LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت بجلی بلوں، پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر مسلسل بوجھ ڈال رہی ہے: حافظ نعیم الرحمان بلاول بھٹو زرداری کا آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں، 32 دہشت گرد ہلاک آزاد کشمیر الیکشن میں تاریخی اور بھیانک دھاندلی ہوئی, سابق وزیراعظم فلسطین پر اسرائیلی قبضے تک مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ممکن نہیں: پاکستان واشنگٹن میں نیتن یاہو کیخلاف احتجاج، اسرائیلی وزیراعظم کی گرفتاری کا مطالبہ شرپسند عناصر کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی: ترجمان آزاد کشمیر پولیس قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی نشستیں بڑھانے کیلئے درخواست دائر ایران نے چین سے سیکڑوں فضائی دفاعی میزائل خریدنے کا معاہدہ کر لیا، رائٹرز کا دعویٰ روزگار کیلئے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام کیا جائے: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے انتظام پر صرف ایران اور عمان کا حق ہے: سینئر ایرانی عہدیدار عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 2 ڈالرز سے زائد اضافہ مون سون کے نئے سپیل کی انٹری، لاہور سمیت جڑواں شہروں میں بادل برس پڑے پنجاب بھر سے غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلا کا عمل جاری جاپان میں 7.1 شدت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہوگئی، متعدد لاپتہ

بلوچستان میں 23 ہڑتالی ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس

Web Desk

11 June 2026

کوئٹہ: صوبائی ہسپتالوں میں ہڑتال اور لازمی طبی خدمات کی بندش پر سخت ترین انتظامی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ صحت بلوچستان نے 23 ڈاکٹروں کو نوکریوں سے معطل جبکہ 25 ڈاکٹروں کو باقاعدہ شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ مزید برآں، ضابطے کی سنگین خلاف ورزی پر 5 ٹرینی ڈاکٹروں کی پوسٹ گریجویٹ تربیتی رجسٹریشن (PG Training Registration) بھی فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی شاہد رند نے اس سخت ترین ایکشن اور حکومتی مؤقف کے حوالے سے درج ذیل اہم تفصیلات سے آگاہ کیا:شاہد رند نے واضح کیا کہ معزز عدلیہ کے واضح احکامات کے تحت انسانی جانوں اور صحت سے متعلق حساس اداروں میں کسی بھی قسم کی ہڑتال، تالہ بندی یا خدمات کی بندش سراسر غیر قانونی اقدامات ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ:

“صحت کا شعبہ براہِ راست انسانی جانوں کے تحفظ سے وابستہ ہے، اس لیے عوامی مفاد کے خلاف کسی بھی اقدام یا سروس رولز (Service Rules) کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔” لازمی سروسز سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کو تادیبی کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صوبے کے تمام سرکاری صحت کے ادارے مکمل فعال اور کھلے رہیں گے۔ سینیئر ڈاکٹرز کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز کے پیشِ نظر حکومتِ بلوچستان نے ہسپتالوں اور صحت کے اداروں میں امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس کمیٹی میں صوبائی حکومت کے اعلیٰ افسران، سینیئر ڈاکٹرز، محکمہ صحت کے نمائندے اور سیکیورٹی حکام شامل ہوں گے۔وزیراعلیٰ کے معاون نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت ڈاکٹر برادری کے تمام جائز مسائل کے حل اور صوبے میں ہیلتھ کیئر سسٹم کی بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، تاہم قانون اور سروس رولز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہڑتال اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی سے جڑے تمام معاملات میں مکمل شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں گے اور ذمہ داروں کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔