LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خاتون کی جان بچاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی نمازِ جنازہ ادا، فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، بیرسٹر گوہر سمیت کوئی بھی رہنما نہ مل سکا قیدِ تنہائی کے الزامات سنگین، نظر انداز نہیں کر سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر تحریری حکم نامہ جاری امریکی صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ پہنچ گئے وفاقی حکومت نے نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دے دی، وزیر اعظم چیئرمین اور آرمی چیف رکن مقرر پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ

چین کا خلائی میدان میں اہم سنگِ میل، مدار میں سیٹلائٹ ری فیولنگ کا کامیاب تجربہ

Web Desk

28 March 2026

بیجنگ: خلائی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں چین نے ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے زمین کے نچلے مدار میں موجود سیٹلائیٹ کو کامیابی سے ایندھن فراہم کرنے کا تجربہ کیا ہے۔ اس پیچیدہ مشن کے لیے حال ہی میں صوبہ گانسو سے روانہ کیے گئے کمرشل سیٹلائیٹ Yusheng 306 کو استعمال کیا گیا، جو زمین سے تقریباً 540 کلومیٹر کی بلندی پر قطبی مدار میں گردش کر رہا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق، اس تجربے کی سب سے خاص بات ایک مخصوص لچکدار روبوٹک بازو کا استعمال ہے۔ آکٹوپس کی ساخت سے مشابہ یہ بازو اسپرنگ نما ٹیوبز اور موٹرز پر مشتمل ہے، جو اسے انتہائی تنگ اور پیچیدہ جگہوں پر مڑنے اور مخصوص پورٹ سے جڑنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ ماہرین نے اس عمل کو خلا میں “سوئی میں دھاگا ڈالنے” سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ 27 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے کسی مخصوص پورٹ سے نہایت درستگی (Precision) کے ساتھ جڑنا ایک انتہائی حساس مرحلہ ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یوشینگ 306 نے کسی دوسرے سیٹلائیٹ کے ساتھ مکمل طور پر ڈوک (Dock) کیا یا نہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کا کامیاب مظاہرہ چین کی خلائی مہارت کا ثبوت ہے۔ اس سے قبل چین 36 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر Shijian 21 اور Shijian 25 کے درمیان بھی ایسا ہی تجربہ کر چکا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد خلا میں موجود مہنگے سیٹلائیٹس کی عمر میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ایندھن ختم ہونے کی صورت میں انہیں ناکارہ ہونے سے بچایا جا سکے۔