LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو نشانِ امتیاز عطا کردیا گیا روسی لیب ورکر کی پراسرار موت، رابطے میں 4 افراد میں کورونا اور رائنو وائرس کی تصدیق عالمی امن کے لیے مکالمے اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا: یوسف رضا گیلانی اسرائیلی فوج ہائی الرٹ، حماس کے ممکنہ حملے پر غزہ کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی: کاٹز ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول یقینی بنایا جائے: شرمیلا فاروقی محمود اچکزئی نے اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات کیلئے ہدایات جاری کر دیں امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے: انتونیو گوتریس وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کرنے کی پیشکش ایل این جی سپلائی پر خدشات، حکومت کا قطر سے 3 کارگو لینے کا فیصلہ پی ٹی آئی کے پاس لوگ نہیں، لانگ مارچ اٹک سے آگے نہیں جا سکتا: گورنر خیبرپختونخوا لاہور میں غیر قانونی کال سینٹر کے خلاف بڑی کارروائی، 39 افراد گرفتار پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث میٹرک کے سپلیمنٹری امتحانات ملتوی ایران کی ناکہ بندی: امریکا کا 130 تجارتی جہاز موڑنے اور 13 تباہ کرنے کا دعویٰ امریکا: دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار فائرنگ کے ذریعے سزائے موت کا اعلان اپوزیشن اور حکومت کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی امید ہے: فواد چودھری

شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا

Web Desk

27 August 2026

مظفر آباد/اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے پارٹی قائد میاں نواز شریف کی جانب سے بیرسٹر افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق شاہ غلام قادر نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر منتخب رکن کو وزیراعظم تسلیم نہیں کریں گے اور نہ ہی نئے قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے بلائے گئے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت یا بیرسٹر افتخار گیلانی کو ووٹ دیں گے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بھی شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے اس نامزدگی کی شدید مخالفت کی تھی۔ شاہ غلام قادر کا کہنا تھا کہ وہ قائد میاں نواز شریف کے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے بیانیے پر کاربند ہیں اور آزاد کشمیر کے عوام کے سیاسی مینڈیٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

آزاد کشمیر مسلم لیگ (ن) کے اندر اس شدید اختلاف کے بعد حکومت سازی کا عمل غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہو گیا ہے جبکہ جماعت کے اندر نئی سیاسی صف بندی اور اہم فیصلوں کا امکان ہے۔