LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

جوڑوں کے درد کی دوا الزائمرز بڑھنے کا سبب ہو سکتا ہے: تحقیق

Web Desk

13 June 2026

طبی ماہرین اور جوڑوں کے درد (Arthritis) میں مبتلا کروڑوں مریضوں کے لیے ایک تشویشناک اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ یونیورسٹی آف فلوریڈا کی ایک جدید ترین طبی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں جوڑوں کے درد اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کثرت سے استعمال کی جانے والی سپلیمنٹ دوا ‘گلوکوزامین’ (Glucosamine) ممکنہ طور پر الزائمر (یادداشت کے خاتمے) اور ڈیمنشیا کی رفتار کو غیر معمولی طور پر تیز کر سکتی ہے۔

معروف بین الاقوامی عسکری و طبی جریدے ’نیچر میٹابولزم‘ (Nature Metabolism) میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے چونکا دینے والے اعداد و شمار اور اثرات درج ذیل ہیںسائنسدانوں نے مطالعے کے دوران جوڑوں کی دوا استعمال کرنے والے مریضوں کے دماغی اسکینز اور ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کے بعد درج ذیل دو بڑے خطرات سامنے آئےمطالعے میں شریک وہ افراد جن میں عمر بڑھنے کے ساتھ یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں ابتدائی خرابی (Mild Cognitive Impairment) کے آثار پہلے سے موجود تھے، اگر وہ گلوکوزامین سپلیمنٹ مسلسل استعمال کر رہے تھے تو ان میں عام لوگوں کے مقابلے میں ڈیمنشیا (Dementia) میں مبتلا ہونے کا خطرہ 25 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔ تحقیق میں یہ دردناک پہلو بھی سامنے آیا کہ جو مریض پہلے ہی الزائمر یا اس سے متعلقہ دیگر دماغی و اعصابی بیماریوں کا شکار ہو چکے تھے، ان کے گلوکوزامین استعمال کرنے سے ان میں وقت سے پہلے موت کا خطرہ بھی 25 فیصد بڑھ گیا۔

 “امریکہ کی معروف نیورو سائیکولوجسٹ ڈاکٹر جیسیکا میکارتھی کا اس تحقیق پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ مطالعہ الزائمر کے حوالے سے میڈیکل سائنس کے پرانے نظریات کو بدل کر رکھ دے گا۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ الزائمر صرف دماغ میں امائلائیڈ پلاکس (Amyloid Plaques) اور ٹاؤ پروٹینز (Tau Proteins) کے جمع ہونے کا نام نہیں، بلکہ اس میں انسانی جسم کے میٹابولزم کی خرابی اور اندرونی سوزش (Inflammation) جیسے عوامل بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں”۔

طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ دوا جوڑوں کے لیے تو فائدہ مند ہو سکتی ہے لیکن دماغ کے لیے درج ذیل وجوہات کی بنا پر انتہائی مہلک ثابت ہو رہی ہے گلوکوزامین میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ یہ خون اور دماغ کے درمیان موجود قدرتی حفاظتی رکاوٹ کو آسانی سے عبور کر لیتی ہے۔ دماغ کے اندر داخل ہونے کے بعد یہ دوا وہاں پہلے سے موجود اور متحرک میٹابولک عمل کو غیر قدرتی طور پر مزید تیز (Overdrive) کر دیتی ہے۔اس غیر معمولی تیزی کے نتیجے میں جن بزرگوں میں ابتدائی ذہنی کمزوری ہوتی ہے، ان میں الزائمر کی بیماری انتہائی تیز رفتاری سے پھیلتی ہے اور اعصاب ناکارہ ہونے لگتے ہیں۔