LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس میں پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ماسکو پر بڑا ڈرون حملہ کوئی ریاست دوسری ریاست کیلئے خطرہ نہیں بن سکتی: قطری وزیراعظم شمالی کوریا کا تین گھنٹوں میں 2 بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ نئے صوبوں، صدارتی اور بلدیاتی نظام میں زیادہ دیر نہیں: چودھری جعفر اقبال اٹھارہویں ترمیم کے بعد چاروں صوبے 4 آزاد ریاستیں بن گئیں: مصطفیٰ کمال الخلیل میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینیوں پر حملہ، گاڑی نذر آتش جاسم البدیوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی جماعت اسلامی کے مارچ کی حمایت زیلنسکی اور ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ، نیویارک میں ملاقات پر اتفاق آبنائے ہرمز، باب المندب بند ہونے سے تیل مہنگا ہوا، مہنگائی سے پوری دنیا پریشان ہے: رانا ثناء اللہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھیں، عوام کی تکلیف کا احساس ہے: علی پرویز ملک 18ویں ترمیم کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں :خالد مقبول صدیقی سکیورٹی پہلے، ملک محفوظ ہوگا تو ترقی بھی ہو گی: سپیکر پنجاب اسمبلی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ میں بریک تھرو کا امکان پی ٹی آئی ایم پی اے کی فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی، مقدمہ درج: ذرائع

بینک آف پنجاب اور دی آفس آف اے آئی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

Web Desk

9 April 2026

حکومتِ پنجاب کے ڈیجیٹل وژن کے تحت ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بینک آف پنجاب اور آفس آف اے آئی (AI) کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ اس شراکت داری کی قیادت مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے مصنوعی ذہانت علی ڈار کر رہے ہیں۔ معاہدے کا بنیادی مقصد پنجاب کو 2029 تک جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا اے آئی سے فعال صوبہ بنانا ہے، جس کے لیے نواز شریف آئی ٹی سٹی میں پنجاب اے آئی ڈیٹا سینٹر اور فنانشل ڈیٹا ویئر ہاؤس قائم کیا جائے گا۔

اس منصوبے کے تحت کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے مصنوعی ذہانت کی مدد سے جدید قرضہ سہولیات متعارف کروائی جائیں گی، تاکہ مالی خدمات عام آدمی کی پہنچ میں ہوں۔ علی ڈار کے مطابق، اس اقدام سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور نوجوانوں کے لیے عالمی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے نئے راستے کھلیں گے۔ یہ شراکت داری نہ صرف صوبے کی معیشت کو مستحکم کرے گی بلکہ جدید ترین ڈیٹا سسٹم کے ذریعے عوامی خدمات میں بھی انقلاب لائے گی۔