LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنا ختم نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمان

بلوچستان میں 23 ہڑتالی ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس

Web Desk

11 June 2026

کوئٹہ: صوبائی ہسپتالوں میں ہڑتال اور لازمی طبی خدمات کی بندش پر سخت ترین انتظامی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ صحت بلوچستان نے 23 ڈاکٹروں کو نوکریوں سے معطل جبکہ 25 ڈاکٹروں کو باقاعدہ شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ مزید برآں، ضابطے کی سنگین خلاف ورزی پر 5 ٹرینی ڈاکٹروں کی پوسٹ گریجویٹ تربیتی رجسٹریشن (PG Training Registration) بھی فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی شاہد رند نے اس سخت ترین ایکشن اور حکومتی مؤقف کے حوالے سے درج ذیل اہم تفصیلات سے آگاہ کیا:شاہد رند نے واضح کیا کہ معزز عدلیہ کے واضح احکامات کے تحت انسانی جانوں اور صحت سے متعلق حساس اداروں میں کسی بھی قسم کی ہڑتال، تالہ بندی یا خدمات کی بندش سراسر غیر قانونی اقدامات ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ:

“صحت کا شعبہ براہِ راست انسانی جانوں کے تحفظ سے وابستہ ہے، اس لیے عوامی مفاد کے خلاف کسی بھی اقدام یا سروس رولز (Service Rules) کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔” لازمی سروسز سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کو تادیبی کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صوبے کے تمام سرکاری صحت کے ادارے مکمل فعال اور کھلے رہیں گے۔ سینیئر ڈاکٹرز کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز کے پیشِ نظر حکومتِ بلوچستان نے ہسپتالوں اور صحت کے اداروں میں امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس کمیٹی میں صوبائی حکومت کے اعلیٰ افسران، سینیئر ڈاکٹرز، محکمہ صحت کے نمائندے اور سیکیورٹی حکام شامل ہوں گے۔وزیراعلیٰ کے معاون نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت ڈاکٹر برادری کے تمام جائز مسائل کے حل اور صوبے میں ہیلتھ کیئر سسٹم کی بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، تاہم قانون اور سروس رولز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہڑتال اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی سے جڑے تمام معاملات میں مکمل شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں گے اور ذمہ داروں کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔