LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سینٹ پیٹرزبرگ کے تاریخی بریمر ہاؤس میں خوفناک آتشزدگی، 2 ہزار مربع میٹر رقبہ متاثر سعودی وزیر دفاع کے امریکی و فرانسیسی وزرائے دفاع سے رابطے، امن کیلئے اقدامات پر زور خلیجی ممالک کی مدینہ منورہ میں حوثی ڈرون حملے کی شدید مذمت مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ فیئر فورڈ ایئر بیس سازش کی تحقیقات، 27 سالہ برطانوی ایرانی شہری گرفتار سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ٹرمپ کیساتھ اچھے تعلقات، یوکرین تنازع حل کرنے کیلئے کوششوں پر شکرگزار ہیں: صدر پوتن کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز کی کارروائی، 60 لاکھ روپے کا سامان برآمد ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ستمبر میں مہنگائی 1.27 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 10.26 فیصد ریکارڈ فیول سبسڈی سکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید، وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کو سراہ لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ نابلس میں سیکڑوں اسرائیلی قبضہ گیروں کا حضرت یوسفؑ کے مزار پر حملہ

4.16 کلوگرام وزنی آم نے ’کنگ آف مینگو‘ کا اعزاز جیت لیا

Web Desk

18 July 2026

جنوب مغربی چین کے صوبہ یوننان میں منعقدہ آموں کے سالانہ روایتی مقابلے میں ایک دیو ہیکل آم نے سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اس سال کا ’کنگ آف مینگو‘ (آموں کا بادشاہ) کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔ اس انوکھے زرعی مقابلے میں صوبے کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے اپنے باغات میں اگائے گئے بہترین، رسیلے اور غیر معمولی جسامت کے حامل آم پیش کیے، جن کا زرعی ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم نے وزن، مٹھاس کے معیار اور ظاہری شکل و صورت کے لحاظ سے باریک بینی سے جائزہ لیا۔

سخت اور دلچسپ مقابلے کے بعد ایک کسان کے 4.16 کلوگرام وزنی آم کو سب سے بھاری اور منفرد قرار دیتے ہوئے مقابلے کا باضابطہ فاتح قرار دیا گیا۔ منتظمین کے مطابق اس سالانہ میلے کے انعقاد کا بنیادی مقصد علاقے میں اعلیٰ معیار کے آموں کی کاشت کو فروغ دینا، کسانوں میں جدید زرعی طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور مقامی آم کی صنعت کو عالمی سطح پر مستحکم بنانا ہے۔ اس رنگارنگ تقریب میں بڑی تعداد میں مقامی کسانوں، زرعی ماہرین اور غیر ملکی سیاحوں نے شرکت کی، جہاں شرکا نے آموں کی سینکڑوں مختلف اقسام کی نمائش دیکھی اور روایتی زرعی مصنوعات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔