دل اور بلڈ پریشر کی ادویات کے وسیع استعمال سے متعلق اہم انکشاف!
Web Desk
9 July 2026
لندن: طبی دنیا سے ایک انتہائی اہم اور خوش آئند تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے وسیع اور باقاعدہ استعمال کی بدولت، اب درمیانی عمر کے موٹاپے کا شکار افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہو کر صحت مند وزن رکھنے والے عام افراد کے برابر پہنچ گیا ہے۔
عام طور پر طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ موٹاپا انسانی جسم میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں خطرناک حد تک اضافے کا سبب بنتا ہے، جس سے دل کی شریانوں کے امراض، ہارٹ اٹیک، فالج (سٹروک) اور ہارٹ فیل ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم، جدید ادویات نے اس مفروضے اور خطرے کو کافی حد تک بدل کر رکھ دیا ہے۔
برطانیہ کے مشہور تعلیمی و تحقیقی ادارے ‘امپیریل کالج لندن’ کے محققین نے اپنی حالیہ تحقیق میں پایا کہ 40 سال یا اس سے زائد عمر کے ایسے افراد جو موٹاپے کا شکار ہیں، لیکن وہ باقاعدگی کے ساتھ اسٹیٹنز (کولیسٹرول کم کرنے والی دوا) اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے والی ادویات کا استعمال کر رہے ہیں، ان میں کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی سطح بعض اوقات صحت مند وزن اور نارمل باڈی ماس انڈیکس ($BMI$) رکھنے والے افراد کے برابر یا ان سے بھی بہتر دیکھی گئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ دل کے امراض سے بچاؤ کی ادویات کی بڑے پیمانے پر دستیابی اور ان کا باقاعدہ استعمال پبلک ہیلتھ سیکٹر کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ آج کل وزن کم کرنے والی نئی جدید ادویات کی مقبولیت اپنی جگہ، لیکن ان روایتی حفاظتی ادویات کے کردار کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
امپیریل کالج لندن کے اسکول آف پبلک ہیلتھ سے تعلق رکھنے والے نامور پروفیسر ماجد عزتی نے اس مہم کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے اہم بریفنگ دی: “ترقی یافتہ اور جدید ممالک میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات کے باقاعدہ استعمال نے درمیانی اور زیادہ عمر کے افراد میں دل کی بیماریوں کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کر دیا ہے۔ یہ ادویات اتنی مؤثر ثابت ہو رہی ہیں کہ اب پُرخطر موٹاپے کے حامل افراد کا کارڈیو ویسکولر رسک (دل کا خطرہ) بھی ایک عام اور صحت مند بی ایم آئی ($BMI$) رکھنے والے شخص کے برابر آ چکا ہے۔”
طبی ماہرین کے مطابق، یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ اگرچہ وزن کم کرنا مثالی صحت کے لیے سب سے بہترین عمل ہے، تاہم جو لوگ موٹاپے سے نجات پانے کی جدوجہد کر رہے ہیں، وہ مناسب طبی مشورے اور ادویات کے باقاعدہ استعمال سے اپنی زندگی کو ہارٹ اٹیک جیسے جان لیوا حملوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
تپِ دق کے خلاف نئی تجرباتی ویکسین تیار
9 July 2026
ادویات کی فراہمی کو خودکار بنانے والی روبوٹک فارمیسی متعارف
9 July 2026
مسوڑھوں سے خون آنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہو سکتا ہے؟
8 July 2026
شیگیلا کے خلاف نئی ویکسین کے حوصلہ افزا نتائج
8 July 2026
موٹاپے اور ذیابیطس کی نئی دوا آزمائش میں کامیاب
7 July 2026
مصنوعی مٹھاس سے متعلق سائنس دانوں کا تشویشناک انکشاف!
7 July 2026
آرتھرائٹس میں مبتلا ہزاروں افراد کس خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟
7 July 2026
کراچی میں ہلاکت خیز ‘نیگلریا’ کا رواں سال کا پہلا کیس رپورٹ؛ 44 سالہ مریض وینٹی لیٹر پر منتقل
7 July 2026