LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشت گردی کے خلاف بحیثیت قوم نبرد آزما ہونا ہوگا: بیرسٹر سلمان اکرم راجہ پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار دہشت گردی ایک ناسور، ہمارے شہداء قوم کے ہیرو ہیں: بیرسٹر گوہر خان کی میڈیا سے گفتگو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے ناقابلِ قبول ہیں: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس میں پانچ دھماکوں کی آوازیں، ایرانی سرکاری ٹی وی کیش لیس معیشت سے شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، وزیراعظم امریکا اور ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنائیں: چین مولانا نے پوری تاریخِ اسلام کے شہدا کی تضحیک کی: فیاض الحسن امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی

وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہنگامی اجلاس؛ ‘نیشنل پاپولیشن کونسل’ کے قیام کا فیصلہ، شہباز شریف خود سربراہی کریں گے

Web Desk

14 May 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آبادی کی شرحِ نمو کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک مؤثر اور مربوط قومی حکمت عملی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں “نیشنل پاپولیشن کونسل” قائم کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے، جس کی سربراہی وہ خود کریں گے جبکہ کونسل میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان شامل ہوں گے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ وسائل اور آبادی میں توازن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے، کیونکہ تیزی سے بڑھتی آبادی قومی وسائل پر دباؤ ڈال رہی ہے جو ملک کی مجموعی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان میں آبادی کی شرحِ نمو 2.55 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم نے “ہول آف دی گورنمنٹ اپروچ” اپنانے پر زور دیا اور ہدایت کی کہ عوامی آگاہی مہم میں علمائے کرام اور کمیونٹی رہنماؤں کو فعال طور پر شامل کیا جائے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ تمام ہیلتھ سینٹرز پر خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، سماجی تحفظ کے پروگراموں کو فیملی پلاننگ سے جوڑا جائے گا اور خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنایا جائے گا تاکہ آبادی پر قابو پانے کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، سید مصطفیٰ کمال، وزیرِ مملکت ملک مختار احمد بھرتھ اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت آگاہی مہم، صحت و تعلیم کی سہولیات میں بہتری اور متوازن ترقی کے ذریعے آبادی کی بڑھتی ہوئی رفتار کو لگام دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔