LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد خاتون رکن منتخب روس کے یوکرین میں مزید فضائی حملے، 17 افراد ہلاک، 40 زخمی دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن 9 ماہ بعد مشرق وسطیٰ سے روانہ عراق کا آبنائے ہرمز سے تیل برآمد کرنے کیلئے ایران سے خصوصی رعایت کا مطالبہ شام میں کرد انتظامیہ کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل مکمل فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی کی اسرائیلی آبادکاری منصوبے کی شدید مذمت نائیجیریا کے علاقے سوکوٹو میں کشتی حادثہ، 50 افراد ہلاک ایران کے ساتھ جنگ نئے مرحلے میں داخل ہوچکی: جے ڈی وینس جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں 6.7 شدت کا زلزلہ امریکا نے حزب اللہ کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا افغانستان میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے 2 اہلکار رہا ترکیہ، مصر اور قطر کی غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا بڑا اعلان؛ وفاق میں ‘صحت سہولت پروگرام’ کا دوبارہ آغاز

Web Desk

10 June 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران اعلان کیا ہے کہ کئی سالوں سے معطل “صحت سہولت پروگرام” کو وفاقی دارالحکومت میں دوبارہ مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس انقلابی اقدام پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوامی مفاد کی خاطر ہماری تجویز کو منظور کیا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ اسلام آباد کی آبادی اب 35 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، راولپنڈی اور دیگر نواحی علاقوں سے روزانہ ہزاروں مریض وفاق کے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سرکاری اور نجی ہسپتالوں پر شدید دباؤ اور رش کی شکایات عام تھیں۔ اس عوامی مسئلے کے مستقل حل کے لیے جڑواں شہروں (راولپنڈی اور اسلام آباد) کے 42 ہسپتالوں میں صحت سہولت پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران وزیرِ صحت نے ملکی ہیلتھ بجٹ اور کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے کچھ اہم حقائق سامنے رکھے وفاق اور صوبے مل کر صحت کے شعبے پر مجموعی طور پر 1 ہزار 156 ارب روپے خرچ کر رہے ہیں، لیکن اس بھاری بجٹ کے باوجود مریضوں کے مطمئن ہونے کی شرح 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے یونیورسل ہیلتھ کوریج پر ایک خصوصی اسٹڈی کروائی ہے، جس کے مطابق محض 210 ارب روپے کے منظم نظام سے یہ تمام بنیادی طبی سہولیات عوام کو دی جا سکتی ہیں، تاہم اس ماڈل کے لیے ملک میں 5 ہزار نئے ہسپتال بنانا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج ہی پاکستان کا مستقبل ہے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بہت پہلے سے اس نظام پر عمل پیرا ہیں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے پروگرام کی شفافیت پر سخت موقف اپناتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پینل پر موجود کسی بھی ہسپتال نے کسی قسم کی بدعنوانی، غفلت یا غلط کام کا مظاہرہ کیا، تو اسے فوری طور پر پروگرام سے ڈی لسٹ (خارج) کر دیا جائے گا۔ اس پروگرام کی بحالی سے اب لاکھوں شہریوں کو نجی ہسپتالوں سے بھی مفت اور معیاری علاج کی سہولت میسر آ سکے گی۔