LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور توہینِ عدالت کیس کی سماعت، پارٹی سے موقف طلب

آسٹریلیا میں قیامت خیز منظر، طوفان کے بعد آسمان خون کی طرح سرخ ہوگیا

Web Desk

30 March 2026

مغربی آسٹریلیا کے ساحلی علاقے شارک بے میں ایک غیر معمولی موسمیاتی واقعے نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ طاقتور سائیکلون ‘ناریلے’ کے زیرِ اثر چلنے والی تند و تیز ہواؤں نے زمین سے ٹنوں کے حساب سے سرخ مٹی اور آئرن آکسائیڈ (Iron Oxide) کے ذرات کو فضا میں بلند کر دیا، جس کے نتیجے میں چند ہی لمحوں میں نیلا آسمان گہرے سرخ اور نارنجی رنگ میں تبدیل ہو گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گرد کے بادل اس قدر گھنے تھے کہ انہوں نے سورج کی روشنی کو مکمل طور پر بلاک کر دیا، جس سے دن کے وقت بھی رات کا گمان ہونے لگا۔ مقامی لوگوں کے مطابق، مٹی کے ان بادلوں نے حدِ نگاہ کو صفر کر دیا اور فضا میں آئرن آکسائیڈ کی موجودگی کی وجہ سے کئی لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ ایک نایاب مظہر ہے جو اس وقت پیش آتا ہے جب طوفان کی رفتار اتنی زیادہ ہو کہ وہ زمین کی اوپری سطح سے مخصوص معدنیات (Minerals) کو فضا میں ایک خاص بلندی تک لے جائے، جہاں روشنی کے انعطاف (Refraction) کی وجہ سے آسمان کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور ماسک استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔