LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ن لیگ خیراتی مینڈیٹ کی حکومت ہے، کشمیر میں ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: شرجیل انعام میمن کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ بند کی جائے: 27 جولائی کے الیکشن فراڈ تھے، بیرسٹر گوہر امریکی مفادات پر حملہ برداشت نہیں، ٹرمپ کا ایران کو سخت جواب دینے کا اعلان حکومت بجلی بلوں، پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر مسلسل بوجھ ڈال رہی ہے: حافظ نعیم الرحمان بلاول بھٹو زرداری کا آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں، 32 دہشت گرد ہلاک آزاد کشمیر الیکشن میں تاریخی اور بھیانک دھاندلی ہوئی, سابق وزیراعظم فلسطین پر اسرائیلی قبضے تک مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ممکن نہیں: پاکستان واشنگٹن میں نیتن یاہو کیخلاف احتجاج، اسرائیلی وزیراعظم کی گرفتاری کا مطالبہ شرپسند عناصر کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی: ترجمان آزاد کشمیر پولیس قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی نشستیں بڑھانے کیلئے درخواست دائر ایران نے چین سے سیکڑوں فضائی دفاعی میزائل خریدنے کا معاہدہ کر لیا، رائٹرز کا دعویٰ روزگار کیلئے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام کیا جائے: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے انتظام پر صرف ایران اور عمان کا حق ہے: سینئر ایرانی عہدیدار عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 2 ڈالرز سے زائد اضافہ

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا بڑا اعلان؛ وفاق میں ‘صحت سہولت پروگرام’ کا دوبارہ آغاز

Web Desk

10 June 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران اعلان کیا ہے کہ کئی سالوں سے معطل “صحت سہولت پروگرام” کو وفاقی دارالحکومت میں دوبارہ مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس انقلابی اقدام پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوامی مفاد کی خاطر ہماری تجویز کو منظور کیا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ اسلام آباد کی آبادی اب 35 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، راولپنڈی اور دیگر نواحی علاقوں سے روزانہ ہزاروں مریض وفاق کے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سرکاری اور نجی ہسپتالوں پر شدید دباؤ اور رش کی شکایات عام تھیں۔ اس عوامی مسئلے کے مستقل حل کے لیے جڑواں شہروں (راولپنڈی اور اسلام آباد) کے 42 ہسپتالوں میں صحت سہولت پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران وزیرِ صحت نے ملکی ہیلتھ بجٹ اور کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے کچھ اہم حقائق سامنے رکھے وفاق اور صوبے مل کر صحت کے شعبے پر مجموعی طور پر 1 ہزار 156 ارب روپے خرچ کر رہے ہیں، لیکن اس بھاری بجٹ کے باوجود مریضوں کے مطمئن ہونے کی شرح 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے یونیورسل ہیلتھ کوریج پر ایک خصوصی اسٹڈی کروائی ہے، جس کے مطابق محض 210 ارب روپے کے منظم نظام سے یہ تمام بنیادی طبی سہولیات عوام کو دی جا سکتی ہیں، تاہم اس ماڈل کے لیے ملک میں 5 ہزار نئے ہسپتال بنانا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج ہی پاکستان کا مستقبل ہے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بہت پہلے سے اس نظام پر عمل پیرا ہیں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے پروگرام کی شفافیت پر سخت موقف اپناتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پینل پر موجود کسی بھی ہسپتال نے کسی قسم کی بدعنوانی، غفلت یا غلط کام کا مظاہرہ کیا، تو اسے فوری طور پر پروگرام سے ڈی لسٹ (خارج) کر دیا جائے گا۔ اس پروگرام کی بحالی سے اب لاکھوں شہریوں کو نجی ہسپتالوں سے بھی مفت اور معیاری علاج کی سہولت میسر آ سکے گی۔