LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دادو کے کچے علاقے میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 8 افراد ہلاک کال سینٹر کے ذریعے غیر اخلاقی مواد کی فروخت: ایف آئی اے نے مزید 20 چینی شہریوں کو پاکستان بدر کر دیا پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی کیف کے قریب روسی ڈرون حملہ، گولہ بارود ڈپو میں دھماکہ، 37 افراد ہلاک

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ؛ سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی 24 سال پرانی سزا کالعدم، بریت بحال

Web Desk

14 May 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک بڑا قانونی سنگ میل عبور کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم انور سیف اللہ خان کی سزا کے خلاف دائر نظرثانی درخواست منظور کر لی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے سال 2000 میں دی گئی سزا اور 20 جنوری 2016 کے اکثریتی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا 13 جون 2002 کا بریت کا فیصلہ بحال کر دیا ہے۔

جسٹس صلاح الدین پنہور کی جانب سے جاری کردہ تحریری فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 12 کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو ماضی کے کسی فعل پر اس وقت کے رائج قانون سے زیادہ سزا نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ انور سیف اللہ خان پر 1996 کے الزامات کے تحت 1999 کے نیب آرڈیننس کا اطلاق آئینی طور پر غلط تھا، کیونکہ نیب آرڈیننس میں سزا پچھلے قوانین کے مقابلے میں زیادہ تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ استغاثہ رشوت، ذاتی فائدے یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ محض انتظامی بے قاعدگی یا طریقہ کار کی غلطی کو مجرمانہ بدنیتی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جب ہائی کورٹ کسی ملزم کو بری کر دے تو اس کی بے گناہی کا تصور مزید مضبوط ہو جاتا ہے اور ایسے فیصلے میں مداخلت کے لیے ٹھوس قانونی بنیادیں ہونا ضروری ہیں، جو 2016 کے فیصلے میں موجود نہیں تھیں۔