LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمنی مسلح افواج نے حوثی ملیشیا کے خلاف حملے شروع کر دیئے ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت تصادم چاہتی ہے: قمر زمان کائرہ آذربائیجانی خاتون ڈیانا پاکستانی پولیس افسران کے ساتھ باکو روانہ پی ٹی آئی خود کو دہشت گردی کی سہولت کار ثابت کر رہی ہے: گورنر کے پی

چین کا خلائی میدان میں اہم سنگِ میل، مدار میں سیٹلائٹ ری فیولنگ کا کامیاب تجربہ

Web Desk

28 March 2026

بیجنگ: خلائی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں چین نے ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے زمین کے نچلے مدار میں موجود سیٹلائیٹ کو کامیابی سے ایندھن فراہم کرنے کا تجربہ کیا ہے۔ اس پیچیدہ مشن کے لیے حال ہی میں صوبہ گانسو سے روانہ کیے گئے کمرشل سیٹلائیٹ Yusheng 306 کو استعمال کیا گیا، جو زمین سے تقریباً 540 کلومیٹر کی بلندی پر قطبی مدار میں گردش کر رہا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق، اس تجربے کی سب سے خاص بات ایک مخصوص لچکدار روبوٹک بازو کا استعمال ہے۔ آکٹوپس کی ساخت سے مشابہ یہ بازو اسپرنگ نما ٹیوبز اور موٹرز پر مشتمل ہے، جو اسے انتہائی تنگ اور پیچیدہ جگہوں پر مڑنے اور مخصوص پورٹ سے جڑنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ ماہرین نے اس عمل کو خلا میں “سوئی میں دھاگا ڈالنے” سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ 27 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے کسی مخصوص پورٹ سے نہایت درستگی (Precision) کے ساتھ جڑنا ایک انتہائی حساس مرحلہ ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یوشینگ 306 نے کسی دوسرے سیٹلائیٹ کے ساتھ مکمل طور پر ڈوک (Dock) کیا یا نہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کا کامیاب مظاہرہ چین کی خلائی مہارت کا ثبوت ہے۔ اس سے قبل چین 36 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر Shijian 21 اور Shijian 25 کے درمیان بھی ایسا ہی تجربہ کر چکا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد خلا میں موجود مہنگے سیٹلائیٹس کی عمر میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ایندھن ختم ہونے کی صورت میں انہیں ناکارہ ہونے سے بچایا جا سکے۔