ایبولا وائرس سے متعلق سائنس دانوں کا انتباہ!
Web Desk
23 June 2026
سائنس دانوں نے ایک نئی اور انتہائی تشویشناک طبی تحقیق کے بعد دنیا کو خبردار کیا ہے کہ دنیا کا خطرناک ترین اور جان لیوا ایبولا وائرس (Ebola Virus) صحت یاب ہونے والے مریضوں کے اعصابی نظام (Central Nervous System) میں طویل عرصے تک خفیہ طور پر چھپا رہ سکتا ہے۔ یہ وائرس مہینوں یا حتیٰ کہ سالوں بعد انسانی جسم میں دوبارہ سرگرم ہو کر نہ صرف مریض کو دوبارہ بیمار کر سکتا ہے بلکہ ایک نئے وبائی پھیلاؤ (Outbreak) کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
سائنسی جریدوں میں سامنے آنے والی اس نئی تحقیق کے چونکا دینے والے تیکنیکی حقائق درج ذیل ہیں
ایبولا کا شمار دنیا کے مہلک ترین وائرسز میں ہوتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ انسان کے جسم میں داخل ہو کر ہیمرجک بخار (اندرونی اور بیرونی خون بہنا) کا باعث بنتا ہے، جس میں اموات کی شرح 90 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔عالمی سطح پر اب تک ایبولا کی مختلف لہروں اور وباؤں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 28 ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
ماہرینِ طب کو طویل عرصے سے یہ شبہ تھا کہ ایبولا سے صحت یاب ہونے والے مریض اچانک دوبارہ اس کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں یا صحت یابی کے سالوں بعد بھی ان کے جسم میں شدید سوزش (Inflammation) جیسی پیچیدگیاں کیوں برقرار رہتی ہیں۔
سائنسی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ وائرس انسانی جسم کے ان مخصوص حصوں میں پناہ لیتا ہے جہاں ہمارا مدافعتی نظام (Immune System) حساس بافتوں (Delicate Tissues) کو اپنے ہی حملوں سے بچانے کے لیے محدود نگرانی یا کم ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔
سائنس دانوں نے اس معمے کو حل کرنے کے لیے لیبارٹری میں مصنوعی طور پر تیار کیے گئے انسانی دماغ کے چھوٹے ماڈلز، جنہیں “منی برینز” (Mini-Brains) کہا جاتا ہے، کا استعمال کیا۔ اس جدید مطالعے میں درج ذیل سائنسی شواہد سامنے آئے:
ایبولا وائرس انسانی دماغ کی گہری بافتوں کے اندر اس طرح چھپ جاتا ہے کہ باہر موجود مدافعتی نظام کے حفاظتی خلیے اس کا پتا لگانے میں مکمل طور پر ناکام رہتے ہیں۔یہ وائرس دماغ کے اندر موجود انتہائی اہم مدافعتی خلیوں جیسے ایسٹرو سائٹس (Astrocytes) اور مائیکروگلیا (Microglia) پر براہِ راست حملہ کر کے انہیں متاثر کرتا ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹنگ کے دوران جب ان متاثرہ دماغی ماڈلز پر مدافعتی نظام سے متعلق طاقتور مالیکیولز کا استعمال کیا گیا، تو وہ بھی اس روپوش وائرس کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہے
متعلقہ عنوانات
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026
خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
15 September 2026
وزن کم کرنے والی ادویات کا خودکشی کے خیالات سے تعلق کا انکشاف
15 September 2026
خیبرپختونخوا: چکن گونیا کے کیسز میں اضافہ، نوشہرہ کے متعدد گاؤں متاثر
15 September 2026
ایڈز کے خاتمے کیلئے علاج کے ساتھ مؤثر آگاہی پر توجہ دینا ہو گی: مصطفیٰ کمال
14 September 2026
ہیلتھ ایشیا نمائش: شعبہ صحت میں عالمی تعاون اور جدت کا نیا سنگِ میل
14 September 2026