LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور ایتھوپیا کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ فیلڈ مارشل کی تجویز پر ایران چار ملکی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے: اسماعیل بقائی سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے شیخوپورہ: موٹروے پولیس کے 436 افسران کی 15ویں بنیادی پاسنگ آؤٹ پریڈ تین ملکی ٹورنامنٹ: انگلینڈ کیخلاف کامیابی پر محسن نقوی کی قومی ہیروز کو مبارکباد ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لئے منصوبے پر کام شروع سعودی عرب اور یونان کا محفوظ بحری راستوں، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

طبی میدان میں تاریخی انقلاب، سائنس کی نئی دریافت

Web Desk

4 February 2026

سائنسدانوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں ایک تاریخی سائنسی تجربہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے، جس میں انسانی اسٹیم سیلز کی مدد سے لیبارٹری میں خون کے خلیات تخلیق کیے گئے۔ تحقیق کے مطابق اس جدید تکنیک کے ذریعے انسانی ابتدائی نشوونما کے ان مراحل کی نقل ممکن ہوئی ہے جو عام طور پر حمل کے چوتھے اور پانچویں ہفتے میں ہوتے ہیں اور جن کا براہِ راست مشاہدہ نہایت مشکل ہوتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے اسٹیم سیلز سے تین مخصوص ڈھانچے تیار کیے جنہیں ہیماٹوئڈز کا نام دیا گیا۔ یہ ڈھانچے خود بخود منظم ہو کر تقریباً دو ہفتوں میں خون پیدا کرنے لگے۔ یہ ماڈل جنین کے اہم اجزاء جیسے پیلے تھیلے یا پلیسنٹا کے بغیر کام کرتا ہے، تاہم انسانی جسم میں خون اور دیگر بافتیں بنانے والے بنیادی خلیات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محققین کے مطابق آٹھویں دن تک ایسے خلیات نمودار ہوئے جن میں دل کے دھڑکنے جیسی خصوصیات دیکھی گئیں، جبکہ تیرہویں دن سرخ خون کے خلیات واضح طور پر سامنے آ گئے۔ پیدا ہونے والے ہیماٹوپائیٹک اسٹیم سیلز آگے چل کر آکسیجن لے جانے والے سرخ خلیات اور مدافعتی نظام کے سفید خلیات میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ جدید تکنیک خون کے امراض، خصوصاً لیوکیمیا، کی تحقیق اور علاج میں انقلابی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مستقبل میں ری جنریٹو میڈیسن کے شعبے میں بھی اس سے بڑی پیش رفت متوقع ہے، جہاں مریض کے اپنے خلیات سے خون یا اسٹیم سیلز تیار کر کے ٹرانسپلانٹ ممکن بنایا جا سکے گا۔