LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان صدر مملکت کا پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی خدمات کا اعتراف امریکا کا ایران کیساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کیخلاف بھی سخت اقدامات کا اعلان بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام بنگلادیش کے نئے صدر منتخب پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی، اسلام آباد کیلئے کال دوں گا: حافظ نعیم الرحمان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا بلاول بھٹو سے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو بیرونی سرمایہ کاری لانے کا مشن، صوبائی وزیر چوہدری شافع کینیڈا پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی، فیصلے کیخلاف درخواست دوبارہ دائر کر رہے ہیں: رانا ثنا نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے

ایبولا وائرس سے متعلق سائنس دانوں کا انتباہ!

Web Desk

23 June 2026

سائنس دانوں نے ایک نئی اور انتہائی تشویشناک طبی تحقیق کے بعد دنیا کو خبردار کیا ہے کہ دنیا کا خطرناک ترین اور جان لیوا ایبولا وائرس (Ebola Virus) صحت یاب ہونے والے مریضوں کے اعصابی نظام (Central Nervous System) میں طویل عرصے تک خفیہ طور پر چھپا رہ سکتا ہے۔ یہ وائرس مہینوں یا حتیٰ کہ سالوں بعد انسانی جسم میں دوبارہ سرگرم ہو کر نہ صرف مریض کو دوبارہ بیمار کر سکتا ہے بلکہ ایک نئے وبائی پھیلاؤ (Outbreak) کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

سائنسی جریدوں میں سامنے آنے والی اس نئی تحقیق کے چونکا دینے والے تیکنیکی حقائق درج ذیل ہیں

 ایبولا کا شمار دنیا کے مہلک ترین وائرسز میں ہوتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ انسان کے جسم میں داخل ہو کر ہیمرجک بخار (اندرونی اور بیرونی خون بہنا) کا باعث بنتا ہے، جس میں اموات کی شرح 90 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔عالمی سطح پر اب تک ایبولا کی مختلف لہروں اور وباؤں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 28 ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

ماہرینِ طب کو طویل عرصے سے یہ شبہ تھا کہ ایبولا سے صحت یاب ہونے والے مریض اچانک دوبارہ اس کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں یا صحت یابی کے سالوں بعد بھی ان کے جسم میں شدید سوزش (Inflammation) جیسی پیچیدگیاں کیوں برقرار رہتی ہیں۔

سائنسی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ وائرس انسانی جسم کے ان مخصوص حصوں میں پناہ لیتا ہے جہاں ہمارا مدافعتی نظام (Immune System) حساس بافتوں (Delicate Tissues) کو اپنے ہی حملوں سے بچانے کے لیے محدود نگرانی یا کم ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔

سائنس دانوں نے اس معمے کو حل کرنے کے لیے لیبارٹری میں مصنوعی طور پر تیار کیے گئے انسانی دماغ کے چھوٹے ماڈلز، جنہیں “منی برینز” (Mini-Brains) کہا جاتا ہے، کا استعمال کیا۔ اس جدید مطالعے میں درج ذیل سائنسی شواہد سامنے آئے:

 ایبولا وائرس انسانی دماغ کی گہری بافتوں کے اندر اس طرح چھپ جاتا ہے کہ باہر موجود مدافعتی نظام کے حفاظتی خلیے اس کا پتا لگانے میں مکمل طور پر ناکام رہتے ہیں۔یہ وائرس دماغ کے اندر موجود انتہائی اہم مدافعتی خلیوں جیسے ایسٹرو سائٹس (Astrocytes) اور مائیکروگلیا (Microglia) پر براہِ راست حملہ کر کے انہیں متاثر کرتا ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹنگ کے دوران جب ان متاثرہ دماغی ماڈلز پر مدافعتی نظام سے متعلق طاقتور مالیکیولز کا استعمال کیا گیا، تو وہ بھی اس روپوش وائرس کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہے