LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کامن ویلتھ گیمز: ارشد ندیم نے جیولین تھرو کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم 4 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ جاری آزاد کشمیر اسمبلی میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور پاکستان امریکا اور ایران کو مفاہمتی یادداشت پر واپس لانے کیلئے سرگرم ہے: دفترِ خارجہ پنجاب میں دریاؤں کی صورتحال بہتر، مون سون بارشوں کا الرٹ جاری سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا لاہور ہائیکورٹ: جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھارتی ایئر لائنز کیلئے بڑا دھچکا نیویارک میں ’ٹیکس ورلڈ 2026ء‘ نمائش کا انعقاد، پاکستان کی بھرپور شرکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 3 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق جاپان: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی امریکا کے ایک بار پھر ایران پر حملے، درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایبولا وائرس سے متعلق سائنس دانوں کا انتباہ!

Web Desk

23 June 2026

سائنس دانوں نے ایک نئی اور انتہائی تشویشناک طبی تحقیق کے بعد دنیا کو خبردار کیا ہے کہ دنیا کا خطرناک ترین اور جان لیوا ایبولا وائرس (Ebola Virus) صحت یاب ہونے والے مریضوں کے اعصابی نظام (Central Nervous System) میں طویل عرصے تک خفیہ طور پر چھپا رہ سکتا ہے۔ یہ وائرس مہینوں یا حتیٰ کہ سالوں بعد انسانی جسم میں دوبارہ سرگرم ہو کر نہ صرف مریض کو دوبارہ بیمار کر سکتا ہے بلکہ ایک نئے وبائی پھیلاؤ (Outbreak) کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

سائنسی جریدوں میں سامنے آنے والی اس نئی تحقیق کے چونکا دینے والے تیکنیکی حقائق درج ذیل ہیں

 ایبولا کا شمار دنیا کے مہلک ترین وائرسز میں ہوتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ انسان کے جسم میں داخل ہو کر ہیمرجک بخار (اندرونی اور بیرونی خون بہنا) کا باعث بنتا ہے، جس میں اموات کی شرح 90 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔عالمی سطح پر اب تک ایبولا کی مختلف لہروں اور وباؤں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 28 ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

ماہرینِ طب کو طویل عرصے سے یہ شبہ تھا کہ ایبولا سے صحت یاب ہونے والے مریض اچانک دوبارہ اس کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں یا صحت یابی کے سالوں بعد بھی ان کے جسم میں شدید سوزش (Inflammation) جیسی پیچیدگیاں کیوں برقرار رہتی ہیں۔

سائنسی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ وائرس انسانی جسم کے ان مخصوص حصوں میں پناہ لیتا ہے جہاں ہمارا مدافعتی نظام (Immune System) حساس بافتوں (Delicate Tissues) کو اپنے ہی حملوں سے بچانے کے لیے محدود نگرانی یا کم ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔

سائنس دانوں نے اس معمے کو حل کرنے کے لیے لیبارٹری میں مصنوعی طور پر تیار کیے گئے انسانی دماغ کے چھوٹے ماڈلز، جنہیں “منی برینز” (Mini-Brains) کہا جاتا ہے، کا استعمال کیا۔ اس جدید مطالعے میں درج ذیل سائنسی شواہد سامنے آئے:

 ایبولا وائرس انسانی دماغ کی گہری بافتوں کے اندر اس طرح چھپ جاتا ہے کہ باہر موجود مدافعتی نظام کے حفاظتی خلیے اس کا پتا لگانے میں مکمل طور پر ناکام رہتے ہیں۔یہ وائرس دماغ کے اندر موجود انتہائی اہم مدافعتی خلیوں جیسے ایسٹرو سائٹس (Astrocytes) اور مائیکروگلیا (Microglia) پر براہِ راست حملہ کر کے انہیں متاثر کرتا ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹنگ کے دوران جب ان متاثرہ دماغی ماڈلز پر مدافعتی نظام سے متعلق طاقتور مالیکیولز کا استعمال کیا گیا، تو وہ بھی اس روپوش وائرس کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہے