جوڑوں کے درد کی دوا الزائمرز بڑھنے کا سبب ہو سکتا ہے: تحقیق
Web Desk
13 June 2026
طبی ماہرین اور جوڑوں کے درد (Arthritis) میں مبتلا کروڑوں مریضوں کے لیے ایک تشویشناک اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ یونیورسٹی آف فلوریڈا کی ایک جدید ترین طبی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں جوڑوں کے درد اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کثرت سے استعمال کی جانے والی سپلیمنٹ دوا ‘گلوکوزامین’ (Glucosamine) ممکنہ طور پر الزائمر (یادداشت کے خاتمے) اور ڈیمنشیا کی رفتار کو غیر معمولی طور پر تیز کر سکتی ہے۔
معروف بین الاقوامی عسکری و طبی جریدے ’نیچر میٹابولزم‘ (Nature Metabolism) میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے چونکا دینے والے اعداد و شمار اور اثرات درج ذیل ہیںسائنسدانوں نے مطالعے کے دوران جوڑوں کی دوا استعمال کرنے والے مریضوں کے دماغی اسکینز اور ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کے بعد درج ذیل دو بڑے خطرات سامنے آئےمطالعے میں شریک وہ افراد جن میں عمر بڑھنے کے ساتھ یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں ابتدائی خرابی (Mild Cognitive Impairment) کے آثار پہلے سے موجود تھے، اگر وہ گلوکوزامین سپلیمنٹ مسلسل استعمال کر رہے تھے تو ان میں عام لوگوں کے مقابلے میں ڈیمنشیا (Dementia) میں مبتلا ہونے کا خطرہ 25 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔ تحقیق میں یہ دردناک پہلو بھی سامنے آیا کہ جو مریض پہلے ہی الزائمر یا اس سے متعلقہ دیگر دماغی و اعصابی بیماریوں کا شکار ہو چکے تھے، ان کے گلوکوزامین استعمال کرنے سے ان میں وقت سے پہلے موت کا خطرہ بھی 25 فیصد بڑھ گیا۔
“امریکہ کی معروف نیورو سائیکولوجسٹ ڈاکٹر جیسیکا میکارتھی کا اس تحقیق پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ مطالعہ الزائمر کے حوالے سے میڈیکل سائنس کے پرانے نظریات کو بدل کر رکھ دے گا۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ الزائمر صرف دماغ میں امائلائیڈ پلاکس (Amyloid Plaques) اور ٹاؤ پروٹینز (Tau Proteins) کے جمع ہونے کا نام نہیں، بلکہ اس میں انسانی جسم کے میٹابولزم کی خرابی اور اندرونی سوزش (Inflammation) جیسے عوامل بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں”۔
طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ دوا جوڑوں کے لیے تو فائدہ مند ہو سکتی ہے لیکن دماغ کے لیے درج ذیل وجوہات کی بنا پر انتہائی مہلک ثابت ہو رہی ہے گلوکوزامین میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ یہ خون اور دماغ کے درمیان موجود قدرتی حفاظتی رکاوٹ کو آسانی سے عبور کر لیتی ہے۔ دماغ کے اندر داخل ہونے کے بعد یہ دوا وہاں پہلے سے موجود اور متحرک میٹابولک عمل کو غیر قدرتی طور پر مزید تیز (Overdrive) کر دیتی ہے۔اس غیر معمولی تیزی کے نتیجے میں جن بزرگوں میں ابتدائی ذہنی کمزوری ہوتی ہے، ان میں الزائمر کی بیماری انتہائی تیز رفتاری سے پھیلتی ہے اور اعصاب ناکارہ ہونے لگتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026
خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
15 September 2026
وزن کم کرنے والی ادویات کا خودکشی کے خیالات سے تعلق کا انکشاف
15 September 2026
خیبرپختونخوا: چکن گونیا کے کیسز میں اضافہ، نوشہرہ کے متعدد گاؤں متاثر
15 September 2026
ایڈز کے خاتمے کیلئے علاج کے ساتھ مؤثر آگاہی پر توجہ دینا ہو گی: مصطفیٰ کمال
14 September 2026
ہیلتھ ایشیا نمائش: شعبہ صحت میں عالمی تعاون اور جدت کا نیا سنگِ میل
14 September 2026