LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ٹرمپ کیساتھ اچھے تعلقات، یوکرین تنازع حل کرنے کیلئے کوششوں پر شکرگزار ہیں: صدر پوتن کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز کی کارروائی، 60 لاکھ روپے کا سامان برآمد ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ستمبر میں مہنگائی 1.27 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 10.26 فیصد ریکارڈ فیول سبسڈی سکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید، وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کو سراہ لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ نابلس میں سیکڑوں اسرائیلی قبضہ گیروں کا حضرت یوسفؑ کے مزار پر حملہ ایپسٹین سے روابط ، ناروے کے وزیراعظم سمیت 11 وزراء پارلیمنٹ میں طلب برطانیہ کے عجائب گھروں میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ مفت حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز مصر: 1700 سال قدیم پراسرار مقبرہ دریافت حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ، ڈیزل سستا کر دیا

ٹرمپ کیساتھ اچھے تعلقات، یوکرین تنازع حل کرنے کیلئے کوششوں پر شکرگزار ہیں: صدر پوتن

Web Desk

1 October 2026

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ان کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کئی برسوں سے اچھے اور دوستانہ تعلقات ہیں اور وہ یوکرین تنازع کے حل کے لیے امریکی صدر کی مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم اور شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ماسکو میں ‘والدائی انٹرنیشنل ڈسکشن کلب’ کے 23ویں سالانہ اجلاس سے خطاب اور شرکاء کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ وہ یوکرین بحران کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ امریکی صدر تنازع کا ختم کروانے کی کوششوں میں مکمل مخلص ہیں۔

والدائی فورم سے خطاب کے دوران صدر ولادیمیر پوتن نے عالمی سیاسی حالات، نئی ٹیکنالوجیز، مغربی بالادستی کے خاتمے اور ابھرتے ہوئے کثیر قطبی (Multipolar) عالمی نظام پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں پرانے بین الاقوامی اصول اور عالمی ادارے ناکارہ ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی منصفانہ نمائندگی کے لیے اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔ یوکرین تنازع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے روس کا موقف دہرایا کہ ماسکو نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ نیٹو کے پھیلؤ اور روس مخالف پالیسیوں کی وجہ سے انہیں اپنے دفاع کے لیے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا گیا۔