LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی 27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری تاجر دوست آسان ٹیکس سکیم، رجسٹریشن کیلئے ایف بی آر کو اہداف مقرر مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان

شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دینے جا رہے ہیں: مصطفیٰ کمال

Web Desk

11 June 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں موروثی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک انقلابی اور تاریخی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے تھیلیسیمیا ٹیسٹ (Thalassemia Screening) لازمی قرار دینے جا رہی ہے۔ اسلام آباد میں جینیٹک پالیسی کے حوالے سے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک کی پہلی جامع جینیٹک پالیسی آئندہ ایک ماہ کے اندر باقاعدہ متعارف کرا دی جائے گی۔

وفاقی وزیرِ صحت نے ملکی آبادی اور نظامِ صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی پاکستان سال 2030 تک دنیا کی چوتھی بڑی آبادی والا ملک بننے جا رہا ہے۔ موجودہ معاشی مشکلات کے باعث بڑھتے ہوئے امراض کا بوجھ برداشت کرنا اب ریاست کے لیے ممکن نہیں رہا۔ اگر اب بھی مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان مختلف جینیاتی بیماریوں کے پھیلاؤ میں سرفہرست ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔ملک کے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال اس وقت کسی وبائی کیفیت کا منظر پیش کر رہی ہے، حالانکہ گراؤنڈ پر کوئی مخصوص وبا موجود نہیں۔ ہمارا موجودہ نظامِ صحت صرف بیماریوں کے علاج پر مرکوز ہے، جبکہ توجہ بیماریوں کی روک تھام (Prevention) پر ہونی چاہیے۔ صحت کا شعبہ اب محض ایک عوامی مسئلہ نہیں بلکہ باقاعدہ قومی سلامتی کا معاملہ بن چکا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت اب ہیلتھ کیئر کے جدید ماڈل اور جینیوم پروفائلنگ (Genome Profiling) کی طرف بڑھنا چاہتی ہے تاکہ موروثی، جینیاتی اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی بروقت تشخیص اور مستقل روک تھام کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ملک بھر میں جدید اسکریننگ سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مالیاتی بوجھ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں جینیاتی اور موروثی بیماریوں کے علاج اور تشخیصی عمل پر سالانہ 200 سے 300 ارب روپے کے خطیر فنڈز خرچ ہوتے ہیں۔ مزید برآں، اس وقت پاکستانی شہریوں کو لاکھوں روپے خرچ کر کے بیرونِ ملک سے مہنگے جینیٹک ٹیسٹ کروانے پڑتے ہیں۔ نئی جینیٹک پالیسی کا بنیادی مقصد ان تمام جدید تشخیصی سہولیات کو پاکستان کے اندر ہی کم لاگت پر دستیاب بنانا ہے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے عوام کو سستی، معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔