برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ
Web Desk
13 June 2026
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے نئے مالیاتی بجٹ میں برآمدات (Exports) میں اضافے اور ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر خصوصی توجہ دی ہے تاکہ ملکی معیشت کو آئی ایم ایف پروگرام کے متبادل پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ اسلام آباد میں اہم پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے معاشی ترجیحات کا روڈ میپ پیش کیا، جبکہ ان کے ہمراہ وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بھی بجٹ کو ‘عوام دوست’ قرار دیا۔
وزیرِ خزانہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ملکی برآمدی حکمتِ عملی کے اہداف واضح کیے محمد اورنگزیب نے انکشاف کیا کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں ملکی آئی ٹی (IT) برآمدات بڑھ کر 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچیں گی، جو زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کاروباری برادری کے لیے بڑی نوید سناتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سمیت پوری معاشی ٹیم نے اتفاق کیا ہے کہ انڈسٹری پر عائد سپر ٹیکس (Super Tax) اب ختم ہونا چاہیے۔حالیہ جیو پولیٹیکل صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ: “مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران ہمیں شدت سے احساس ہوا کہ عالمی تجارتی بحران سے بچنے کے لیے پاکستان کا اپنا قومی شپنگ فلیٹ ہونا کتنا ناگزیر ہے”۔
“وزارتِ خزانہ نے ملک کے سب سے بڑے پیداواری شعبے یعنی زراعت کو ٹیکسوں اور درآمدی ڈیوٹیز سے مکمل استثنیٰ دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنایا جا سکے”۔
زرعی مشینری اور جدید آلات کی امپورٹ پر عائد کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو مکمل طور پر زیرو (Zero) کر دیا گیا ہے۔زرعی شعبے میں آسانیاں فراہم کرنے کے لیے کسانوں کو دیے جانے والے آسان قرضوں کا حجم 20 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ کسانوں کے لیے ‘ذرخیزی اسکیم’ اور نوجوانوں کے لیے ‘وزیراعظم یوتھ لون’ مختص کیا گیا ہے۔
کانفرنس میں شریک دیگر وفاقی وزرا نے بجٹ کے عوامی اور سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالی وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ عام آدمی کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے بجٹ میں 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ تعمیرات کے شعبے کو بھی معاشی انجن کے طور پر متحرک کیا جا رہا ہے۔ وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ بجٹ خالصتاً تنخواہ دار طبقے، صنعت کاروں اور ایکسپورٹرز کا ہے۔ وزیراعظم نے کڑے وقت میں بھی تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کا اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ایف بی آر (FBR) کا کلچر تبدیل ہو چکا ہے، اور ٹیکس چوری و لیکج میں کمی کا آغاز شوگر انڈسٹری پر سخت مانیٹرنگ سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ‘وزیراعظم اپنا گھر پروگرام’ اور دیگر اقدامات کے ذریعے مڈل کلاس (متوسط طبقے) کے لیے خصوصی معاشی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔
متعلقہ عنوانات
امریکی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں، ایرانی وزارت خارجہ
13 July 2026
لودھراں کے قریب مال گاڑی کو حادثہ، ٹرین 2 حصوں میں تقسیم ہو گئی
13 July 2026
عراق کا خطے میں بڑھتی کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور
13 July 2026
chile-festival-tragedy-car-plows-into-crowd-fatalities-injuries
13 July 2026
چلی: فیسٹیول کے دوران ڈرائیور نے گاڑی لوگوں پر چڑھا دی، 6 افراد جاں بحق، بچوں سمیت 7 زخمی
13 July 2026
کیتھولک مسیحوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار تشویش
13 July 2026
وزیراعظم کا 13 جولائی 1931ء کے 22 کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش
13 July 2026
پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری آج یوم شہدائے کشمیر منا رہے ہیں
13 July 2026