LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ پی سی بی اور الائیڈ بینک میں سکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلئے 10 کروڑ روپے کا معاہدہ امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا ماسکو میں گیس برآمد کرنیوالے ممالک کے آٹھویں سربراہی اجلاس کا اعلامیہ منظور جام کمال خان کا دوحہ میں پاکستانی مصنوعات کے ایکسپورٹ ڈسپلے سینٹر کا افتتاح مولانا فضل الرحمٰن کی راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کمانڈر کویت نیول فورس کی نیول ہیڈکوارٹرز آمد، نیول چیف سے ملاقات 9 مئی کیس: سہیل آفریدی سمیت پانچ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ملک بھر میں اسکولز ہاکی لیگ شروع کرنےکا فیصلہ ایبٹ آباد پبلک سکول کے مسائل حل کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، گورنر فیصل کریم الیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم: انتخابی شیڈول مانگ لیا گیا ایران کا قطر سے ثالثی کے تقاضوں پر عمل اور محتاط بیانات کا مطالبہ گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، ملک کسی جرنیل کی جاگیر نہیں:مولانا فضل الرحمان جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا: حافظ نعیم

جولائی تا جنوری : ایف بی آر کو 372 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا

Web Desk

31 January 2026

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) رواں مالی سال کے دوران مقررہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایف بی آر کی دستاویزات کے مطابق جولائی 2025 سے جنوری 2026 تک 372 ارب روپے کا شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا۔

دستاویز کے مطابق 30 جنوری 2026 تک ایف بی آر 986 ارب روپے ٹیکس وصول کر سکا جبکہ جنوری کے لیے مقررہ ہدف 1 ہزار 31 ارب روپے تھا۔ جنوری سے مارچ کے دوران سپر ٹیکس کی مد میں 200 ارب روپے وصول ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری کے دوران مجموعی ٹیکس وصولی 7 ہزار 147 ارب روپے رہی، جبکہ اسی مدت کے لیے ہدف 7 ہزار 521 ارب روپے مقرر تھا۔

جنوری میں انکم ٹیکس کی مد میں 465 ارب روپے وصول کیے گئے، جبکہ ہدف 452 ارب روپے تھا۔ سیلز ٹیکس کا ہدف 387 ارب روپے رکھا گیا تھا تاہم کلیکشن 352 ارب روپے تک محدود رہی۔

کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 126 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 107 ارب روپے وصول کیے جا سکے، جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 65 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 61 ارب روپے جمع ہوئے۔

ایف بی آر نے جنوری کے دوران 47 ارب روپے جبکہ جولائی سے جنوری تک مجموعی طور پر 340 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں جاری کیے گئے 314 ارب روپے سے زیادہ ہیں۔

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت مارچ 2026 تک 9 ہزار 917 ارب روپے ٹیکس محصولات اکٹھے کرنے کا ہدف مقرر ہے، جس کے لیے ایف بی آر کو آئندہ دو ماہ میں مزید 2 ہزار 765 ارب روپے سے زائد وصول کرنا ہوں گے۔

گزشتہ مالی سال 2024-25 کے پہلے سات ماہ میں ایف بی آر نے 6 ہزار 699 ارب روپے ٹیکس وصول کیا تھا۔