LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لاہور ہائیکورٹ نے مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر دیا ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ہوئے: پینٹاگون بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد، کسی بھی مہم جوئی کیلئے تیار ہیں: دفتر خارجہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، خودمختاری کا دفاع ترجیح ہے: ایران گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کراچی: جمالی پل کے قریب منی ٹرک نے شہریوں کو کچل ڈالا، 3 افراد جاں بحق آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت

لاہور ہائیکورٹ نے مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر دیا

Web Desk

27 July 2026

لاہور ہائیکورٹ نے قومی شناختی کارڈز اور مشکوک شہریت کے تنازعات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر دیا ہے اور نادرا کی نظرثانی درخواست منظور کر لی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں سیالکوٹ کی سول اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ عدالتوں کے 2017 کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ مشکوک شہریت کے معاملے میں براہِ راست سول عدالتوں یا رٹ پٹیشن کے بجائے پہلے ‘نادرا ویریفکیشن بورڈ’ اور ‘پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951‘ کے فورمز سے رجوع کرنا لازمی ہوگا۔ عدالت نے حکم دیا کہ شہریت ثابت کرنے کے لیے 1979 سے قبل کے تعلیمی اسناد، ڈومیسائل یا پاسپورٹ کے مستند ثبوت پیش کرنا ہوں گے، جبکہ درکار دستاویزات نہ دینے والوں کو 30 دن کی مہلت ملے گی۔ علاوہ ازیں، ہائیکورٹ نے نادرا ویریفکیشن بورڈ کو درخواستوں کا فیصلہ 60 دن میں کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو نادرا آرڈیننس میں قانون سازی کی سفارش کی ہے۔