LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار معاشی وسائل صوبوں کا حق، این ایف سی میں بلوچستان کا حصہ سو فیصد بڑھا دیا: وزیراعظم سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی البینزم سے متاثرہ افراد کے لیے محبت اور احترام کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا،مریم نواز سکیورٹی فورسز کی میران شاہ میں کارروائیاں، مزید 21 دہشت گرد ہلاک قیام امن اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فیڈرل کانسٹیبلری کا کردار اہم ہے، محسن نقوی خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہنگامی اجلاس، صوبائی حقوق کے تحفظ کیلئے حکمتِ عملی

بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان

Web Desk

13 June 2026

اسلام آباد: آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ کے بعد روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

فنانس بل کے مطابق مختلف اشیاء کو تھرڈ شیڈول میں شامل کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے حکومت کو تقریباً 70 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوگی۔

مجوزہ تبدیلیوں کے تحت دودھ، ڈیری مصنوعات، مٹھائیاں، جام، جیلی، کیچپ، مصالحہ جات، خوردنی تیل، گھی، کراکری، ہیئر آئل، شیمپو، جوتے، پرفیوم، باڈی اسپرے، بیکری مصنوعات اور پلاسٹک کی گھریلو اشیاء سمیت سینیٹری مصنوعات بھی مہنگی ہو جائیں گی۔

اسی طرح سوٹ کیس، کیمرے، کچن ویئر، سفری بیگ، ای سگریٹ، زرعی ادویات اور جراثیم کش مصنوعات پر بھی ٹیکس کے نفاذ سے قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور محصولات میں اضافہ کرنا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں عام صارفین پر مہنگائی کا بوجھ بڑھنے کا امکان ہے۔