سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ؛ سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی 24 سال پرانی سزا کالعدم، بریت بحال
Web Desk
14 May 2026
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک بڑا قانونی سنگ میل عبور کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم انور سیف اللہ خان کی سزا کے خلاف دائر نظرثانی درخواست منظور کر لی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے سال 2000 میں دی گئی سزا اور 20 جنوری 2016 کے اکثریتی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا 13 جون 2002 کا بریت کا فیصلہ بحال کر دیا ہے۔
جسٹس صلاح الدین پنہور کی جانب سے جاری کردہ تحریری فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 12 کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو ماضی کے کسی فعل پر اس وقت کے رائج قانون سے زیادہ سزا نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ انور سیف اللہ خان پر 1996 کے الزامات کے تحت 1999 کے نیب آرڈیننس کا اطلاق آئینی طور پر غلط تھا، کیونکہ نیب آرڈیننس میں سزا پچھلے قوانین کے مقابلے میں زیادہ تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ استغاثہ رشوت، ذاتی فائدے یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ محض انتظامی بے قاعدگی یا طریقہ کار کی غلطی کو مجرمانہ بدنیتی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جب ہائی کورٹ کسی ملزم کو بری کر دے تو اس کی بے گناہی کا تصور مزید مضبوط ہو جاتا ہے اور ایسے فیصلے میں مداخلت کے لیے ٹھوس قانونی بنیادیں ہونا ضروری ہیں، جو 2016 کے فیصلے میں موجود نہیں تھیں۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا
5 June 2026
پُرامن دنیا کی جانب بڑھنے کے لیے سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے: محسن نقوی
5 June 2026
وزیر اعظم نے کمرشل کورٹس کے قیام کیلئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی
5 June 2026
فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر بڑا حادثہ؛ مسافروں کی بورڈنگ کے دوران برانڈ نیو بوئنگ طیارے کا نوز گیئر گر گیا
5 June 2026
وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے اہم ملاقات
5 June 2026
پاکستانی معیشت کے لیے بڑی کامیابی؛ مئی 2026 میں تجارتی خسارے میں 39 فیصد کی نمایاں کمی،
5 June 2026
انمول عرف پنکی سے رابطوں پر سی ٹی ڈی کے 2 اہلکار ملازمت سے برخاست
5 June 2026
سکیورٹی فورسز کا بلوچستان کے ضلع پنجگور میں آپریشن،6 خارجی ہلاک
5 June 2026