LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لسبیلہ: مسافر بس اور وین میں تصادم، 11 افراد جاں بحق، متعدد زخمی لانگ مارچ کی تیاری کر رہے ہیں، اسلام آباد جائیں گے: حافظ نعیم الرحمٰن کے پی کے میں گورنر راج کا فیصلہ غلط، ملک معاشی تباہی کی طرف جا رہا ہے،علامہ ناصر عباس وفاق نے کے پی کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی یقین دہانی کرائی: فیصل کنڈی پی ٹی آئی کارکنوں کی نظر بندی: ڈی سی لاہور اور شیخوپورہ سے رپورٹ طلب پاکستان بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھے گا: فیلڈ مارشل گوادر میں تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام، 7 دہشتگرد ہلاک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز مشہور گیم سٹک رن کے بانی مینوئل اوٹو نے لائیو سٹریم کے دوران خودکشی کر لی پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا بند، سمگلنگ روکنے کیلئے کڑی نگرانی کا حکم سعودی عرب پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام، دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیا پاکستان اور کینیڈا کے طبی اداروں میں تعاون کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط طبی معائنے کے بعد نواز شریف وطن واپس، جاتی امراء روانگی چین میں زلزلے سے سینکڑوں مکان منہدم، 16 افراد ہلاک، پاکستان کی مدد کی پیشکش شوہر نے فٹبال میچ دیکھنے کی خاطر بیوی کو کرسی سے باندھ دیا

سویڈن کوڑے سے بجلی پیدا کرنے کیلئے دیگر ممالک سے کچرا خریدنے لگا

Web Desk

30 September 2026

دنیا بھر کی حکومتیں اپنے شہروں کو صاف ستھرا اور کوڑے کرکٹ سے پاک رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہیں، تاہم سویڈن نے اس ضمن میں ایک انتہائی منفرد اور کامیاب طریقہ اختیار کرتے ہوئے کچرے کو بجلی پیدا کرنے کے لیے بطور ایندھن استعمال کرنے کا نظام نافذ کر رکھا ہے۔

سویڈن میں اس مقصد کے لیے خصوصی بجلی گھر قائم کیے گئے ہیں جہاں کچرے کو جدید سائنسی طریقوں سے جلا کر قابلِ استعمال توانائی حاصل کی جاتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سویڈن میں پیدا ہونے والا کچرا ان بڑے بجلی گھروں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ ملک دیگر ممالک سے بھی کچرا درآمد کرتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سویڈن سالانہ لاکھوں ٹن کوڑا کرکٹ ان پلانٹس میں کھپاتا ہے، جبکہ کچرے کو جلانے کے دوران خارج ہونے والی زہریلی گیسوں اور ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے بجلی گھروں میں جدید ترین آلات بھی نصب کیے گئے ہیں۔ اس عمل سے پیدا ہونے والی بجلی گھریلو صارفین سمیت ملک کے مختلف شعبوں کی توانائی کی ضروریات پوری کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سویڈن کے اس کامیاب ماڈل کو پاکستان، خصوصاً پنجاب اور سندھ کے بڑے شہروں میں بھی سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔ لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہری مراکز میں کچرے کو مناسب طریقے سے اکٹھا کر کے اسے توانائی میں تبدیل کرنے کے منصوبے نہ صرف شہروں سے صفائی کے سنگین مسائل کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں بلکہ ملک کے لیے سستے متبادل توانائی کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ تاہم، ایسے بڑے منصوبوں کی کامیابی کے لیے ملک میں ایک جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم، ماحولیاتی تحفظ کے مؤثر اقدامات اور کچرے کو جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی پر قابو پانے کے لیے عالمی معیار کی ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہوگا۔