LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دادو کے کچے علاقے میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 8 افراد ہلاک کال سینٹر کے ذریعے غیر اخلاقی مواد کی فروخت: ایف آئی اے نے مزید 20 چینی شہریوں کو پاکستان بدر کر دیا پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی کیف کے قریب روسی ڈرون حملہ، گولہ بارود ڈپو میں دھماکہ، 37 افراد ہلاک

وزارتِ خزانہ کی مالیاتی رپورٹ؛ 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 856 ارب روپے، دفاع پر 1690 ارب خرچ

Web Desk

14 May 2026

وزارتِ خزانہ نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کی مالیاتی آپریشنز رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملکی معیشت کو 856 ارب روپے کے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جولائی سے دسمبر تک حکومت 541 ارب روپے کے بجٹ سرپلس میں تھی، تاہم تیسری سہ ماہی کے دوران اخراجات بڑھنے سے یہ توازن خسارے میں تبدیل ہو گیا۔

دستاویزات کے مطابق، وفاق کی مجموعی آمدن 14,799 ارب روپے رہی جبکہ کل اخراجات 15,665 ارب روپے تک جا پہنچے۔ مالی سال کے ان نو ماہ کے دوران حکومتی خزانے پر سب سے بڑا بوجھ سود کی ادائیگیوں کا رہا، جس پر 4,947 ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ دفاعی اخراجات کے لیے 1,690 ارب روپے مختص کیے گئے۔

مثبت پہلو یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق پرائمری بیلنس سرپلس 4,091 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جو کہ جی ڈی پی کا 3.2 فیصد بنتا ہے۔ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت سالانہ پرائمری بیلنس سرپلس جی ڈی پی کے 2.4 فیصد تک رکھنا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر کے ٹیکس محصولات جی ڈی پی کے 7.8 فیصد تک محدود رہے، جبکہ مجموعی آمدن جی ڈی پی کا 11.4 فیصد رہی۔ قومی مالیاتی ایوارڈ (NFC) کے تحت صوبوں کو مجموعی طور پر 5,630 ارب روپے منتقل کیے گئے، جس میں پنجاب کو 2,782 ارب، سندھ کو 1,400 ارب، خیبر پختونخوا کو 911 ارب اور بلوچستان کو 535 ارب روپے جاری کیے گئے۔