LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دبئی: بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ 2026ء کی نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح امریکا کا کرس مرفی کو العدید ایئربیس تک رسائی دینے سے انکار آبنائے ہرمز مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوج کا پھر دعویٰ فیئر فورڈ ایئربیس سے برطانوی نوجوان گرفتار روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے رواں ماہ ترکیہ کا دورہ کریں گے سویڈن: شاہی محل کے باہر پولیس کی فائرنگ سے مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار ایرانی وزیر داخلہ کی قطری امیر سے ملاقات، علاقائی امور پر تعمیری بات چیت صدر اور وزیراعظم کی ملاقات، ملکی سکیورٹی صورتحال، لانگ مارچ پر تبادلہ خیال روس یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی کا دعویٰ لیتھوانیا میں جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تعیناتی پر روس جوابی اقدامات کرے گا، کریملن آبنائے ہرمز کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی سوشل میڈیا پوسٹس نہیں کریں گی، ایرانی ڈپٹی سپیکر شامی صدر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو امریکا اقتصادی جنگ کی طرح فوجی محاذ میں بھی ناکام ہوگا: محسن رضائی

دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی

Web Desk

27 August 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں نامزد ملزم محمد فاضل کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگرچہ جرم کی نوعیت سنگین ہے، تاہم ٹرائل میں غیر معمولی تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لینا اور ملزم کے قانونی حقوق کا تحفظ کرنا بھی عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے۔

جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے ملزم محمد فاضل کی ضمانت پر 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلہ میں واضح کیا گیا کہ قانون کے مطابق اگر کوئی ملزم دو سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہو، ٹرائل مکمل نہ ہو سکا ہو اور تاخیر کا سبب خود ملزم نہ ہو، تو وہ تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کے قانونی حق کا مستحق ہو جاتا ہے۔

مقدمے کی تفصیلا ت کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ صدر ڈیرہ غازی خان میں 17 اپریل 2015 کو محمد ریاض کے قتل اور دیگر افراد کو زخمی کرنے کا مقدمہ درج ہوا تھا، جبکہ ملزم کو 2 جنوری 2024 کو گرفتار کیا گیا۔ 24 جون 2024 کو فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد تقریباً 2 سال 7 ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود استغاثہ کے ایک بھی گواہ کا بیان عدالت میں ریکارڈ نہ ہو سکا۔

عدالت نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ ملزم سابقہ طور پر مفرور رہا ہے، لہٰذا اسے ضمانت نہ دی جائے۔ جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے سپریم کورٹ کی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلے میں لکھا کہ محض سابقہ مفروری کسی ملزم کو اس کے آئینی و قانونی حق سے محروم نہیں کر سکتی اگر ٹرائل میں التوا کی وجہ استغاثہ کی غفلت ہو۔

لاہور ہائیکورٹ نے درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزم محمد فاضل کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور اتنی ہی مالیت کے 2 ضامن جمع کروانے پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔