LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

چین کا خلائی میدان میں اہم سنگِ میل، مدار میں سیٹلائٹ ری فیولنگ کا کامیاب تجربہ

Web Desk

28 March 2026

بیجنگ: خلائی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں چین نے ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے زمین کے نچلے مدار میں موجود سیٹلائیٹ کو کامیابی سے ایندھن فراہم کرنے کا تجربہ کیا ہے۔ اس پیچیدہ مشن کے لیے حال ہی میں صوبہ گانسو سے روانہ کیے گئے کمرشل سیٹلائیٹ Yusheng 306 کو استعمال کیا گیا، جو زمین سے تقریباً 540 کلومیٹر کی بلندی پر قطبی مدار میں گردش کر رہا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق، اس تجربے کی سب سے خاص بات ایک مخصوص لچکدار روبوٹک بازو کا استعمال ہے۔ آکٹوپس کی ساخت سے مشابہ یہ بازو اسپرنگ نما ٹیوبز اور موٹرز پر مشتمل ہے، جو اسے انتہائی تنگ اور پیچیدہ جگہوں پر مڑنے اور مخصوص پورٹ سے جڑنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ ماہرین نے اس عمل کو خلا میں “سوئی میں دھاگا ڈالنے” سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ 27 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے کسی مخصوص پورٹ سے نہایت درستگی (Precision) کے ساتھ جڑنا ایک انتہائی حساس مرحلہ ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یوشینگ 306 نے کسی دوسرے سیٹلائیٹ کے ساتھ مکمل طور پر ڈوک (Dock) کیا یا نہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کا کامیاب مظاہرہ چین کی خلائی مہارت کا ثبوت ہے۔ اس سے قبل چین 36 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر Shijian 21 اور Shijian 25 کے درمیان بھی ایسا ہی تجربہ کر چکا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد خلا میں موجود مہنگے سیٹلائیٹس کی عمر میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ایندھن ختم ہونے کی صورت میں انہیں ناکارہ ہونے سے بچایا جا سکے۔