LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے

یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا

Web Desk

27 August 2026

ماسکو: روسی وزارتِ خارجہ نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین میں تعینات کی جانے والی کسی بھی غیر ملکی فوجی ٹرپ یا دستے کو، جو روس کے خصوصی فوجی آپریشن اور امن تصفیے کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنے، ماسکو اپنا جائز فوجی ہدف (Legitimate Military Target) تصور کرے گا।روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ یوکرین میں مغربی ممالک کی جانب سے کسی بھی قسم کے فوجی دستوں کی پیش قدمی یا تعیناتی روس کے لیے قطعی طور پر ناقابلِ قبول اور اس کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے। انہوں نے کہا کہ ایسے تمام غیر ملکی فوجی اور تنصیبات روسی فوج کے حملوں کے لیے قانونی ہدف بن جائیں گی। ماریہ زخارووا نے خبردار کیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں تنازع میں پیدا ہونے والی کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری ان مغربی سیاست دانوں اور پالیسی سازوں پر عائد ہوگی جو اس جنگ کو مزید طول دینے اور بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔روسی ترجمان نے یوکرین کی سرحد سے متصل یورپی یونین اور نیٹو (NATO) کے رکن ممالک میں اکتوبر اور نومبر کے دوران “کولیشن آف دی ولنگ” (Coalition of the Willing) کے تحت مجوزہ فوجی مشقوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا। انہوں نے کہا کہ یہ مشقیں درحقیقت یورپی ممالک کو یوکرینی تنازع کی دلدل میں مزید گہرائی تک دھکیلنے کا ایک منظم منصوبہ ہیں۔ زخارووا نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہی مغربی ممالک ایک طرف امن مذاکرات کا راگ الاپتے ہیں اور دوسری طرف اپنے تنازع پرور اقدامات سے کشیدگی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔