LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
الجزائر کا اماراتی طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا اعلان این سی سی آئی اے میں نفری کم، وفاقی پولیس کا 23 افسران بھجوانے کا فیصلہ روس کے سرحدی علاقے میں یوکرینی ڈرون حملہ، 2 افراد ہلاک، 7 زخمی روس کے یوکرین کے صنعتی شہر پاولو ہراد پر حملے، 7 افراد ہلاک، 76 زخمی سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے، عبدالعزیز الوصل جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام

طبی میدان میں تاریخی انقلاب، سائنس کی نئی دریافت

Web Desk

4 February 2026

سائنسدانوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں ایک تاریخی سائنسی تجربہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے، جس میں انسانی اسٹیم سیلز کی مدد سے لیبارٹری میں خون کے خلیات تخلیق کیے گئے۔ تحقیق کے مطابق اس جدید تکنیک کے ذریعے انسانی ابتدائی نشوونما کے ان مراحل کی نقل ممکن ہوئی ہے جو عام طور پر حمل کے چوتھے اور پانچویں ہفتے میں ہوتے ہیں اور جن کا براہِ راست مشاہدہ نہایت مشکل ہوتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے اسٹیم سیلز سے تین مخصوص ڈھانچے تیار کیے جنہیں ہیماٹوئڈز کا نام دیا گیا۔ یہ ڈھانچے خود بخود منظم ہو کر تقریباً دو ہفتوں میں خون پیدا کرنے لگے۔ یہ ماڈل جنین کے اہم اجزاء جیسے پیلے تھیلے یا پلیسنٹا کے بغیر کام کرتا ہے، تاہم انسانی جسم میں خون اور دیگر بافتیں بنانے والے بنیادی خلیات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محققین کے مطابق آٹھویں دن تک ایسے خلیات نمودار ہوئے جن میں دل کے دھڑکنے جیسی خصوصیات دیکھی گئیں، جبکہ تیرہویں دن سرخ خون کے خلیات واضح طور پر سامنے آ گئے۔ پیدا ہونے والے ہیماٹوپائیٹک اسٹیم سیلز آگے چل کر آکسیجن لے جانے والے سرخ خلیات اور مدافعتی نظام کے سفید خلیات میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ جدید تکنیک خون کے امراض، خصوصاً لیوکیمیا، کی تحقیق اور علاج میں انقلابی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مستقبل میں ری جنریٹو میڈیسن کے شعبے میں بھی اس سے بڑی پیش رفت متوقع ہے، جہاں مریض کے اپنے خلیات سے خون یا اسٹیم سیلز تیار کر کے ٹرانسپلانٹ ممکن بنایا جا سکے گا۔