LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کامن ویلتھ گیمز: ارشد ندیم نے جیولین تھرو کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم 4 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ جاری آزاد کشمیر اسمبلی میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور پاکستان امریکا اور ایران کو مفاہمتی یادداشت پر واپس لانے کیلئے سرگرم ہے: دفترِ خارجہ پنجاب میں دریاؤں کی صورتحال بہتر، مون سون بارشوں کا الرٹ جاری سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا لاہور ہائیکورٹ: جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھارتی ایئر لائنز کیلئے بڑا دھچکا نیویارک میں ’ٹیکس ورلڈ 2026ء‘ نمائش کا انعقاد، پاکستان کی بھرپور شرکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 3 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق جاپان: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی امریکا کے ایک بار پھر ایران پر حملے، درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

دل اور بلڈ پریشر کی ادویات کے وسیع استعمال سے متعلق اہم انکشاف!

Web Desk

9 July 2026

لندن: طبی دنیا سے ایک انتہائی اہم اور خوش آئند تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے وسیع اور باقاعدہ استعمال کی بدولت، اب درمیانی عمر کے موٹاپے کا شکار افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہو کر صحت مند وزن رکھنے والے عام افراد کے برابر پہنچ گیا ہے۔

عام طور پر طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ موٹاپا انسانی جسم میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں خطرناک حد تک اضافے کا سبب بنتا ہے، جس سے دل کی شریانوں کے امراض، ہارٹ اٹیک، فالج (سٹروک) اور ہارٹ فیل ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم، جدید ادویات نے اس مفروضے اور خطرے کو کافی حد تک بدل کر رکھ دیا ہے۔

برطانیہ کے مشہور تعلیمی و تحقیقی ادارے ‘امپیریل کالج لندن’ کے محققین نے اپنی حالیہ تحقیق میں پایا کہ 40 سال یا اس سے زائد عمر کے ایسے افراد جو موٹاپے کا شکار ہیں، لیکن وہ باقاعدگی کے ساتھ اسٹیٹنز (کولیسٹرول کم کرنے والی دوا) اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے والی ادویات کا استعمال کر رہے ہیں، ان میں کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی سطح بعض اوقات صحت مند وزن اور نارمل باڈی ماس انڈیکس ($BMI$) رکھنے والے افراد کے برابر یا ان سے بھی بہتر دیکھی گئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ دل کے امراض سے بچاؤ کی ادویات کی بڑے پیمانے پر دستیابی اور ان کا باقاعدہ استعمال پبلک ہیلتھ سیکٹر کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ آج کل وزن کم کرنے والی نئی جدید ادویات کی مقبولیت اپنی جگہ، لیکن ان روایتی حفاظتی ادویات کے کردار کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

امپیریل کالج لندن کے اسکول آف پبلک ہیلتھ سے تعلق رکھنے والے نامور پروفیسر ماجد عزتی نے اس مہم کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے اہم بریفنگ دی: “ترقی یافتہ اور جدید ممالک میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات کے باقاعدہ استعمال نے درمیانی اور زیادہ عمر کے افراد میں دل کی بیماریوں کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کر دیا ہے۔ یہ ادویات اتنی مؤثر ثابت ہو رہی ہیں کہ اب پُرخطر موٹاپے کے حامل افراد کا کارڈیو ویسکولر رسک (دل کا خطرہ) بھی ایک عام اور صحت مند بی ایم آئی ($BMI$) رکھنے والے شخص کے برابر آ چکا ہے۔”

طبی ماہرین کے مطابق، یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ اگرچہ وزن کم کرنا مثالی صحت کے لیے سب سے بہترین عمل ہے، تاہم جو لوگ موٹاپے سے نجات پانے کی جدوجہد کر رہے ہیں، وہ مناسب طبی مشورے اور ادویات کے باقاعدہ استعمال سے اپنی زندگی کو ہارٹ اٹیک جیسے جان لیوا حملوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔