جمیما گولڈ اسمتھ کا ایلون مسک سے عمران خان سے متعلق پوسٹس محدود کرنے کا عمل روکنے کا مطالبہ
Web Desk
14 December 2025
پاکستان کے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سابق اہلیہ جمیما گولڈ اسمتھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عمران خان سے متعلق پوسٹس کو دبانے کا عمل بند کریں۔
جمیما گولڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ ایکس پر عمران خان کی جیل میں حالت، مبینہ تنہائی میں قید اور بچوں کی اپنے والد تک رسائی سے متعلق پوسٹس کو جان بوجھ کر محدود کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سوشل میڈیا کمپنی پاکستانی حکام کے دباؤ پر خاموشی سے ان پابندیوں پر عمل کر رہی ہے۔
انہوں نے انسٹاگرام اور ایکس پر ایک پوسٹ میں ایلون مسک کی کمپنی xAI کے تیار کردہ چیٹ بوٹ گروک کا حوالہ دیا، جس کے مطابق عمران خان کی قید سے متعلق ہر پوسٹ پر الگورتھم کے ذریعے رسائی محدود کر دی جاتی ہے۔ جمیما کے مطابق گروک نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی حکام عمران خان کے قریبی حلقے کی تنقید کو آن لائن روکنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہیں اور ایکس پلیٹ فارم پاکستان میں فعال رہنے کے لیے جزوی طور پر اس پر عمل کر رہا ہے۔
73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے راولپنڈی کی جیل میں قید ہیں۔ وہ ایک کرپشن کیس میں 14 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کے دوران ایک ٹرسٹ کے ذریعے ایک پراپرٹی ٹائیکون سے زمین بطور رشوت وصول کی۔ عمران خان ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔
جمیما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ عمران خان ایک سیاسی قیدی ہیں اور پاکستان کے تمام ٹی وی اور ریڈیو چینلز پر ان کا نام اور تصویر نشر کرنے پر پابندی ہے۔ ان کی قید کے بعد صرف ایک دھندلی عدالتی تصویر ہی منظرِ عام پر آئی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں ایکس ہی واحد آزاد پلیٹ فارم تھا جہاں اس مبینہ ناانصافی کو اجاگر کیا جا سکتا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2025 میں ایکس پر ان کی پوسٹس دیکھنے والوں کی تعداد میں 97 فیصد کمی آئی، جو پہلے 2023 اور 2024 کے اوائل میں ماہانہ 400 سے 900 ملین ویوز تک پہنچتی تھیں، جبکہ اب یہ تعداد 28.6 ملین رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق مئی میں پاکستان میں ایکس پر پابندی اٹھنے کے بعد ایک پوسٹ کو 40 لاکھ ویوز ملے، تاہم اس کے فوراً بعد ان کی رسائی تقریباً ختم کر دی گئی۔
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ان کے والد کو دن کے 22 گھنٹے “ڈیتھ سیل” میں رکھا جاتا ہے، ڈاکٹر تک رسائی نہیں دی جا رہی، خاندانی رابطے مہینوں تک معطل کر دیے جاتے ہیں، جو ان کے بقول “نفسیاتی تشدد” کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ مارچ 2024 میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے انسداد ہراسانی نے عمران خان کی گرفتاری کو من مانی اور سیاسی قرار دیا تھا، تاہم پاکستانی حکام عمران خان کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدسلوکی کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
امریکا سے جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی درخواست نہیں کی: ایران
27 July 2026
یوکرین بالآخر اپنے مغربی علاقے کھو دے گا: صدر پوتن کا دعویٰ
27 July 2026
ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، خودمختاری کا دفاع ترجیح ہے: ایران
27 July 2026
حوثی حملوں کے بعد باب المندب میں جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی
27 July 2026
نیتن یاہو عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ سے بچنے کیلئے امریکا کو استعمال کر رہے ہیں، ایران
27 July 2026
گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ
27 July 2026
دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر
27 July 2026
ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر
27 July 2026