LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار معاشی وسائل صوبوں کا حق، این ایف سی میں بلوچستان کا حصہ سو فیصد بڑھا دیا: وزیراعظم سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی البینزم سے متاثرہ افراد کے لیے محبت اور احترام کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا،مریم نواز سکیورٹی فورسز کی میران شاہ میں کارروائیاں، مزید 21 دہشت گرد ہلاک قیام امن اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فیڈرل کانسٹیبلری کا کردار اہم ہے، محسن نقوی خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہنگامی اجلاس، صوبائی حقوق کے تحفظ کیلئے حکمتِ عملی امریکا کے ساتھ اگلے ایک سے دو روز میں معاہدہ ہو سکتا ہے: عباس عراقچی ایف بی آر نے کھانے پینے، گھریلو استعمال کی اشیاء پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی بلاول کی دھمکی کام کرگئی، شہباز نے ہتھیار ڈال دیئے، پی پی کو گلگت میں حکومت بنانے کی دعوت غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف ، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا بجٹ 2026-27: پٹرولیم لیوی میں بڑے اضافے کی تجویز، ایل پی جی سمیت مختلف شعبے شامل غیر رجسٹرڈ سپلائرز سے خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کا بڑھانے کی تجویز

معاشی وسائل صوبوں کا حق، این ایف سی میں بلوچستان کا حصہ سو فیصد بڑھا دیا: وزیراعظم

Web Desk

13 June 2026

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کو معاشی و سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آنے کی باقاعدہ دعوت دیتے ہوئے ‘میثاقِ معیشت’ اور ‘میثاقِ جمہوریت’ پر مشترکہ دستخط کرنے کی پیشکش کی ہے۔ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے اپنے تفصیلی خطاب میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ملک کو مستحکم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اپوزیشن اراکین ہمارے بھائی ہیں اور ان سے ہماری کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے۔

سیاسی ڈیڈ لاک کے خاتمے کے لیے وزیراعظم نے ایوان میں مفاہمت کا ہاتھ بڑھایا وزیراعظم کا کہنا تھا کہ: “میں نے پہلے بھی کئی بار کہا اور آج بھی کہتا ہوں کہ ابھی دیر نہیں ہوئی، آئیں مل کر میثاقِ معیشت اور میثاقِ جمہوریت کی طرف بڑھیں، میں اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں”۔انہوں نے اپوزیشن اتحاد کے رہنما محمود خان اچکزئی کی حالیہ تقریر کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اچکزئی صاحب کے نکات کو بہت غور سے سنا ہے، تاہم وہ اس کا تفصیلی یا جذباتی جواب دینے کے بجائے مناسب موقع پر اپنا سنجیدہ مؤقف پیش کریں گے۔

صوبائی حقوق اور معاشی وسائل کی تقسیم پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے وفاق کی پالیسی واضح کی انہوں نے بتایا کہ نئے بجٹ میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کا مالیاتی کوٹہ 100 فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ وہاں کے غیور عوام پر کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا آئینی حق ہے۔ اس معاشی ریلیف کے لیے تمام صوبوں بالخصوص پنجاب نے اپنے حصے کی سب سے بڑی قربانی دی۔بلوچستان کے کسانوں کو توانائی کے بحران سے بچانے کے لیے اربوں روپے مالیت کے سولر پینلز دیے گئے ہیں، جبکہ گوادر سے چمن تک انٹر-صوبائی شاہراہ کی تعمیر پر 300 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے۔

“قومی سلامتی کے حساس ترین معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان کو بتایا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کے پیچھے بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سرحد پار بیٹھے عناصر کی جانب سے پاکستان میں سرگرم ‘خوارجیوں’ کو جدید ترین تکنیکی مدد (Technical Support) اور فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے” چند روز قبل ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شہدا اپنی جانیں دے کر قوم کے کروڑوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچاتے ہیں۔ اگر ہم نے دہشت گردی کے خلاف غفلت دکھائی یا مل کر شہدا کا احترام نہ کیا تو قوم اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔