چین کا خلائی میدان میں اہم سنگِ میل، مدار میں سیٹلائٹ ری فیولنگ کا کامیاب تجربہ
Web Desk
28 March 2026
بیجنگ: خلائی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں چین نے ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے زمین کے نچلے مدار میں موجود سیٹلائیٹ کو کامیابی سے ایندھن فراہم کرنے کا تجربہ کیا ہے۔ اس پیچیدہ مشن کے لیے حال ہی میں صوبہ گانسو سے روانہ کیے گئے کمرشل سیٹلائیٹ Yusheng 306 کو استعمال کیا گیا، جو زمین سے تقریباً 540 کلومیٹر کی بلندی پر قطبی مدار میں گردش کر رہا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق، اس تجربے کی سب سے خاص بات ایک مخصوص لچکدار روبوٹک بازو کا استعمال ہے۔ آکٹوپس کی ساخت سے مشابہ یہ بازو اسپرنگ نما ٹیوبز اور موٹرز پر مشتمل ہے، جو اسے انتہائی تنگ اور پیچیدہ جگہوں پر مڑنے اور مخصوص پورٹ سے جڑنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ ماہرین نے اس عمل کو خلا میں “سوئی میں دھاگا ڈالنے” سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ 27 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے کسی مخصوص پورٹ سے نہایت درستگی (Precision) کے ساتھ جڑنا ایک انتہائی حساس مرحلہ ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یوشینگ 306 نے کسی دوسرے سیٹلائیٹ کے ساتھ مکمل طور پر ڈوک (Dock) کیا یا نہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کا کامیاب مظاہرہ چین کی خلائی مہارت کا ثبوت ہے۔ اس سے قبل چین 36 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر Shijian 21 اور Shijian 25 کے درمیان بھی ایسا ہی تجربہ کر چکا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد خلا میں موجود مہنگے سیٹلائیٹس کی عمر میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ایندھن ختم ہونے کی صورت میں انہیں ناکارہ ہونے سے بچایا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026