LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

بلوچستان میں 23 ہڑتالی ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس

Web Desk

11 June 2026

کوئٹہ: صوبائی ہسپتالوں میں ہڑتال اور لازمی طبی خدمات کی بندش پر سخت ترین انتظامی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ صحت بلوچستان نے 23 ڈاکٹروں کو نوکریوں سے معطل جبکہ 25 ڈاکٹروں کو باقاعدہ شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ مزید برآں، ضابطے کی سنگین خلاف ورزی پر 5 ٹرینی ڈاکٹروں کی پوسٹ گریجویٹ تربیتی رجسٹریشن (PG Training Registration) بھی فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی شاہد رند نے اس سخت ترین ایکشن اور حکومتی مؤقف کے حوالے سے درج ذیل اہم تفصیلات سے آگاہ کیا:شاہد رند نے واضح کیا کہ معزز عدلیہ کے واضح احکامات کے تحت انسانی جانوں اور صحت سے متعلق حساس اداروں میں کسی بھی قسم کی ہڑتال، تالہ بندی یا خدمات کی بندش سراسر غیر قانونی اقدامات ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ:

“صحت کا شعبہ براہِ راست انسانی جانوں کے تحفظ سے وابستہ ہے، اس لیے عوامی مفاد کے خلاف کسی بھی اقدام یا سروس رولز (Service Rules) کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔” لازمی سروسز سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کو تادیبی کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صوبے کے تمام سرکاری صحت کے ادارے مکمل فعال اور کھلے رہیں گے۔ سینیئر ڈاکٹرز کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز کے پیشِ نظر حکومتِ بلوچستان نے ہسپتالوں اور صحت کے اداروں میں امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس کمیٹی میں صوبائی حکومت کے اعلیٰ افسران، سینیئر ڈاکٹرز، محکمہ صحت کے نمائندے اور سیکیورٹی حکام شامل ہوں گے۔وزیراعلیٰ کے معاون نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت ڈاکٹر برادری کے تمام جائز مسائل کے حل اور صوبے میں ہیلتھ کیئر سسٹم کی بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، تاہم قانون اور سروس رولز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہڑتال اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی سے جڑے تمام معاملات میں مکمل شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں گے اور ذمہ داروں کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔