اہرامِ مصر کی تعمیر کا معمہ سلجھنے کے قریب، حیرت انگیز انکشاف سامنے آگیا
Web Desk
23 January 2026
مصر میں واقع عظیم اہرام صدیوں سے انسانوں کو حیرت میں ڈالے ہوئے ہیں۔ جدید مشینری کے بغیر اتنے بھاری پتھروں کو بلندی تک پہنچا کر اس شاندار ڈھانچے کی تعمیر کیسے ممکن ہوئی، یہ سوال طویل عرصے سے ماہرین کے لیے ایک معمہ بنا رہا ہے۔
اب ایک تازہ سائنسی تحقیق نے اس راز سے پردہ اٹھانے کے لیے ایک نیا اور تفصیلی تصور پیش کیا ہے۔ معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق عظیم ہرم کی تعمیر کے لیے بیرونی لمبی ڈھلوانوں پر انحصار نہیں کیا گیا، بلکہ زیادہ تر عمل ہرم کے اندرونی حصے میں قائم ایک منظم مکینیکل نظام کے ذریعے انجام پایا۔
تحقیق کے مطابق اس نظام میں وزن کو متوازن کرنے کے طریقے، مضبوط رسیاں، لکڑی کے شہتیر اور چرخیوں جیسے آلات شامل تھے، جن کی مدد سے بھاری پتھروں کو بتدریج اوپر منتقل کیا جاتا تھا۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہ پورا نظام اندر ہی بند کر دیا گیا، جس کے باعث یہ صدیوں تک نظروں سے اوجھل رہا۔
نیویارک کے وائل کارنیل میڈیکل کالج سے وابستہ ڈاکٹر سائمن آندریاس شورنگ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہرم کی اندرونی راہداریوں، عظیم گیلری اور چڑھنے والے راستوں کو دراصل اندرونی ڈھلوانوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان راستوں پر نصب وزن کے توازن پر مبنی نظام اتنی قوت پیدا کرتا تھا کہ کئی ٹن وزنی پتھر کم سے کم انسانی محنت سے اوپر پہنچائے جا سکتے تھے، حتیٰ کہ ساٹھ ٹن تک کے بلاکس بھی اسی طریقے سے منتقل کیے گئے۔
تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ہرم کے اندر موجود ایک چھوٹا گرینائٹ کمرہ، جسے پہلے حفاظتی مقصد کے لیے تعمیر شدہ سمجھا جاتا تھا، دراصل اس مکینیکل نظام کا مرکزی حصہ تھا۔ اسی مقام پر رسیاں اور لکڑی کے بیم استعمال کرکے بھاری پتھروں کو اٹھایا جاتا تھا۔ اس کمرے کے فرش پر پائی جانے والی خراشیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہاں ایک عمودی ستون نصب تھا، جسے بعد میں تعمیر کے اختتام پر بند کر دیا گیا۔
سائنسدانوں کے مطابق ہرم کے کچھ حصے، جن میں ملکہ کا چیمبر بھی شامل ہے، مرکزی محور سے قدرے ہٹ کر بنائے گئے تھے۔ اس کی وجہ جمالیاتی نہیں بلکہ اندرونی مشینری کے لیے جگہ فراہم کرنا تھا۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت بیرونی دیواروں میں ہلکا سا خم رکھا گیا اور اوپر کی جانب جاتے ہوئے پتھروں کا وزن بھی نسبتاً کم ہوتا چلا گیا۔
مطالعے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ عظیم ہرم کی تعمیر تقریباً بیس برس میں مکمل ہوئی اور حساب کے مطابق اوسطاً ہر منٹ میں ایک پتھر نصب کیا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ رفتار روایتی بیرونی ڈھلوانی طریقۂ تعمیر سے حاصل کرنا ممکن نہیں تھی۔
جدید سائنسی ٹیکنالوجی، جیسے میون شعاعوں کے ذریعے کی گئی جانچ، اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ہرم کے اندر کسی بڑے خفیہ کمرے کے شواہد نہیں ملے، تاہم چند چھوٹی راہداریوں کے آثار اب بھی موجود ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہو جاتا ہے تو ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو نہ صرف عظیم ہرم بلکہ قدیم مصر کے دیگر اہراموں کی تعمیر سے متعلق اپنے دیرینہ تصورات پر بھی نظرِ ثانی کرنا پڑے گی۔
واضح رہے کہ یہ عظیم الشان ہرم فرعون خوفو کے مقبرے کے طور پر تقریباً 2560 قبل مسیح میں تعمیر کیا گیا تھا اور آج بھی ساڑھے چار ہزار سال گزرنے کے باوجود گیزا کا سب سے بڑا ہرم شمار ہوتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
امریکا: فال نکالنے والی مشین نے لاکھوں ڈالر کا انعام جتوا دیا
14 May 2026
سمپسن کارٹون میں برسوں پہلے ہنٹا وائرس سے متعلق کیا دکھایا گیا تھا؟
13 May 2026
امریکا میں کتوں کی پُول پارٹی کا انعقاد
13 May 2026
وہ انوکھا پینٹ جو اے سی کی ضرورت ختم کر دے گا
12 May 2026
دنیا کا انوکھا شہر جہاں مرنا منع ہے، قانون توڑنے والے کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
12 May 2026
شوہر کی پرانی گاڑی نے اہلیہ کی قسمت بدل دی
12 May 2026
دنیا کا پہلا رسم الخط ایران میں ایجاد ہوا، جدید تحقیق
11 May 2026
میانمار میں 11 ہزار قیراط کا دیوہیکل یاقوت دریافت
11 May 2026