LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
عالمی امن کے لیے مکالمے اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا: یوسف رضا گیلانی اسرائیلی فوج ہائی الرٹ، حماس کے ممکنہ حملے پر غزہ کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی: کاٹز ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول یقینی بنایا جائے: شرمیلا فاروقی محمود اچکزئی نے اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات کیلئے ہدایات جاری کر دیں امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے: انتونیو گوتریس وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کرنے کی پیشکش ایل این جی سپلائی پر خدشات، حکومت کا قطر سے 3 کارگو لینے کا فیصلہ پی ٹی آئی کے پاس لوگ نہیں، لانگ مارچ اٹک سے آگے نہیں جا سکتا: گورنر خیبرپختونخوا لاہور میں غیر قانونی کال سینٹر کے خلاف بڑی کارروائی، 39 افراد گرفتار پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث میٹرک کے سپلیمنٹری امتحانات ملتوی ایران کی ناکہ بندی: امریکا کا 130 تجارتی جہاز موڑنے اور 13 تباہ کرنے کا دعویٰ امریکا: دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار فائرنگ کے ذریعے سزائے موت کا اعلان اپوزیشن اور حکومت کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی امید ہے: فواد چودھری سعودی اتحادی افواج کا آپریشن فجر الیمن، تعز میں 250 حوثی جنگجو ہلاک پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے مکمل ہوجائیں گے

دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی

Web Desk

27 August 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں نامزد ملزم محمد فاضل کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگرچہ جرم کی نوعیت سنگین ہے، تاہم ٹرائل میں غیر معمولی تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لینا اور ملزم کے قانونی حقوق کا تحفظ کرنا بھی عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے۔

جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے ملزم محمد فاضل کی ضمانت پر 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلہ میں واضح کیا گیا کہ قانون کے مطابق اگر کوئی ملزم دو سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہو، ٹرائل مکمل نہ ہو سکا ہو اور تاخیر کا سبب خود ملزم نہ ہو، تو وہ تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کے قانونی حق کا مستحق ہو جاتا ہے۔

مقدمے کی تفصیلا ت کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ صدر ڈیرہ غازی خان میں 17 اپریل 2015 کو محمد ریاض کے قتل اور دیگر افراد کو زخمی کرنے کا مقدمہ درج ہوا تھا، جبکہ ملزم کو 2 جنوری 2024 کو گرفتار کیا گیا۔ 24 جون 2024 کو فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد تقریباً 2 سال 7 ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود استغاثہ کے ایک بھی گواہ کا بیان عدالت میں ریکارڈ نہ ہو سکا۔

عدالت نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ ملزم سابقہ طور پر مفرور رہا ہے، لہٰذا اسے ضمانت نہ دی جائے۔ جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے سپریم کورٹ کی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلے میں لکھا کہ محض سابقہ مفروری کسی ملزم کو اس کے آئینی و قانونی حق سے محروم نہیں کر سکتی اگر ٹرائل میں التوا کی وجہ استغاثہ کی غفلت ہو۔

لاہور ہائیکورٹ نے درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزم محمد فاضل کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور اتنی ہی مالیت کے 2 ضامن جمع کروانے پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔