LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم

4.16 کلوگرام وزنی آم نے ’کنگ آف مینگو‘ کا اعزاز جیت لیا

Web Desk

18 July 2026

جنوب مغربی چین کے صوبہ یوننان میں منعقدہ آموں کے سالانہ روایتی مقابلے میں ایک دیو ہیکل آم نے سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اس سال کا ’کنگ آف مینگو‘ (آموں کا بادشاہ) کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔ اس انوکھے زرعی مقابلے میں صوبے کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے اپنے باغات میں اگائے گئے بہترین، رسیلے اور غیر معمولی جسامت کے حامل آم پیش کیے، جن کا زرعی ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم نے وزن، مٹھاس کے معیار اور ظاہری شکل و صورت کے لحاظ سے باریک بینی سے جائزہ لیا۔

سخت اور دلچسپ مقابلے کے بعد ایک کسان کے 4.16 کلوگرام وزنی آم کو سب سے بھاری اور منفرد قرار دیتے ہوئے مقابلے کا باضابطہ فاتح قرار دیا گیا۔ منتظمین کے مطابق اس سالانہ میلے کے انعقاد کا بنیادی مقصد علاقے میں اعلیٰ معیار کے آموں کی کاشت کو فروغ دینا، کسانوں میں جدید زرعی طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور مقامی آم کی صنعت کو عالمی سطح پر مستحکم بنانا ہے۔ اس رنگارنگ تقریب میں بڑی تعداد میں مقامی کسانوں، زرعی ماہرین اور غیر ملکی سیاحوں نے شرکت کی، جہاں شرکا نے آموں کی سینکڑوں مختلف اقسام کی نمائش دیکھی اور روایتی زرعی مصنوعات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔