LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں لڑائی، 24 گھنٹوں میں 68 ہلاکتیں اسحاق ڈار سے ترک سفیر، برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقاتیں، علاقائی صورتحال پر مشاورت پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان کا سلسلہ برقرار وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے لاہور مال روڈ دھرنا 33 روز بعد ختم کر دیا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں: 17 دہشت گرد ہلاک، 9 جوان شہید، بھاری اسلحہ برآمد شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کیلئے مشعلِ راہ، لہو رائیگاں نہیں جائے گا: صدر، وزیراعظم امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو سزا سنا دی گئی

دل اور بلڈ پریشر کی ادویات کے وسیع استعمال سے متعلق اہم انکشاف!

Web Desk

9 July 2026

لندن: طبی دنیا سے ایک انتہائی اہم اور خوش آئند تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے وسیع اور باقاعدہ استعمال کی بدولت، اب درمیانی عمر کے موٹاپے کا شکار افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہو کر صحت مند وزن رکھنے والے عام افراد کے برابر پہنچ گیا ہے۔

عام طور پر طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ موٹاپا انسانی جسم میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں خطرناک حد تک اضافے کا سبب بنتا ہے، جس سے دل کی شریانوں کے امراض، ہارٹ اٹیک، فالج (سٹروک) اور ہارٹ فیل ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم، جدید ادویات نے اس مفروضے اور خطرے کو کافی حد تک بدل کر رکھ دیا ہے۔

برطانیہ کے مشہور تعلیمی و تحقیقی ادارے ‘امپیریل کالج لندن’ کے محققین نے اپنی حالیہ تحقیق میں پایا کہ 40 سال یا اس سے زائد عمر کے ایسے افراد جو موٹاپے کا شکار ہیں، لیکن وہ باقاعدگی کے ساتھ اسٹیٹنز (کولیسٹرول کم کرنے والی دوا) اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے والی ادویات کا استعمال کر رہے ہیں، ان میں کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی سطح بعض اوقات صحت مند وزن اور نارمل باڈی ماس انڈیکس ($BMI$) رکھنے والے افراد کے برابر یا ان سے بھی بہتر دیکھی گئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ دل کے امراض سے بچاؤ کی ادویات کی بڑے پیمانے پر دستیابی اور ان کا باقاعدہ استعمال پبلک ہیلتھ سیکٹر کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ آج کل وزن کم کرنے والی نئی جدید ادویات کی مقبولیت اپنی جگہ، لیکن ان روایتی حفاظتی ادویات کے کردار کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

امپیریل کالج لندن کے اسکول آف پبلک ہیلتھ سے تعلق رکھنے والے نامور پروفیسر ماجد عزتی نے اس مہم کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے اہم بریفنگ دی: “ترقی یافتہ اور جدید ممالک میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات کے باقاعدہ استعمال نے درمیانی اور زیادہ عمر کے افراد میں دل کی بیماریوں کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کر دیا ہے۔ یہ ادویات اتنی مؤثر ثابت ہو رہی ہیں کہ اب پُرخطر موٹاپے کے حامل افراد کا کارڈیو ویسکولر رسک (دل کا خطرہ) بھی ایک عام اور صحت مند بی ایم آئی ($BMI$) رکھنے والے شخص کے برابر آ چکا ہے۔”

طبی ماہرین کے مطابق، یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ اگرچہ وزن کم کرنا مثالی صحت کے لیے سب سے بہترین عمل ہے، تاہم جو لوگ موٹاپے سے نجات پانے کی جدوجہد کر رہے ہیں، وہ مناسب طبی مشورے اور ادویات کے باقاعدہ استعمال سے اپنی زندگی کو ہارٹ اٹیک جیسے جان لیوا حملوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔