LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ اسلام آباد: سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے ملزم کو سزائے موت، 35 لاکھ روپے جرمانہ اور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم وزیراعظم شہباز شریف نے ‘آٹو پالیسی 2026–2031’ کی منظوری دے دی حکومت نے مذاکرات میں مایوس کیا، دہشت گردی کیخلاف جنگ متاثر نہیں ہونی چاہیے: بیرسٹر گوہر سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغا گیا حوثی ملیشیا کا بیلسٹک میزائل تباہ کردیا ایران امریکا مذاکرات جاری، معاہدے کی امید ہے، قطری وزارت خارجہ میر رضا علی کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری کر دی، جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش 2024 کے انتخابات ہمیں قبول نہیں، ملک میں دوبارہ انتخابات کروائے جائیں: مولانا فضل الرحمن حکومتی اقدامات کے باعث پنجاب خواتین کیلئے محفوظ صوبہ بن چکا ہے: مریم نوازحکومتی اقدامات کے باعث پنجاب خواتین کیلئے محفوظ صوبہ بن چکا ہے: مریم نواز شنگھائی تعاون تنظیم پائیدار اقتصادی نمو میں قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے: اسحاق ڈار سندھ کابینہ کا میر رضا کیس کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا فیصلہ خیبر پختونخوا میں وسائل سے زیادہ مسائل، دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا پڑے گا: طارق فضل چودھری وزیراعظم دہشتگردی کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کیلئے تیار ہیں: رانا ثنا ملتان: مزدور نوجوان کو گاڑی سے کچلنے کا کیس، ملزم توقیر عباس کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، پیشی پر وکلاء کا تشدد اسحاق ڈار کی تاجک صدر سے ملاقات، علاقائی اقتصادی تعاون کے فروغ پر زور

پاکستان کا بھارتی بحری جہاز کا خصوصی اقتصادی زون میں خلاف ورزی پر شدید احتجاج

Web Desk

16 September 2026

پاکستان نے بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کولکتہ (INS Kolkata) کی جانب سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں کھلی ورزی اور پاک بحریہ کی جاری مشقوں کے علاقے میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش پر نئی دہلی کے سامنے شدید سفارتی احتجاج درج کرایا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاک بحریہ یکم ستمبر سے اپنے اقتصادی زون میں سالانہ ‘سی اسپارک 26’ (SeaSpark 26) بحری مشقیں کر رہی ہے، تاہم 7 ستمبر سے بھارتی بحری جہاز اور اس پر تعینات ہیلی کاپٹر نے مشق کے حساس علاقے میں بلاجواز اور خطرناک حد تک داخل ہونے کی متعدد بار کوششیں کی ہیں۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی بحری جہاز نے پاک بحریہ کے جہازوں کے انتہائی قریب آ کر شدید اشتعال انگیز اور خطرناک انداز اختیار کیا اور تمام تر بحری انتباہات کے باوجود اپنی پیش قدمی جاری رکھی۔ پاکستان نے ان اقدامات کو معمول کی تعیناتی قرار دینے کے بھارتی بیانیے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے 1991ء کے دوطرفہ بحری معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ دفترِ خارجہ کے مطابق 15 ستمبر کو آئی این ایس کولکتہ نے انتہائی خطرناک انداز میں رخ تبدیل کیا جس سے اس کی پاکستانی جہاز پی این ایس حنین (PNS Hunain) سے رگڑ ہوئی۔ تاہم، پی این ایس حنین نے پیشہ ورانہ حکمتِ عملی سے بڑے تصادم کو بچایا، جس کے فوری بعد بھارتی جہاز تیز رفتاری سے علاقے سے فرار ہو گیا۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے واقعے کو انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاک بحریہ کے صابرانہ اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل نے خطے کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا ہے۔ پاکستان نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حقائق کو مسخ کر کے سفارتی محاذ آرائی سے گریز کریں اور ایسے واقعات کے اعادے کو روکنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کریں۔ واضح رہے کہ بھارت نے الٹا اس واقعے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالتے ہوئے پاکستانی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج کیا تھا، جس پر پاکستان نے واضح کیا کہ بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ علاقائی امن کے لیے شدید خطرہ ہے۔