LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

ویران جزیرے پر 34 سال بعد بچے کی پیدائش

Web Desk

28 September 2026

سکاٹ لینڈ کے انتہائی دور دراز اور ویران جزیرے ’نارتھ رونالڈسے‘ (North Ronaldsay) پر 34 سال کے طویل عرصے کے بعد بالآخر پہلی بار کسی بچے کی پیدائش ہوئی ہے، جس نے جزیرے کی گھٹتی ہوئی آبادی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

ڈنکن نامی یہ نومولود بچہ 15 ستمبر 2026 کو نارتھ رونالڈسے میں پیدا ہوا۔ یہ علاقہ اورکنی (Orkney) کا شمالی جزیرہ ہے جو محض تین میل لمبا اور دو میل چوڑا ہے۔ بچے کی والدہ ٹریل فورڈ (Trail Ford) اور ان کے منگیتر جارج سواریز اصل میں کوسٹا ریکا میں اس بچے کی پیدائش کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، اور انہوں نے جزیرے پر پہنچنے کے بعد واپسی کے ٹکٹس بھی پہلے سے بک کروا رکھے تھے۔ تاہم، نارتھ رونالڈسے پہنچنے کے بعد حالات نے پلٹا کھایا اور انہوں نے یہیں بچے کی پیدائش کا فیصلہ کیا۔

والدہ ٹریل فورڈ کا کہنا تھا کہ “مجھے فوراً احساس ہوا کہ یہ دنیا کی سب سے خاص، جادوئی اور معاون پیدائش ہوگی جو میں اپنے بچے کو دے سکتی ہوں۔” دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹریل فورڈ کے خاندان نے سال 1727 میں یہ جزیرہ خریدا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جزیرے کے ساتھ ان کا آبائی اور خونی رشتہ ہی انہیں ہر سال یہاں کھینچ لاتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ اس جزیرے نے ان کی پرورش میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، اور اسی وجہ سے انہوں نے یہاں کی پرسکون توانائی اور خاص طور پر اپنے آبائی گھر میں گہری اپنائیت محسوس کی۔

سکاٹش حکومت کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق اس جزیرے کی کل آبادی 72 افراد پر مشتمل تھی، جو اب کم ہو کر صرف 51 رہ گئی ہے۔

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اتنے طویل عرصے تک اس جزیرے پر کوئی بچہ کیوں پیدا نہیں ہوا، تو اس کی بنیادی وجہ صحت کی سہولیات کا فقدان ہے۔ جزیرے پر نہ تو کوئی باقاعدہ ڈاکٹر ہے اور نہ ہی کوئی ہسپتال، بلکہ طبی ضروریات کے لیے صرف ایک مقامی نرس موجود ہوتی ہے، جس کی وجہ سے حاملہ خواتین عام طور پر قریبی شہروں کا رخ کرتی ہیں۔