LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک

بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر

Web Desk

27 August 2026

اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان نے سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست پر فوری سماعت کے لیے ایک اور متفرق درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ رجسٹرار آفس نے اس سے قبل 25 اگست کو فوری سماعت کی پہلی درخواست مسترد کر دی تھی، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ درخواست چیف جسٹس نے مسترد کی یا انتظامی سطح پر ہوئی۔ درخواست گزار کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی جیل میں صحت مسلسل بگڑ رہی ہے، جس کے باعث ان کی صحت اور زندگی کا معاملہ انتہائی حساس اور اہم نوعیت کا اختیار کر چکا ہے۔

عظمیٰ خان کی جانب سے موقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کی عدولی کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال لے جایا گیا، جبکہ عدالتی حکم کی اصل روح کے مطابق انہیں طبی معائنے اور مکمل علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے تھا، جس پر جان بوجھ کر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے واضح احکامات پر مسلسل عمل نہ کرنا ارادی، صریح اور سنگین قانون شکنی کے زمرے میں آتا ہے۔ کیسز فکسیشن پالیسی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

استدعا کی گئی ہے کہ توہینِ عدالت کی درخواست کو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جائے اور رواں یا آئندہ ہفتے کیس کی سماعت یقینی بنائی جائے۔