LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا پُرامن دنیا کی جانب بڑھنے کے لیے سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے: محسن نقوی وزیر اعظم نے کمرشل کورٹس کے قیام کیلئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر بڑا حادثہ؛ مسافروں کی بورڈنگ کے دوران برانڈ نیو بوئنگ طیارے کا نوز گیئر گر گیا وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے اہم ملاقات پاکستانی معیشت کے لیے بڑی کامیابی؛ مئی 2026 میں تجارتی خسارے میں 39 فیصد کی نمایاں کمی، سکیورٹی فورسز کا بلوچستان کے ضلع پنجگور میں آپریشن،6 خارجی ہلاک آئندہ مالی سال کا بجٹ 290 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنے گا، وزارت خزانہ ثاقب چدھڑ پر مومنہ کو ہراساں کرنے کا مقدمہ درج، عبوری ضمانت منظور سپریم جوڈیشل کونسل، پالیسی ساز کمیٹی اور عدالتی کمیشن کے اجلاس طلب گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابی مہم کا آج آخری روز پاک چین دوستی 75 برس بعد بھی اعتماد اور شراکت داری کی مضبوط مثال قرار ایران سے افزودہ یورینیم معاہدہ کیے بغیر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے: ٹرمپ اقوام متحدہ کے سربراہ کی جنوبی لبنان میں امن دستے کے اہلکار کی ہلاکت کی مذمت ٹرمپ کا بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ

وزارتِ خزانہ کی مالیاتی رپورٹ؛ 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 856 ارب روپے، دفاع پر 1690 ارب خرچ

Web Desk

14 May 2026

وزارتِ خزانہ نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کی مالیاتی آپریشنز رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملکی معیشت کو 856 ارب روپے کے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جولائی سے دسمبر تک حکومت 541 ارب روپے کے بجٹ سرپلس میں تھی، تاہم تیسری سہ ماہی کے دوران اخراجات بڑھنے سے یہ توازن خسارے میں تبدیل ہو گیا۔

دستاویزات کے مطابق، وفاق کی مجموعی آمدن 14,799 ارب روپے رہی جبکہ کل اخراجات 15,665 ارب روپے تک جا پہنچے۔ مالی سال کے ان نو ماہ کے دوران حکومتی خزانے پر سب سے بڑا بوجھ سود کی ادائیگیوں کا رہا، جس پر 4,947 ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ دفاعی اخراجات کے لیے 1,690 ارب روپے مختص کیے گئے۔

مثبت پہلو یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق پرائمری بیلنس سرپلس 4,091 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جو کہ جی ڈی پی کا 3.2 فیصد بنتا ہے۔ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت سالانہ پرائمری بیلنس سرپلس جی ڈی پی کے 2.4 فیصد تک رکھنا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر کے ٹیکس محصولات جی ڈی پی کے 7.8 فیصد تک محدود رہے، جبکہ مجموعی آمدن جی ڈی پی کا 11.4 فیصد رہی۔ قومی مالیاتی ایوارڈ (NFC) کے تحت صوبوں کو مجموعی طور پر 5,630 ارب روپے منتقل کیے گئے، جس میں پنجاب کو 2,782 ارب، سندھ کو 1,400 ارب، خیبر پختونخوا کو 911 ارب اور بلوچستان کو 535 ارب روپے جاری کیے گئے۔