہے، حالانکہ گراؤنڈ پر کوئی مخصوص وبا موجود نہیں۔ ہمارا موجودہ نظامِ صحت صرف بیماریوں کے علاج پر مرکوز ہے، جبکہ توجہ بیماریوں کی روک تھام (Prevention) پر ہونی چاہیے۔ صحت کا شعبہ اب محض ایک عوامی مسئلہ نہیں بلکہ باقاعدہ قومی سلامتی کا معاملہ بن چکا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت اب ہیلتھ کیئر کے جدید ماڈل اور جینیوم پروفائلنگ (Genome Profiling) کی طرف بڑھنا چاہتی ہے تاکہ موروثی، جینیاتی اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی بروقت تشخیص اور مستقل روک تھام کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ملک بھر میں جدید اسکریننگ سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مالیاتی بوجھ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں جینیاتی اور موروثی بیماریوں کے علاج اور تشخیصی عمل پر سالانہ 200 سے 300 ارب روپے کے خطیر فنڈز خرچ ہوتے ہیں۔ مزید برآں، اس وقت پاکستانی شہریوں کو لاکھوں روپے خرچ کر کے بیرونِ ملک سے مہنگے جینیٹک ٹیسٹ کروانے پڑتے ہیں۔ نئی جینیٹک پالیسی کا بنیادی مقصد ان تمام جدید تشخیصی سہولیات کو پاکستان کے اندر ہی کم لاگت پر دستیاب بنانا ہے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے عوام کو سستی، معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔