LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور کویت کے درمیان ‘پروٹوکول معاہدہ 2026’ پر دستخط بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ وزیر خزانہ سے اسیاڈ گروپ کے وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ

جولائی تا جنوری : ایف بی آر کو 372 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا

Web Desk

31 January 2026

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) رواں مالی سال کے دوران مقررہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایف بی آر کی دستاویزات کے مطابق جولائی 2025 سے جنوری 2026 تک 372 ارب روپے کا شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا۔

دستاویز کے مطابق 30 جنوری 2026 تک ایف بی آر 986 ارب روپے ٹیکس وصول کر سکا جبکہ جنوری کے لیے مقررہ ہدف 1 ہزار 31 ارب روپے تھا۔ جنوری سے مارچ کے دوران سپر ٹیکس کی مد میں 200 ارب روپے وصول ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری کے دوران مجموعی ٹیکس وصولی 7 ہزار 147 ارب روپے رہی، جبکہ اسی مدت کے لیے ہدف 7 ہزار 521 ارب روپے مقرر تھا۔

جنوری میں انکم ٹیکس کی مد میں 465 ارب روپے وصول کیے گئے، جبکہ ہدف 452 ارب روپے تھا۔ سیلز ٹیکس کا ہدف 387 ارب روپے رکھا گیا تھا تاہم کلیکشن 352 ارب روپے تک محدود رہی۔

کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 126 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 107 ارب روپے وصول کیے جا سکے، جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 65 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 61 ارب روپے جمع ہوئے۔

ایف بی آر نے جنوری کے دوران 47 ارب روپے جبکہ جولائی سے جنوری تک مجموعی طور پر 340 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں جاری کیے گئے 314 ارب روپے سے زیادہ ہیں۔

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت مارچ 2026 تک 9 ہزار 917 ارب روپے ٹیکس محصولات اکٹھے کرنے کا ہدف مقرر ہے، جس کے لیے ایف بی آر کو آئندہ دو ماہ میں مزید 2 ہزار 765 ارب روپے سے زائد وصول کرنا ہوں گے۔

گزشتہ مالی سال 2024-25 کے پہلے سات ماہ میں ایف بی آر نے 6 ہزار 699 ارب روپے ٹیکس وصول کیا تھا۔