LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار معاشی وسائل صوبوں کا حق، این ایف سی میں بلوچستان کا حصہ سو فیصد بڑھا دیا: وزیراعظم سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی البینزم سے متاثرہ افراد کے لیے محبت اور احترام کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا،مریم نواز سکیورٹی فورسز کی میران شاہ میں کارروائیاں، مزید 21 دہشت گرد ہلاک قیام امن اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فیڈرل کانسٹیبلری کا کردار اہم ہے، محسن نقوی خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہنگامی اجلاس، صوبائی حقوق کے تحفظ کیلئے حکمتِ عملی

جوڑوں کے درد کی دوا الزائمرز بڑھنے کا سبب ہو سکتا ہے: تحقیق

Web Desk

13 June 2026

طبی ماہرین اور جوڑوں کے درد (Arthritis) میں مبتلا کروڑوں مریضوں کے لیے ایک تشویشناک اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ یونیورسٹی آف فلوریڈا کی ایک جدید ترین طبی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں جوڑوں کے درد اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کثرت سے استعمال کی جانے والی سپلیمنٹ دوا ‘گلوکوزامین’ (Glucosamine) ممکنہ طور پر الزائمر (یادداشت کے خاتمے) اور ڈیمنشیا کی رفتار کو غیر معمولی طور پر تیز کر سکتی ہے۔

معروف بین الاقوامی عسکری و طبی جریدے ’نیچر میٹابولزم‘ (Nature Metabolism) میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے چونکا دینے والے اعداد و شمار اور اثرات درج ذیل ہیںسائنسدانوں نے مطالعے کے دوران جوڑوں کی دوا استعمال کرنے والے مریضوں کے دماغی اسکینز اور ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کے بعد درج ذیل دو بڑے خطرات سامنے آئےمطالعے میں شریک وہ افراد جن میں عمر بڑھنے کے ساتھ یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں ابتدائی خرابی (Mild Cognitive Impairment) کے آثار پہلے سے موجود تھے، اگر وہ گلوکوزامین سپلیمنٹ مسلسل استعمال کر رہے تھے تو ان میں عام لوگوں کے مقابلے میں ڈیمنشیا (Dementia) میں مبتلا ہونے کا خطرہ 25 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔ تحقیق میں یہ دردناک پہلو بھی سامنے آیا کہ جو مریض پہلے ہی الزائمر یا اس سے متعلقہ دیگر دماغی و اعصابی بیماریوں کا شکار ہو چکے تھے، ان کے گلوکوزامین استعمال کرنے سے ان میں وقت سے پہلے موت کا خطرہ بھی 25 فیصد بڑھ گیا۔

 “امریکہ کی معروف نیورو سائیکولوجسٹ ڈاکٹر جیسیکا میکارتھی کا اس تحقیق پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ مطالعہ الزائمر کے حوالے سے میڈیکل سائنس کے پرانے نظریات کو بدل کر رکھ دے گا۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ الزائمر صرف دماغ میں امائلائیڈ پلاکس (Amyloid Plaques) اور ٹاؤ پروٹینز (Tau Proteins) کے جمع ہونے کا نام نہیں، بلکہ اس میں انسانی جسم کے میٹابولزم کی خرابی اور اندرونی سوزش (Inflammation) جیسے عوامل بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں”۔

طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ دوا جوڑوں کے لیے تو فائدہ مند ہو سکتی ہے لیکن دماغ کے لیے درج ذیل وجوہات کی بنا پر انتہائی مہلک ثابت ہو رہی ہے گلوکوزامین میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ یہ خون اور دماغ کے درمیان موجود قدرتی حفاظتی رکاوٹ کو آسانی سے عبور کر لیتی ہے۔ دماغ کے اندر داخل ہونے کے بعد یہ دوا وہاں پہلے سے موجود اور متحرک میٹابولک عمل کو غیر قدرتی طور پر مزید تیز (Overdrive) کر دیتی ہے۔اس غیر معمولی تیزی کے نتیجے میں جن بزرگوں میں ابتدائی ذہنی کمزوری ہوتی ہے، ان میں الزائمر کی بیماری انتہائی تیز رفتاری سے پھیلتی ہے اور اعصاب ناکارہ ہونے لگتے ہیں۔