LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
تیل کی عالمی قیمتیں جلد تیزی سے نیچے آجائیں گی، امریکی وزیرخزانہ بھارتی ریاست اترپردیشن میں بارش اورطوفان سے تباہی، 100سے زائد افرادہلاک امریکی سینیٹ، جنگ کے معاملے پر ٹرمپ کے اختیارات محدودکرنے کی قراردادایک ووٹ سے ناکام سپریم جوڈیشل کونسل، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف شکایات نمٹادی گئیں وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہنگامی اجلاس؛ ‘نیشنل پاپولیشن کونسل’ کے قیام کا فیصلہ، شہباز شریف خود سربراہی کریں گے آرمی راکٹ فورس کا مقامی تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ ایران امریکہ ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان مسلسل فعال ہے: دفتر خارجہ پاک افواج نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا، وزیراعظم شہباز شریف ڈی جی آئی ایس پی آر کی شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی میں خصوصی نشست وزارتِ خزانہ کی مالیاتی رپورٹ؛ 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 856 ارب روپے، دفاع پر 1690 ارب خرچ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ؛ سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی 24 سال پرانی سزا کالعدم، بریت بحال چینی صدر کے ساتھ گفتگو بہت اچھی رہی: ٹرمپ گلگت بلتستان انتخابات 2026 کیلئے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز چینی صدر شی کا ٹرمپ کو تائیوان تنازع پر انتباہ، حریف کے بجائے شراکت دار بننے کا مشورہ

اہرامِ مصر کی تعمیر کا معمہ سلجھنے کے قریب، حیرت انگیز انکشاف سامنے آگیا

Web Desk

23 January 2026

مصر میں واقع عظیم اہرام صدیوں سے انسانوں کو حیرت میں ڈالے ہوئے ہیں۔ جدید مشینری کے بغیر اتنے بھاری پتھروں کو بلندی تک پہنچا کر اس شاندار ڈھانچے کی تعمیر کیسے ممکن ہوئی، یہ سوال طویل عرصے سے ماہرین کے لیے ایک معمہ بنا رہا ہے۔

اب ایک تازہ سائنسی تحقیق نے اس راز سے پردہ اٹھانے کے لیے ایک نیا اور تفصیلی تصور پیش کیا ہے۔ معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق عظیم ہرم کی تعمیر کے لیے بیرونی لمبی ڈھلوانوں پر انحصار نہیں کیا گیا، بلکہ زیادہ تر عمل ہرم کے اندرونی حصے میں قائم ایک منظم مکینیکل نظام کے ذریعے انجام پایا۔

تحقیق کے مطابق اس نظام میں وزن کو متوازن کرنے کے طریقے، مضبوط رسیاں، لکڑی کے شہتیر اور چرخیوں جیسے آلات شامل تھے، جن کی مدد سے بھاری پتھروں کو بتدریج اوپر منتقل کیا جاتا تھا۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہ پورا نظام اندر ہی بند کر دیا گیا، جس کے باعث یہ صدیوں تک نظروں سے اوجھل رہا۔

نیویارک کے وائل کارنیل میڈیکل کالج سے وابستہ ڈاکٹر سائمن آندریاس شورنگ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہرم کی اندرونی راہداریوں، عظیم گیلری اور چڑھنے والے راستوں کو دراصل اندرونی ڈھلوانوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان راستوں پر نصب وزن کے توازن پر مبنی نظام اتنی قوت پیدا کرتا تھا کہ کئی ٹن وزنی پتھر کم سے کم انسانی محنت سے اوپر پہنچائے جا سکتے تھے، حتیٰ کہ ساٹھ ٹن تک کے بلاکس بھی اسی طریقے سے منتقل کیے گئے۔

تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ہرم کے اندر موجود ایک چھوٹا گرینائٹ کمرہ، جسے پہلے حفاظتی مقصد کے لیے تعمیر شدہ سمجھا جاتا تھا، دراصل اس مکینیکل نظام کا مرکزی حصہ تھا۔ اسی مقام پر رسیاں اور لکڑی کے بیم استعمال کرکے بھاری پتھروں کو اٹھایا جاتا تھا۔ اس کمرے کے فرش پر پائی جانے والی خراشیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہاں ایک عمودی ستون نصب تھا، جسے بعد میں تعمیر کے اختتام پر بند کر دیا گیا۔

سائنسدانوں کے مطابق ہرم کے کچھ حصے، جن میں ملکہ کا چیمبر بھی شامل ہے، مرکزی محور سے قدرے ہٹ کر بنائے گئے تھے۔ اس کی وجہ جمالیاتی نہیں بلکہ اندرونی مشینری کے لیے جگہ فراہم کرنا تھا۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت بیرونی دیواروں میں ہلکا سا خم رکھا گیا اور اوپر کی جانب جاتے ہوئے پتھروں کا وزن بھی نسبتاً کم ہوتا چلا گیا۔

مطالعے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ عظیم ہرم کی تعمیر تقریباً بیس برس میں مکمل ہوئی اور حساب کے مطابق اوسطاً ہر منٹ میں ایک پتھر نصب کیا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ رفتار روایتی بیرونی ڈھلوانی طریقۂ تعمیر سے حاصل کرنا ممکن نہیں تھی۔

جدید سائنسی ٹیکنالوجی، جیسے میون شعاعوں کے ذریعے کی گئی جانچ، اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ہرم کے اندر کسی بڑے خفیہ کمرے کے شواہد نہیں ملے، تاہم چند چھوٹی راہداریوں کے آثار اب بھی موجود ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہو جاتا ہے تو ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو نہ صرف عظیم ہرم بلکہ قدیم مصر کے دیگر اہراموں کی تعمیر سے متعلق اپنے دیرینہ تصورات پر بھی نظرِ ثانی کرنا پڑے گی۔

واضح رہے کہ یہ عظیم الشان ہرم فرعون خوفو کے مقبرے کے طور پر تقریباً 2560 قبل مسیح میں تعمیر کیا گیا تھا اور آج بھی ساڑھے چار ہزار سال گزرنے کے باوجود گیزا کا سب سے بڑا ہرم شمار ہوتا ہے۔